گندم خریداری مہم میں چھوٹے کاشتکاروں کا تحفظ

گندم خریداری مہم میں چھوٹے کاشتکاروں کا تحفظ
گندم خریداری مہم میں چھوٹے کاشتکاروں کا تحفظ

وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں گندم خریداری مہم 2018-19ء کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاشتکاروں سے مقررہ نرخوں کے مطابق گندم کی خریداری کو یقینی بنایا جائے، جبکہ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کے حقوق کا بھر پور تحفظ کیا جاے گا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک بلال ےٰسین سمیت دیگر صوبائی وزرأ ،محکمہ خوراک کے سیکرٹری و دیگر افسران بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 20 اپریل سے مرکز خریداری گندم سے کاشتکاروں کو بار دانے کی تقسیم شروع کر دی جاے گی اور بار دانے کی تقسیم کا عمل شفاف ہو گا۔

اس ضمن میں گزارش ہے کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہو اور وہ میرٹ کے ’’لوگو‘‘پر عمل کرے تو حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا۔ بار دانہ حاصل کرنے کے لئے کاشتکارپٹواری سے فرد حاصل کرنے کے بعد بینک میں مقررہ رقم جمع کروا کر جب گندم خریداری مرکز پر محکمہ فوڈ کے عملے کو رسید جمع کرواتے ہیں تو اگر اسے اسی وقت سیریل نمبر جاری کر دیا جاے تو اسی ترتیب سے دیگر کاشتکاروں کو تو میرٹ پر چھوٹے کاشتکارہوں یا بڑے، ان کو بآسانی بار دانہ مل سکتا ہے اور مڈل مین ،آڑھتیوں سے جان چھوٹ سکتی ہے۔

اس عمل میں مرکز خریداری گندم پر کسان تنظیموں کے نمائندوں کا جو تقرر ہو تا ہے کہ وہ شفاف طریقے سے باردانہ اور گندم کی خریداری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اس لئے رکھتے ہیں کہ وہ مقامی کاشتکار بھی ہوتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں کاشتکار کتنے رقبے کا مالک ہے اور وہ موقع پر 20 جیوٹ بوری فی ایکڑ کے حساب سے بخوبی دیکھ سکتا ہے کہ فلاں کاشتکارجو 10 ایکڑ رقبے کامالک ہے، اسے اس حساب سے 200 سے زائدجیوٹ باردانے کی بوریاں محکمہ فوڈ اور مال کا عملہ فراہم تو نہیں کر رہا،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع کا ڈی سی کمشنراور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر(ڈی ایف سی)محکمہ مال کا تحصیلدار، اسسٹنٹ کمشنر، انچارج گندم خریداری مراکز اور کسان نمائندوں کی میٹنگ میں تمام امور طے کئے جائیں اور اس حوالے سے حکومت پنجاب، سیکرٹری فوڈ،تمام اضلاع کے ڈی سی او وز کو احکامات جاری کر دیں کہ وہ فوراً تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس طلب کریں ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ کہنا ہے کہ تمام صوبائی وزرأ اور سیکرٹری صاحبان فیلڈ میں جا کر گندم خریداری مہم کی نگرانی کریں گے اور میں خود بھی مختلف سینٹرز پر جا کر صورت حال کا جائزہ لوں گا، میرا ہیلی کاپٹر اور جہاز بھی گندم خریداری مہم کے دوران دور دراز علاقوں کے دوروں کے لئے دستیاب رہے گا۔

ہم پہلے بھی گزارش کر چکے ہیں کہ جیسے حکومت پنجاب نے ماڈل اتوار بازاروں کو عوام الناس کے لئے پر تعیش سہولتوں سے نوازا ہے، کاشتکار قوم کے خدمت گزار ہیں، لہٰذا گندم مراکز کے سینٹرز کے قریب ان کے لئے بھی اعلیٰ سہولتوں کا میکنیزم قائم کیا جاے، کیونکہ مشاہدے کی بات ہے کہ وہ گرمیوں کی دھوپ میں اپنی ٹرالیوں ،ٹریکٹروں پر بھوکے پیاسے بیٹھے رہتے ہیں، حکومت ان کے لئے شامیانے لگائے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے گزارش کروں گا کہ وہ لاہور سے کچھ فاصلے پر نارنگ منڈی مرکز خریداری گندم سینٹر کا وزٹ کریں۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس برس گندم کی کم پیداوار حاصل ہو گی، حکومت پنجاب نے 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے اس کے علاوہ پنجاب بھر کے ضلعی،تحصیل ہیڈ کوارٹر ز کی سطح پر کاشتکاروں کے درمیان گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے کسانوں کے لئے کروڑوں روپے نقد انعام مقرر کیا ہے، جبکہ محکمہ زراعت کے فیلڈ افسران و توسیعی عملے نے گندم کے نمائشی پلاٹ کے حوالے سے رجسٹریشن کا اجرا کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ محکمہ زراعت نے گندم کے صحت مند بیج،اس کی بوائی کیسے کرنی ہے اور گندم کی فصل کی تیاری، کھادوں کا تناسب،اس کا استعمال، زرعی ادویات کو کس طرح اور کس موسم میں سپرے کرنا ہے، یعنی ہر مرحلے میں گندم کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کے لئے کسانوں کی ہر سطح پر بھر پور راہنمائی اور آگاہی مہم چلائی ہے، لہٰذا حکومت پنجاب کو چاہیے کہ کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ ہر ضلع کے زراعت کے افسران و فیلڈ ورکرز میں بھی نقد انعامات اور تعریفی سرٹیفیکیٹ تقسیم کرے، کیونکہ زرعی پیداوار کے بہترین حصول میں محکمہ زراعت کا کلیدی کردار ہے۔دوسری جانب حکومت، کاشتکاروں،محکمہ زراعت کی طرح محکمہ خوراک کے افسران و خریداری مراکز پر گندم خریدنے کے عمل میں شفافیت کی بنا پر اور ٹارگٹ مکمل کرنے پر محکمہ خوراک کے افسران و اہلکاروں کے لئے بھی انعامات کا اہتمام کرے،جبکہ پنجاب کے جس ضلع میں سب سے زیادہ گندم کی پیداوار ہو اور کسانوں کو خریداری مراکز پر بہترین سہولتیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پہنچائی گئی ہوں، اس ضلع کے ڈپٹی کمشنر،اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر عملے کو بھی کیش انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازے، اس حوصلہ افزائی کے عمل سے حکومت،کاشتکاروں،ضلعی انتظامیہ ،محکمہ زراعت ،محکمہ خوراک کے ذمہ داران میں مزید خدمت کرنے کا جذبہ ابھرے گااور ملک خوراک کے حصول معاشی طور پر خود کفیل ہوگا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر چولستان کے بے زمین کاشتکاروں کی زندگی میں انقلاب لانے اور انہیں خوشحال کرنے کے لئے جامع ریلیف پیکیج تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت چولستان کے بے زمین کاشتکاروں میں ساڑھے بارہ ایکڑ رقبے کی اراضی مالکانہ حقوق پر الاٹ کی جائے گی۔

بے زمین کاشتکاروں کو رقبہ الاٹ کرنا تو خوش آئند ہے، لیکن حکومت بتائے کہ چولستان میں پہلے سے بسنے والوں کے لئے زندگی بسر کرنے کی پہلے سے کوئی سہولت نہیں ہے۔

21 ویں صدی میں بھی چولستان کے باسی اور مال مویشی ایک ہی ٹوبے سے پانی پیتے ہیں،ہر سال ہزاروں مویشی پانی دستیاب نہ ہونے سے بلاک ہو جاتے ہیں، لاکھوں ایکڑ اراضی اور وہ بھی رتیلی اس کے لئے تو چھوٹے ڈیم کی ضرورت ہے، جناب وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف صاحب کیا پانی کے بغیر زراعت ممکن ہے؟ آپ چاہے پورا چولستان اور صوبہ سندھ کی حکومت پورا تھر بے زمین کاشتکاروں کو الاٹ کر دیں، پانی نہیں ہوگا تو سب کچھ خاک ہی تصور ہوگا۔

کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے ہی پانی کا حصول ممکن ہے، ڈیم بنائے نہیں جارہے، ایسی حالت میں خشک اور بے آباد زمینوں کو کس طرح آباد کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے راہنماکہہ رہے ہیں کہ حکومت کالا باغ ڈیم تعمیر کرے، لیکن انہیں اپنے گریبان نظر نہیں آتے، جب وہ مرکز اور صوبوں میں اقتدار میں تھے، اس وقت تو وہ کالا باغ ڈیم تعمیر نہ کر سکے، حالانکہ اس سے بہتر موقع شاید ہی کسی کے پاس ہوتا، لیکن ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ اقتدار سے باہر جماعتوں کو اپو زیشن دور میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بہت باد آتی ہے، اقتدار میں نہیں، یہی ان کی دورنگی منافقت کی سیاست کا گر ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...