تفتیش سے کچھ دیر پہلے ہی مشال خان کو قتل کردیا گیا اور اسے صفائی کا بھی موقع نہیں ملا:آئی جی خیبر پختونخواہ

تفتیش سے کچھ دیر پہلے ہی مشال خان کو قتل کردیا گیا اور اسے صفائی کا بھی موقع ...
 تفتیش سے کچھ دیر پہلے ہی مشال خان کو قتل کردیا گیا اور اسے صفائی کا بھی موقع نہیں ملا:آئی جی خیبر پختونخواہ

  


پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی جی خیبر پختونخواہ صلاح الدین محسود نے کہا ہے کہ مشال قتل کیس پر پولیس حکام بہت تیزی کے ساتھ کام کر رہے ہیں ،مشال ،عبداللہ اور عبید پر جو الزامات لگائے گئے تھے ،ان کی روشنی میں ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر تفتیش یا عدالتی کارروائی ہو سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور چند افراد کی جانب سے مشال خان اور ان کے 2 ساتھیوں کے خلاف اطلاع ملی تھی کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ ادا کئے ہیں جس پر کارروائی کے لئے دوسرے روز ٹیم تشکیل دی گئی اور یونیورسٹی روانہ کردیا گیا تاہم تفتیش سے کچھ دیر پہلے ہی مشال خان کو قتل کردیا گیا اور اسے صفائی کا بھی موقع نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشال خان کے 2 دوستوں نے بیان ریکارڈ کرایا ہے اور انہوں نے اپنی اور مشال کی بے گناہی کا حلف دیا ہے جب کہ مشال خان کے قتل سے قبل بھی سوشل میڈیا پر کوئی بھی متنازعہ مواد موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا مشال کیس میں پولیس کو بلوہ شروع ہونے کے بعد اطلاع ملی ،اگر پہلے بتا دیا جاتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا ،جب پولیس موقع پر پہنچی تو مشال کی لاش پڑی ہوئی تھی جبکہ مشتعل طالب علم عبد اللہ نامی نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے کہ اسی دوران ڈی ایس پی نے موقع پر پہنچ کر عبد اللہ کی جان بچائی اور اسے ہسپتال منتقل کیا ۔

انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے نصاب سے نفرت کا زہر نکالنا ہوگا، والدمشال

مشال قتل کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخواہ نے کہا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشتعل طالبہ کے خلاف لاٹھی چارج کر کے 59طلبہ کو گرفتار کیا جن میں سے اکثر طلبہ کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے یونیورسٹی پہنچ کر تمام طلبہ کی تلاشی لی اور ان کی گاڑیاں بھی چیک کیں ۔انہوں نے بتا یا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر پولیس نے ایف آئی آر میں 20افراد کو نامزد کیا جن میں سے 16ملزمان گرفتا ہو چکے ہیں ،مزید تفتیش کے دوران 11دیگر ملزمان کی شناخت کی گئی جن میں سے 6کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،گزشتہ تین دنوں میں مردان پولیس کی جے آئی ٹی نے 22ملزمان کو گرفتار کیا ۔انہوں نے کہا کہ پولیس سائنسی خطوط پر تفتیش کر رہی ہے ،تفتیش کاروں کو قتل کے وقوعے سے پہلے سوشل میڈ یا پر کچھ نہیں مل رہا تھا لیکن قتل کے بعد سوشل میڈ یا پر ایکٹویٹی شروع ہو گئی ،اس کے لیے ایف آئی اے سے مدد مانگ لی ہے ۔آئی جی خیبر پختونخواہ نے بتا یا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا گمان تھا کہ دونوں لڑکے یونیورسٹی آئے ہی نہیں البتہ مشال خان ہاسٹل میں پائے گئے ۔

مزید : حیدرآباد /اہم خبریں