مردان کی یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام میں نوجوان کا قتل ’مقامی امام مسجد نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیاتو شیریں یار یوسفزئی بندوق نکال کرآگیا اور کہاکہ۔۔۔‘سینئر صحافی کا ایساانکشاف کہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہیں رہے گی

مردان کی یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام میں نوجوان کا قتل ’مقامی امام ...
مردان کی یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام میں نوجوان کا قتل ’مقامی امام مسجد نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیاتو شیریں یار یوسفزئی بندوق نکال کرآگیا اور کہاکہ۔۔۔‘سینئر صحافی کا ایساانکشاف کہ جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہیں رہے گی

  


مردان (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی رﺅف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ مقامی امام مسجد کی جانب سے مشال کے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کے بعد صوابی کا رہائشی بندوق لیکر مقتول کے گاﺅں پہنچ گیا اور کہا کہ مشال کی نماز جنازہ ہرصورت ادا کی جائے گی ۔

اپنے ٹویٹ میں رﺅف کلاسرا نے کہا کہ صوابی کے رہائشی شیریں یار یوسف زئی نے جب یہ سنا کہ امام مسجد نے لوگوں کو مشال کا نماز جنازہ ادا نہ کرنے اور اظہار تعزیت نہ کرنے کی تلقین کی ہے تو اس نے مشال خان کے گاﺅں کا رخ کر لیا ۔

شیریں یار یوسف زئی نے وہاں پہنچ کر اپنی بندو ق نکالی اور اعلان کیا کہ مشال کی نماز جنازہ ہر قیمت پر ادا کی جائے گی اور کوئی اسے نہیں روک سکتا ۔

رﺅ ف کلاسرا کے مطابق نوجوان کی اس جرات اور بہادری نے لوگوں کی اس قدر حوصلہ افزائی کی کہ آج ہزاروں لوگوں نے مشال خان کے گاﺅں میں احتجاج کیا اور اس کے بے گناہ ہونے کے نعرے بلند کیے ۔

یاد رہے مشال خان کے قتل کے بعد جب اس کی میت گاﺅں پہنچی تھی تو مقامی امام مسجد نے انکی نماز جنازہ اداپڑھانے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد نماز جنازہ کیلئے آئے لوگوں میں موجود ایک ٹیکنیشن کو نماز جنازہ ادا کرنے کا کہا گیا تھا جس کے بعد مشال خان کی تدفین کی گئی تھی ۔

مزید : مردان