قانون اب قوم کے ہاتھ میں

قانون اب قوم کے ہاتھ میں
قانون اب قوم کے ہاتھ میں

  


عبد الولی یونیورسٹی کا افسوناک واقعہ ہمارے مُلک کے حُکمرانوں اور سیاسی لیڈروں کے لئے چشم کُشا ہونا چاہئیے۔ یہ واقعہ نیا نہیں ہے۔ ا،س سے پہلے بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ جہاں اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو توہیں رسالت کے شُبے میں زندہ جلا دیا گیا۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت کو ہمت سے کام لیتے ہوئے کڑے انتظامات کرنا ہوں گے۔بغیر ثبوت کے ہجوم کا کسی بھی شخص کو سرِ عام قتل کر دینا اِس بات کی دلیل ہے کہ مُلک میں کوئی قانون نہیں۔ہجوم کے پاس کونسے اثبات تھے جس کی بُنیاد پر فرض کر لیا گیا کہ مشال خان نے گُستاخی رُسولﷺ جیسے جُرم کا ارتکاب کیا ہے؟

ہمارے مُلک کی سَب سے بڑی مُشکل یہ ہے کہ قانون شکنی کرکے خُوشی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے موقع ڈھونڈتے ہیں جن سے ہم چشمِ زدن میں لیڈر بن جائیں۔کون سا ایسا مذہب ہے جو بغیرکسی ثبوت کے ہم کو کسی بھی شخص کی جان لینے کی اجازت دیتا ہے؟ افسوس ہے ا یسے علماء پر جو سادہ لوگوں کو گُمراہ کرکے قتل جیسے جرائم کا ارتکاب کرواتے ہیں۔ہجوم کو مشتعل کروانے میں نا مکمل اور اد ھُور ی تعلیم کا ہا تھ ہے۔ جس کا مطلب ایسی کھیپ کو تیار کرنا ہے جو مولویوں کی تعلیم سے متاثر ہو کر اپنا گھر بار چھوڑ دیں۔ اور حوروں کے لالچ میں خُودکش بمبار بن جائیں۔ یا مو لوی حضرات کے کہنے پر کسی بھی شخص یا ادارے کو بم سے اُڑا دیں۔ بڑی معذرت کے ساتھ یہ سطور لکھی جا رہی ہیں کہ جو تعلیم خود کُش بمباروں کو دی جاتی ہے ، وُہ تعلیم اپنے بیٹوں کو کیوں نہیں دیتے؟ ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ کسی مو لوی نے اپنے بیٹے کو جہاد پر بھیجا ہو۔ آخر کیوں؟ برین واشنگ کے لئے دوسرے لوگوں کی اولاد کو کیوں نشانہ بنایا جاتاہے؟ کیوں مولو یوں کی اولاد جہاد کے فضائل سے فائدہ نہیں اٹھانا چا ہتی؟

حکومت کو ایسے لیڈروں کو نکیل ڈالنی ہو گی جو ا پنے مذموم مقا صد کے لئے ایسی تعلیم دیتے ہیں جس سے معاشرے میں عدم برداشت کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔ مشال خان کے والد کے بیان کے مُطابق اُن کا بیٹا راسخ العقیدہ مُسلمان تھا۔ اُس کو گہری سازش کے تحت اِس بھُونڈے اور سفاکانہ انداز میں قتل کروایا گیا ہے کہ ہر ذی رُوح اُسکے قتل کی ویڈیو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے۔ گُستاخی رسولﷺ جیسے سنگیں جُرم کا الزام لگا کر ہجوم نے خُود ہی مشال خان کو مجرم قرار دے کر اُسکو سزاء کا مستحق قرار دے دیا۔اِس سے بڑی لا قانونیت کیا ہوگی؟ مقتول کی ماں نے اپنے بیان میں کہا ہے ’’ میں سید خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں اپنے بیٹے کا قتل معاف کرنے کی طاقت رکھتی ہوُں۔ مگر ایسا کرنے سے ہم لا قانونیت کو بڑھاوا دیں گے۔ میں نہیں چاہتی کہ جو واقعہ ہو چُکا ہے وُہ کسی بھی ماں کے ساتھ پیش آئے۔ لہذا میں حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ اِس کیس کی تفتیش فوجی عدالت کے سپُرد کی جائے۔ میرے بیٹے کو قتل کرنے میں یوینورسٹی کی انتظامیہ کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ میرا بیٹا انتظامیہ کی خامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتا تھا۔یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اُس کو چُپ کروانے کے کئی جتن کئے تھے۔ لیکن وُہ اپنا احتجاج جاری رکھتا تھا۔ جس سے انتظامیہ پریشان تھی ۔ اُسکا مُنہ بند کروانے کے لئے آ خر کار انہوں نے یہ طریقہ ڈھونڈا کہ اُس پر گستاخی رسول کا گھناونا الزام لگا کر ہجوم کے ذر یعے قتل کروا دیا ۔ کیونکہ اتنے بڑے ہجوم پر مقدمہ چلانا کسی بھی حکومت اور عدالت کے لئے ممکن نہیں‘‘

مُلک کے وزیر اعظم جناب نواز شریف نے بھر پور انداز میں اِس واقعہ کی مذمت کی ہے اور مُلزموں کو کڑی سے کڑی سزاء د ینے کو کہا ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ، اور پولیس سے اِس واقعہ کی مکمل تفتیش کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ جبکہ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ مشال خان کے قتل کی ویڈیو دیکھ کر اُنکو ذہنی اور قلبی تکلیف ہوئی۔ اِس واقعہ سے پاکستان کے بارے میں دُنیا کے دوسرے ممالک کو کوئی ا چھا تا ثر نہیں گیا۔ اِس واقعہ سے ہمارے مُلک کی بد نامی ہوئی ہے۔ اسلام کو بد نام کیا گیا ہے۔ اِس واقعہ سے طالب علموں کے دلوں میں عدم حفاظت کا احسا س جا گا ہے۔ اِس بہیمانہ قتل سے یونیورسٹی کی ریپوٹیشن پر منفی اثر پڑیگا۔ والدین اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں تعلیم کے لئے بھیجنے سے گریز کریں گے۔ حکومت کسی بھی گروہ یا یامذہبی فرقے کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اِس وقعہ میں ملوث افراد کو بِلا کسی لحاظ کے گرفتار کرکے اُن پر قتل کا مقدمہ دائر کیا جائے۔ انکوائیر ی کمشن کو قایم کرنے کا بھی جائیزہ لیا جائیگا۔ لیکن میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مُلزموں کے ساتھ کوئی رو رعائت نہیں بھرتی جائے گی۔ بلکہ اُن کو ایسی سزائیں دی جائیں گی جس سے دوسرے لوگوں کو عبر ت حاصل ہو۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا بذات خود ایک جُرم ہے اور بِلا کسی ثبوت کے کیس کو قتل کرنا ایک سنگین جُرم ہے۔ لہذا کسی فرد، گروہ یا ہجوم کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وُہ قانوں کو اپنے ہاتھ میں لے اور نظریات کے مُطابق کسی بھی شہری کی زندگی کا فیصلہ کرے۔مُلک کے قا نُون کا اطلاق ہر ایک شہری پر ہوتا ہے۔ خواہ اُسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ حکومت کی ذمہ دای ہے کہ وُہ سب کو تحفظ فراہم کرے۔ حکومت اپنی یہ اہم ذ مہ داری ہر صورت نبھائے گی۔ وزیر داخلہ کا بیان دِل بہلانے کے لئے عمدہ ہے۔ لال مسجد کی انتظامیہ کے بارے اُن کا کیا خیال ہے؟ کیا وُہ حکومت کی تعلیمات کے مطابق اپنے ادارے چلا رہے ہیں؟ اُن کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ لوگ جانے کے لئے بیتاب ہیں۔

حکومت کو پہلی فُر صت میں گستاخی رسولﷺ جیسے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے جلد از جلد سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں کمشن قایم کرنا چاہئے جو مسئلہ کے حل کے لئے اپنی سفارشارت نہ صرف پیش کرے بلکہ اُنکو لاگو بھی کروانے کے اختیارات رکھتا ہو۔ ورنہ عوام کی طر ف سے یہ سمجھا جائیگا کہ عوام کے جذبات سے کھیلنے کے لئے ایسے بیانات دئے گئے ہیں۔ جن کا مقصد وقت گُزاری کے علاوہ کُچھ نہیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ