فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 62

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 62
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 62

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

1953ء میں جب کہ فلم ساز اور ہدایت کار کے طور پر انور کمال پاشا کا طوطی بول رہا تھا، ایک اور دھماکا خیز شخصیت نے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ ایم اے خان سینئر تھے جنہیں بڑے خاں صاحب بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی ایم ا ے خان جونئیر تھے۔ وہ بھی پاکستان‘ مشرقی پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش میں فلم سازی کے شعبے سے منسلک رہے۔ بڑے دلچسپ اور مخلص آدمی تھے۔ ان کے بڑے بھائی ایم اے خاں سینئر کو جب فلم ’’سسی‘‘ بنانے کا فرض سونپا گیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ ’’سسی‘‘ کو ایک انتہائی کامیاب اور یاد گار فلم بنا دیں گے۔ ایم اے خاں کا تعلق ڈیرہ دون سے تھا۔ گہرا سانولا رنگ‘ لمبا قد، پر وقار سراپا‘ ان کی آواز سننے والوں کو متاثر کر دیا کرتی تھی۔ بہت مرعوب کن شخصیت کے مالک تھے۔ انگلستان بھی ہو آئے تھے۔ ’’سسی‘‘ دراصل جگدیش چندر آنند کی فلم تھی۔ جس میں چوہدری عید محمد بھی شریک تھے۔

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 61 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
انہوں نے اس فلم بندی کا فریضہ بڑے ایم اے خاں کو سونپ دیا تھا۔ خاں صاحب بہت اچھی انگریزی بولتے تھے۔ بلکہ اکثر انگریزی ہی بولتے تھے۔ اردو اور پنجابی بھی بڑی روانی سے بولا کرتے تھے۔
ایم اے خاں نے زندگی کا آغاز ایک سنیما آپریٹر کی حیثیت سے کیا تھا‘ بعد میں مشینوں کے ماہربن گئے۔ انگریزی انہوں نے اپنی کوششوں سے سیکھی تھی۔ انگلستان گئے تو انگریزوں سے وقت کی پابندی اور منصوبہ بندی سیکھ کر آئے۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت ترقی کی تھی۔ وہ لاہور میں چوہدری عید محمد کے ادارے ایور گرین پکچرز کے جنرل منیجر تھے جب فلم ’’سسی‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
’’سسی‘‘ بنانے کا پس منظر یہ تھا کہ اس سے پہلے پاکستان کے فلم تقسیم کارپاکستان میں فلم بنانے سے متفق نہ تھے مگر جب بھارتی فلموں کی درآمد کے خلاف تحریک زور پکڑ گئی تو انہوں نے بھی اپنے خیالات پر نظر ثانی کی اور اس طرح پاکستان کے چیدہ چیدہ فلم تقسیم کار وں نے فلم سازی کا آغاز کر دیا۔
ایم اے خان سے ہماری ملاقات ان کے شاندار دفتر میں ہوئی تو ہم ان کی ان تھک مصروفیات اور صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوئے۔وہ مسلسل مختلف کام کرتے تھے اور سگریٹ سے سگریٹ سلگاتے رہتے تھے۔ ان کے دفتر پر کسی انگریزی دفتر کا گمان گزرتا تھا۔وہ یوں تو رعب داب والے آدمی تھے مگر جس سے بے تکلف ہو جاتے تھے اس کے ساتھ لطیفہ بازی بھی شروع کر دیتے تھے۔ ان کے لطیفے اکثر انگریزی میں ہوا کرتے تھے۔ وہ پہلیاں بھی بوجھنے کو دیا کرتے تھے اور عام طور پرخود ہی پہلی پہیلی بوجھتے تھے۔وہ خوش لباس انسان تھے ہر کام کو بہت تفصیل کے ساتھ مقررہ وقت پر کرنے کے عادی تھے۔ ’’سسی‘‘ کی تخلیق میں ان کی صلاحیتوں کا بہت دخل تھا۔انہیں کھیلوں سے بھی دلچسپی تھی۔ خصوصاً کرکٹ کے وہ دلدادہ تھے۔ انہوں نے کراچی میں امدادی کاموں کے سلسلے میں فلم اسٹار کرکٹ میچ بھی کرائے تھے۔ لاہور سے فلمی ستاروں کی ٹرین بھر کر کراچی جاتی تھی اور وہاں خوب رونق اور گہما گہمی ہو جاتی تھی۔
انہوں نے پہلی بار ہمیں اشتہاروں کے لیے خوبصورت سرخیاں بنانے کے لیے بلایا تھا۔ ہم صحافی تھے۔ ان کے دفتر کے اسٹینو نسیم الثقلین صاحب بھی ہمارے ملاقاتی تھے۔ وہ بھی بہت باصلاحیت اور ذہین آدمی تھے اوربعد میں ترقی کر کے لاہور آفس کے کرتا دھرتا بن گئے تھے۔ افسوس کہ اب ایم اے خان اور نسیم الثقلین دونوں ہی دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ نسیم صاحب نے ہم سے فرمائش کر کے بعض فلمی اشتہاروں کے لیے مضمون بنوائے تھے۔یہ ایم اے خان کو اتنے پسند آئے کہ ہم سے ملنے کی فرمائش کر دی۔ یہ ان سے ہمارے طویل تعلقات کا آغاز تھا۔
فلم ’’ سسی ‘‘ کئی اعتبار سے پاکستان کی یادگار فلم تھی جس نے حالات کا رخ بدل دیا۔ مثلاً جس زمانے میں پچاس ساٹھ ہزار میں فلم بنا کرتی تھی اس فلم پر ساڑھے تین لاکھ لاگت آئی تھی۔ اس فلم میں بہت بڑے بڑے شاندار سیٹ لگائے گئے تھے۔ اس کی آؤٹ ڈور فلم بندی سوات کے دشوار گزار مقامات پر کی گئی تھی جہاں شام ڈھلتے ہی خونخوار ریچھوں کا قبضہ ہو جاتا تھا۔ لاہور کے نزدیک ایک جگہ مصنوعی جھیل بنا کر وہاں دھوبی گھاٹ کا سیٹ بنایا گیا تھا۔اس علاقے میں بدمعاشوں اور ڈاکوؤں کا راج تھا۔ جب ایم اے خان نے پولیس سے تحفظ مانگا تو پولیس والوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہاں تو خطرناک ڈاکوؤں کا راج ہے۔ آپ آئی جی پولیس سے خود ہی بات کر لیں۔ خان صاحب نے آئی جی پولیس کے بجائے علاقے کے تین بدنام ترین ڈاکوؤں کو مدعو کر لیا اور انہیں بتایا کہ ہماری آٹھ دس دن شوٹنگ ہو گی۔ اداکار اور یونٹ کے لوگ یہاں رہیں گے۔ آپ ان کی حفاظت کا ٹھیکہ کر لیجئے۔
ڈاکو یہ سن کر بہت حیران ہوئے۔ پہلے تو سمجھے کہ شاید ان سے مذاق کیا جارہا ہے۔ خان صاحب نے انہیں سمجھایا کہ آپ لوگوں سے زیادہ اس کام کے لئے اور کوئی موزوں نہیں ہے۔ وہ خان کے جذبے سے اتنے متاثر ہوئے کہ کسی معاوضے کے بغیر یہ فرض ادا کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اور کہا کہ آپ بے فکر رہیے۔ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی فلم یونٹ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ بلکہ انہوں نے کئی بار ضرورت کی چیزیں بھی مہیا کر دیں اور کوئی معاوضہ وصول نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جناب آپ ہمارے مہمان ہیں۔ آپ نے ہم پر بھروسا کیا ہے۔ آپ کے لئے تو ہماری جان بھی حاضر ہے۔ اس طرح خان صاحب نے وہ مقولہ صحیح ثابت کر دیا کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔
ایم اے خان کا بہت سے لوگوں نے مذاق اڑایا کہ یہ شخص اتنا روپیہ صرف کر رہا ہے۔ وصول کیسے ہو گا؟ مگر ایم اے خان یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اگر فلم ڈھنگ سے بنائی جائے تو بہت زیادہ منافع بھی کما سکتی ہے۔ اور انہوں نے ’’سسی‘‘ کے سپر ہٹ ہونے کے بعد یہ ثابت کر دیا۔ ’’سسی‘‘ نے مغربی اور مشرقی پاکستان میں تیس چالیس لاکھ روپے کا منافع کمایا تھا۔ جو اس زمانے میں خواب خیال ہی سمجھا جاتا تھا‘ مشرقی پاکستان کے چھوٹے چھوٹے دیہات میں بھی ’’سسی‘‘ کی دھوم مچ گئی تھی۔
ایم اے خان انگریز قسم کے آدمی تھے۔ وقت کی گھڑی کے مانند پابندی کرتے تھے۔ سب سے پہلے شوٹنگ پر پہنچتے تھے۔ ایک بار فلم کی ہیروئن صبیحہ خان بیس منٹ لیٹ ہوگئیں تو خان صاحب نے شوٹنگ پیک اپ کرا دی اور صبیحہ کی جگہ دوسری ہیروئن لینے کا فیصلہ کر لیا۔ بہت سے لوگوں نے درمیان میں پڑ کر یہ مسئلہ حل کرایا۔ اس دوران میں فلم کی شوٹنگ ایک مہینے تک رکی رہی۔ خدا خدا کر کے صلح و صفائی ہوئی تو فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوا۔ ایک بار فلم کے ہدایت کار داؤد چاند پانچ منٹ لیٹ ہو گئے تو خان صاحب نے انہیں گھڑی دکھا دی۔ داؤد چاند بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے جگدیش چندر آنند سے کہا کہ اگلی فلم بھی اگر ایم اے خان بنائیں گے تو وہ ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔
’’سسی‘‘ تو جیسے تیسے مکمل ہو گئی اور ہٹ ہوگئی مگراگلی فلم ’’سوہنی‘‘ کے لئے ایم جے رانا کو ہدایت کار منتخب کیا گیا جو داؤد چاند کے اسسٹنٹ تھے۔ ’’سوہنی‘‘ کے لئے منشی دل بھی ہدایت کاری کے امیدوار تھے مگر انہوں نے بھی یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ یا تو خان صاحب رہیں گے یا پھر میں رہوں گا۔ ظاہر ہے کہ خان کا طوطی بول رہا تھا اس لئے‘ ان کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح ایم جے رانا کے نام قرعہ فال پڑا۔(جاری ہے)

قسط نمبر 63 پڑحنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)