”میں مشال خان کا استاد کے ساتھ دوست بھی تھا،جب لائٹ آف ہوتی تھی تو میں مشال کے پاس ہاسٹل کے کمرے میں جایا کرتا تھا اور وہ ۔۔۔“ مشال خان کے استاد اور تمام تر واقعے کے عینی شاہد لیکچرار نے آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا

”میں مشال خان کا استاد کے ساتھ دوست بھی تھا،جب لائٹ آف ہوتی تھی تو میں مشال ...
”میں مشال خان کا استاد کے ساتھ دوست بھی تھا،جب لائٹ آف ہوتی تھی تو میں مشال کے پاس ہاسٹل کے کمرے میں جایا کرتا تھا اور وہ ۔۔۔“ مشال خان کے استاد اور تمام تر واقعے کے عینی شاہد لیکچرار نے آنکھوں دیکھا حال بیان کر دیا

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )مشال خان کے ٹیچر ضیااللہ ہمدردنے کہاہے کہ مشال خان کے دوست عبداللہ نے جو بات کی ہے وہ درست ہے ،انہوں نے کہا میں فیکلٹی ہاسٹل میں تھا کہ مجھے خاتون ٹیچر نے ٹیلیفون کر کے اطلاع دی کہ لڑکوں کا ایک ہجوم ڈپارٹمنٹ کے باہر جمع ہے اور وہ عبداللہ اور مشال کیخلاف شکایت کر رہے ہیں ،میں پانچ منٹ میں ہاسٹل سے ڈپارٹمنٹ پہنچ گیا اور دیکھا کہ 20کے قریب لڑکے کھڑے تھے جبکہ میڈیم اندر بیٹھی تھیں ۔میں نے مشتعل ہجوم کوکہاکہ آئیں بات کریں، 7سے8طالبعلم بات کرنے آئے اور اسی دوران مجھے مشال کے دو میسج آئے جس میں اس کا کہناتھا کہ یہ سب کچھ سیاسی طور پر کیا جارہاہے،میں نے مشال کے میسج کا جواب ’اوکے ‘دے دیا۔

ضیااللہ ہمدرد کا کہناتھاکہ وہ مشال خان کے ٹیچر تھے اور اسے بہت قریب سے جانتے تھے ،اکثر جب فیکلٹی ہاسٹل کی لائٹ بند ہو جاتی تھی تو میں مشال خان کو ٹیلیفون کرکے اسے کے ہاسٹل چلا جاتا تھا اور ہم دونوں کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے جبکہ مشال خان کے ہاتھ میں ہر وقت کتاب ہوتی تھی ،وہ انتہائی اچھا طلب علم تھا میں نے اسے ایک بار بھی کوئی قابل اعتراض بات کرتے نہیں سنا تھا ۔

لیکچرار کا کہناتھا کہ مجھے ان طالب علموں نے شکایت کی کہ عبداللہ اورمشال مذہب کیخلاف سوشل میڈیا پر بات کرتے ہیں ،میں نے طلبا سے کہا کہ کیا ثبوت ہے؟ طلبا نے جواب دیا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔اس کے بعد ہم نے مشال کو فون کر کے کہا کہ وہ اگر ہاسٹل میں ہے تو فوری طور پر وہاں سے نکل جائے جس پر اس نے کہا کہ وہ ہاسٹل میں نہیں ہے وہ وہاں سے نکل آیا ہے ۔طلباءکسی کو سننے کیلئے تیار نہیں تھے ،مجھے اور ڈی ایس پی کو دھکے دیئے گئے ۔وہ پندرہ بیس طلبا کسی اورڈپارٹمنٹ کے تھے۔

ضیااللہ ہمدرد کا کہناتھا کہ مشال کے خلاف افواہ پوری یونیورسٹی میں پھیل چکی تھی،طلبانے میرا موبائل چھین لیا،طلبا نے میری الماریاں توڑیں،مجھے کہا گیا کہ آپ بھی کلمہ پڑھ لیں،ڈی ایس پی صاحب کے ڈرائیورکیساتھ میں نکل گیا۔انہو ںنے کہا کہ ڈاکٹرسعید اسلام نے بتایا کہ مشال کوشہید کر دیا گیاہے۔

ان کا کہناتھا کہ مشال کوکوئی موقع نہیں دیا گیا اوراس کوسزا دی گئی،یونیورسٹی کے پروفیسرزپربھی افسوس ہوتا ہے،بے حس ہیں،میں 4دنوں سے سونہیں پایا،پروفیسرزاوریونیورسٹی کی انتظامیہ کا یہ حال ہے توباقی کا کیا حال ہوگا۔انہو ںنے کہا کہ وہ مشال کے والدین سے معافی مانگتے ہیں کہ وہ ان کے بیٹے کو بچا نہیں پائے ،مشال خان طلباءکے حق میں بات کرتا تھا جبکہ وہ چیئرمین صاحب سے بھی طلباءکے حق کیلئے لڑتا تھا۔آخر میں انہو ںنے اپنی گفتگو کے دوران یونیورسٹی سے ٹیچنگ کے شعبے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا ۔

مزید : مردان