فرض نبھاؤ ملک بچاؤ

فرض نبھاؤ ملک بچاؤ
فرض نبھاؤ ملک بچاؤ

ہم بچپن سے اپنے وطن کے نظام اور اس نظام کے اندر اپنے عوام کی مشکلات اور مسائل کا رونا سنتے اور خود روتے آرہے ہیں تاہم آج تک کسی طرف سے بہتری کی کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی نہ ہوتی نظر آ رہی ہے لوگ عام طور پر اپنی منتخب کردہ حکومتوں کے ہی گلے شکوے کرتے رہے ہیں کہ حکومت نے یہ نہیں کیا وہ نہیں کیا ہے ، حکومتی نظام درست نہیں، حکومت عوام کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی، عوام کو انصاف نہیں ملتا، عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں تمام محکمہ جات میں رشوت اور سفارش کی لت پڑ گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام باتیں سو فیصد درست بھی ہیں اور میں جب کسی مزدور کو سڑک پر یا کسی بلڈنگ میں کام کرتے پسینے میں شرابور دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس کو ایک دن کی جو مزدوری ملتی ہے اس سے ایک کلو گوشت نہیں خرید سکتا۔ ان مزدوروں کے دن کب پھریں گے۔؟

ان تمام خرابیوں میں بلاشبہ ہمارے سیاستدانوں، سول و فوجی بیوروکریسی، عدلیہ اور مقننہ کا ہاتھ ہے، ہمارے مذہبی راہنماؤں کا کردار ہے۔ لیکن ہم نے کبھی اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ ان تمام خرابیوں میں خود ہمارا کتنا حصہ ہے میں تحریر کی طوالت سے بچنے کے لیے چیدہ چیدہ چیزوں کی نشاندہی کروں گا ویسے بھی ہم سب واقف حال ہیں۔

جی ہاں۔ ہم عوام بھی خرابیوں میں برابر کے شریک ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ذاتی مفادات کو ہر جگہ ترجیح دیتے ہیں، خود کسی بھی سطح یا جگہ پر انصاف نہیں کرتے اور جج صاحبان سے انصاف کا تقاضا کرتے ہیں ، خود کو جہاں موقع ملے بدعنوانی کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتے اور سرکاری محکموں کی کرپشن کے گلے شکوے اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں، کسی بھی جگہ معمولی معمولی بات پر جھگڑا کرنے پر تل جاتے ہیں، جھوٹے مقدمات کرنا تو غلط سمجھتے ہی نہیں اور ہر کیس میں جھوٹ کو فرض سمجھتے ہیں۔

سچی گواہی سے اجتناب برتنا اور مطلب کے لیے جھوٹی گواہی دینا عام سی بات ہے، عوامی مقامات پر اپنے حصے کی صفائی کی بجائے اپنے حصے کا گند ڈالنا فرض سمجھتے ہیں، ٹریفک کے اندر سنگین غلطیاں کرتے ہوئے انسانی جانوں اور املاک کا ضیاع کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، لیکن اس کی ذمہ داری اللہ پر ڈال دیتے ہیں۔ بے اعتباری و بے اعتمادی میں اتنے گر چکے ہیں کہ ہر بندہ دوسرے کو جھوٹا اور غلط سمجھتا ہے اور ہر جگہ اپنا مطلب جلد از جلد نکالنے کے چکر میں رہتا ہے اسی وجہ سے ہر مقام پر قطار بنانے کی بجائے قطار کو توڑنے کی روش عام ہے، ہم حکام بالا، حکومتی زعماء ، سیاستدانوں اور افسران کے پروٹوکول کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں لیکن خود ہر جگہ اپنے لیے خاص پروٹوکول کی شدید خواہش رکھتے ہیں، اپنا کوئی کام ڈھنگ سے کرنا نہیں آتا لیکن دوسروں کے کام میں بھاگ کر ٹانگ اڑاتے ہیں اور دوسروں کو مشورہ دیتے وقت خود کو لقمان حکیم سمجھ رہے ہوتے ہیں، ہمسائے سے لیکر محلے، گاوں، شہر اور پورے ملک بلکہ پوری دنیا کی خرابیوں پر ہماری نظر اس طرح ہوتی ہے جیسے ہم غیب کا علم بھی رکھتے ہیں لیکن اپنے گھر اور گریبان میں جھانکنے سے قاصر ہیں۔

اپنے خاندان یا ہمسائے اور علاقے تک کے لوگوں سے ہر طرح کی بے انصافیاں کرتے ہیں اور خود حکومتوں اور عدالتوں سے انصاف کے متمنی ریتے ہیں۔

ہم دوسروں کی بہن بیٹیوں کو جس نظر سے دیکھتے ہیں اپنی بہن بیٹیوں کو اسی نظر سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں دوسروں کے راستے میں کانٹے بکھیر کر اپنے راستے میں کہکشاں کی خواہش رکھتے ہیں۔

میں نے الفاظ کے چناؤ میں کافی احتیاط برتی ہے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو لیکن آخری بات میں ایک سخت لفظ " ظلم" کے استعمال پر معذرت چاہتاہوں ۔

ہم سب سے بڑا ظلم یہ کرتے ہیں کہ اپنے قومی فرض یعنی انتخابات کے موقع پر ووٹ کا حق استعمال کرتے وقت صرف اور صرف اپنے وقتی ذاتی مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔

اس وقت ہم اپنے بچوں اور اپنے ہی مفادات کو نادانستہ پس پشت ڈال کر اپنے وقتی اور انتہائی معمولی مفاد کے لئے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیتے ہیں تفصیل اس کی یہ ہے کہ اپنے لیے کسی دیوار ، نلکا یا گلی کا مطالبہ کرتے ہیں، کسی تقرری یا تبادلے کی بات کرتے ہیں، محکمہ مال یا پولیس میں کسی کام کی سفارش چاہتے ہیں۔ برادری کے نام پر بکتے ہیں یا پھر ظلم کی انتہا یہ کہ نقد پیسے وصول کرتے ہیں تو پھر سوچئے کہ یہ نظام کیوں کر ٹھیک ہوگا؟

ایک بات بہت زیادہ قابل غور ہے اور وہ یہ کہ کیا ہم پیدائشی طور پر ہی ایسے ہیں؟ کیا ہمارا خمیر خرابیوں میں گوندا گیا تھا؟ یا ہمارے جینز ہی میں بدعنوانی ہے؟ کیا اس سرزمین پاکستان کی خرابی ہے کہ یہاں بدعنوانی اگتی ہے؟ کیا یہ سب (نااعوذبا اللہ) ہمارے دین کا حصہ ہے؟ یا پھر خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے؟ کیا اس خطے کا پہلا فرد ہی بدعنوان پیدا ہوا تھا؟نہیں، ایسا کچھ ہر گز نہیں۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ہم برصغیر پاک و ہند کا حصہ ہیں اور اس علاقے پر بیرونی جارحیتوں کی ایک لمبی داستان ہے اور زیادہ تر جارح نے اس خطے پر نظام بنانے کی بجائے لوٹ مار کرنے اور مال غنیمت سمیٹنے کو ترجیح دی تھی۔

جن خاندانوں یا ملکوں نے اس خطے پر لمبی حکومت کی اور اپنا نظام بھی دیا انہوں نے بھی جمہوریت اور انسانی حقوق دینے کی بجائے آمرانہ طرز حکومت اپنایا اور یہاں عوام پر اعتبار کیا نہ ان کو کبھی اعتماد میں لیا۔ ویسے بھی فاتح اور مفتوح کے درمیان کبھی بھی پیار و مخبت یا اعتبار کا رشتہ کبھی قائم نہیں ہو سکتا ہے ۔

وہیں سے ہی ان خرابیوں کی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کو بہت ہی تھوڑا وقت ملا۔ ان کے بعد اس ملک پر وہ لوگ قابض ہوتے گئے جو اس کے وجود سے ہی مخلص نہ تھے ان میں جاگیردار بھی تھے اور مذہبی شخصیات اورمتحدہ ہندوستان کی افسر شاہی بھی۔

ان کو ملک سے پیار تھا نہ عوام سے ہمدردی، یہ تو ہر اس قوت کے وفادار رہے جس نے ہمارے ملک پر جارحیت کی اور ہمیں غلامی کا طوق پہنا کر ہمارے وطن کو لوٹا، جاگیردار کیسے وجود میں آئے، یہ تو سب کو علم ہے کہ جنہوں نے غیر ملکی قوتوں سے وفاداریاں کیں اور اپنے ملک سے غداری انہی کو جاگیریں عنایت کی گئیں تو وہ جاگیردار بن گئے۔

ان سے بھلا ہمیں کیا توقع کرنی چاہیے تھی؟ ان کی جڑیں تو پاکستان میں تھیں لیکن شاخیں برطانیہ اور امریکہ میں، ان کے اپنے اثاثے یورپ میں اور بنک اکاونٹ سویٹزرلینڈ اور اب دوبئی میں۔ پھر بھی ہم ان سے اس ملک اور قوم کے لئے خیر کی توقع رکھیں گے تو پھر قصور کس کا ہے؟ ہمیں جن ڈاکٹروں اور حکیموں نے اس حال میں پہنچایا ہے، ہمیں لاغر کیا ہے انہی کو اپنا معالج بناتے ہیں، جنہوں نے ہمارا ملک برباد کیا انہی سے ہم ترقی کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

جن لوگوں نے ہمیں برادری، علاقائی ازم، مذہبی تفرقہ بازی میں دھکیلا ہے انہی سے ہم ملکی یکجہتی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، جنہوں نے ہمیں بار بار لوٹا اور ہمارا اتحاد و اتفاق تار تار کیا انہی سے ہم انصاف کی بھیک مانگتے ہیں۔

تو پھر سب سے پہلے ہمیں اپنے دماغ کا علاج کروانے کی ضرورت ہے۔ ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے وہ یہ کہ پاک و ہند بٹوارے کے وقت پاکستان کو متحدہ ہندوستان سے جو اثاثے ملے وہ کل سترہ فیصد تھے جبکہ ہندوستان 83 فیصد کا حقدار ٹھہرا لیکن فوج اور فوجی اثاثوں میں ہمارا حصہ 33 فیصد تھا۔ اب ان مسائل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے، ہم اپنی مشکلات میں کمی کیسے لا سکتے ہیں، ترقی کی شاہراہ تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔؟

اس کا ایک ہی ذریعہ ہے، ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم عوام سوچنے کی عادت ڈالءں، اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی زحمت گوارا کرکے اور اپنے فرائض کا ادراک کریں۔

عام انتخابات کی آمدآمد ہے پرانے شکاری نئے جال لیکر نکل رہے ہیں، اب یہ وقت ہمارے لیے سوچنے کا وقت ہے کہ ہم خود کو پرانے شکاریوں اور جگاڑیوں سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ہم چاہیں تو اگلے پانچ سال کا اختیار ایسے لوگوں کو سونپ دیں جو اس ملک سے مخلص ہیں، جن کی اولادیں اور جائیدادیں پاکستان میں ہیں، جو بڑے جاگیردار ہیں نہ سرمایہ دار، ہم ایسے لوگوں کو منتخب کریں جن کا تعلق ہماری اپنی کلاس سے ہے اور وہ رہتے بھی ہمارے درمیان ہیں جن پر بدعنوانی کا کوئی داغ ہے نہ وہ کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ہم خود کو بدلیں گے، اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچیں گے، اپنے آج کو اپنے آنے والے کل کے لیے قربان کریں گے تو تب ہی تبدیلی آئے گی اور ہمارے مصائب میں کمی بھی آئے گی۔ معاشرے کی بہتری کی ابتداء فرد سے ہوتی ہے جب تک فرد میں مثبت سوچ اور تبدیلی نہیں آئے گی، معاشرہ کیسے تبدیل ہو گا؟

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...