لاہورکو پھولوں کی خوشبو سے معطر کرنے والا باغِ جناح

لاہورکو پھولوں کی خوشبو سے معطر کرنے والا باغِ جناح
لاہورکو پھولوں کی خوشبو سے معطر کرنے والا باغِ جناح

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

موسم بہار کے کھلنے والے پھول اپنی خوشبو سے فضا کو معطر کرنے کے بعد بہار کو موسم گرما کے سپرد کرکے سارے شہر میں خوشبو ئیں بکھیر گئے ہیں ۔ اس بار موسم بہار آیا بھی دبے پاؤں ، اور گیا بھی خاموشی سے ہے اس کے جانے کے کا علم تب ہوا جب وہ جا چکا تھا ۔ قتیل نے شاید اسی لئے یہ شعر کہا تھا :

تم جو آؤ تو پھول کھلتے ہیں

موسموں کے سراغ ملتے ہیں مارچ میں ہی شدید سردی بھی تھی ،مارچ میں ہی پنکھے بھی چل پڑے ، اسی دوران بہار بھی آئی اور رخصت ہوگئی ، جب اپریل شروع ہوا تو لوڈ شیڈنگ پوری طرح اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔

پی ایچ اے نے بہار کا بھر م رکھ لیا اور جیلا نی پارک میں پھولوں کی نمائش نے تو گویا شہر کو عجیب فرحت بخشی ہے ۔ نمائش میں گل بہار ، گل ختمی ، چنبیلی ، للی ، میری گولڈ کی مختلف اقسام مو جو د تھیں ۔ 170 قسم کے ان پھولوں کو مہارت کے ساتھ سجایا گیا کہ وہ ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے ۔

شہر بلکہ دوسرے شہروں سے بھی نمائش میں خواتین و حضرات کی بھاری تعداد شریک ہوکر پھولوں اور پودوں میں گہری دلچسپی لی ۔ ریس کورس پارک میں واقع جیلا نی پارک میں پی ایچ اے کے ڈائرکٹر جنرل میاں شکیل احمد نے اپنے ہی مختلف زونوں کے درمیا ن پودوں اور پھولوں کا مقابلہ کرایا ۔ تمام زونوں کے ڈائرکٹر صاحبان نے بڑی محنت اور شوق سے نمائش میں موسم بہار کے پودے ، گلاب ، کیکٹس ، ان ڈور پودے پا م کی مختلف اقسام رکھی گئیں ۔

پھولوں سے قومی پرچم ، مور، ہاتھی اور کئی قسموں کے پرندے بنا کر رکھے گئے تھے ۔ ہارٹی کلچر سو سائٹی کی زیر نگرانی منعقدہ مقابلہ میں باغِ جناح کو پہلا انعام دیا گیا جو باغ جناح کے ڈائرکٹر محمد تحسین صاحب نے وصول کیا ۔

جبکہ ریس کورس پارک کو دوسرے انعام کا مستحق قرار دیا گیا جو ڈائرکٹر جیلا نی پارک حامد جاوید نے وصول کیا۔ تیسرا انعام ڈائرکٹر پی ایچ اے گلبر گ زون مصباح الحسن ڈار کو دیا گیا ۔

چیئر مین پی ایچ اے محترم خالد وحید نے بہارکے خوبصورت پھولوں کی کامیاب نمائش پر میاں شکیل احمد کو مبارکباد پیش کی ، انہوں نے ڈائرکٹر باغ جناح محترم محمدتحسین صاحب ڈائرکٹر ہارٹی کلچر مصباح الحسن ڈار اور پراجیکٹ ڈائرکٹر حامد جاوید کی کاوش کو بے حد سراہا جنہوں نے عوام کیلئے اتنی خوبصورت تفریح اور پھولوں کا اہتمام کیا ۔

اس موقع پر ڈائرکٹر ہیڈ کوارٹر پی ایچ اے سید محمد شہزاد طارق ، ڈائرکٹر علی نواز شاہ ، پراجیکٹ ڈائرکٹر گریٹر اقبا ل پارک سید فرحت عباس شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

باغِ جناح کو پہلا انعام ملنے پر باغ کے ڈائرکٹر محمد تحسین نے اس کامیابی کو اپنے تما م سٹاف کی دن رات محنت ، باغ میں متعین تمام مالی حضرات کی کوشش کو قرار دیا ہے ۔ 144 ۔

ایکڑ رقبہ پر محیط باغ کے سیکورٹی انچارج مرزا اعجاز حسین صاحب نے ایک ملاقات میں بتایا ہے کہ اس وسیع و عریض باغ میں سکیورٹی کے انتظامات بڑے زبردست ہیں ، باغ میں کبھی کوئی ایسا واقع پیش نہیں آیا جس سے کسی قسم کا مسئلہ پیدا ہو ا یا کسی کو بیرونی مداخلت کرنی پڑی ہو ۔

رات دس بجے باغ جناح کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ۔ وہ خود صبح آٹھ بجے سے رات دس بجے تک ڈیوٹی پر نہ صرف موجود بلکہ پورے باغ کا راؤنڈ بھی لینے جاتے ہیں جو تین کلومیٹر کا ہوتا ہے ۔

مرزا اعجاز حسین صاحب سکیورٹی انچارج نے بتایا کہ باغ میں جگہ جگہ پینے کے پانی کے لئے ٹھنڈے پانی کے کولر ز نصب ہیں ، چاروں طرف واش روم بھی موجود ہیں ، جن کی صفا ئی کیلئے رات دس بجے سوئپر ز ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں جو کسی سے کبھی نہیں مانگتے اور نہ ہی انہیں کچھ بخششیں لینے کی اجازت ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ باغ میں اچھے ریسٹورنٹ بھی موجود ہیں ، ہم کچھ نئے منصوبے شروع کر یں گے جس سے لوگوں کی زیادہ دل چسپی بڑھے اور باغ میں آنے کیلئے انکی رغبت میں اضافہ ہو۔

میں بھی باغِ جناح کا عرصہء دراز سے وزیٹر ہوں اور باغ کے اندر واقع کاسموپولیٹن کلب کا ممبر ہوں ، اس وسیع باغ کے تمام ملازمین خصوصاً مالی حضرات بڑے محنتی اور ایماندار ہیں ۔ آجکل باغِ جناح پھولوں سے لدا ہوا ہوہے اور اس کی فضا خوشبو ؤں سے مہکتی رہتی ہے یہاں افسران ، مالی اور چوکیدار اپنے آپ کو باغ کا ملازم نہیں بلکہ باغ کو اپنا گھر سمجھ کر اس سے محبت کرتے ہیں ۔

میں نے اس باغ کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی دیکھی ہے کہ یہ لاہو کا واحد مقام ہے جہاں آپ کو کوئی گداگر نظر نہیں آئیگا ۔ ورنہ شہر کے چپہ چپہ میں پیشہ ور گداگروں کی بھر مار نظرآئیگی ۔

اسکا تمام کریڈٹ بھی مرزا اعجاز حسین کو جاتا ہے جنہوں نے سکیورٹی کی ذاتی نگرانی کے باعث کبھی گداگروں کو یہاں آنے کی عادت ہی نہیں ڈالی ۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ جب یہ باغ نہیں بنا تھا تو یہ موضع مزنگ کا قریبی میدان تھا لاہور کی پرانی تاریخ کے مطابق اس جگہ کئی ٹیلے تھے اور کئی مزارات تھے

۔وائسرائے ہند سر لارنس نے تمام مزارات کی مسماری کے احکامات جاری کردیئے تھے مگر بعد ازاں مختلف روایات کے مطابق صرف تین مزارات باغ میں موجود رہے یہ کس طرح رہ گئے ، وہ کیا وجہ تھی ، اس پر تاریخ خاموش ہے ۔

یہ تینوں مزارات تین سگے بہن بھائیوں کے ہیں مال روڈ گورنر ہاؤس کی جانب بابا سید شرف الدین کا مزار ہے جبکہ چڑیا گھر کے گیٹ کی جانب بابا سید ترت مراد شاہ کا مزار ہے جسکی نگرانی محکمہ اوقاف کے سپرد ہے اور تیسرا مزار لاہور بورڈ کے سامنے پہاڑی پر محترمہ سیدہ بی بی مراد فاطمہ کا ہے ۔ اس کے علاوہ تمام مزارات کو انگریزی دور کے گورنر پنجاب کے حکم پر مسمار کر دیا گیا تھا۔

باغِ جناح کے اندر ایک مضبوط یونین بھی موجود ہے جس کے سیکرٹری محمد صدیق گجر ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ باغ کے اندر172 مالی حضرات ہیں ۔

ان کے معاوضوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاہم ہر شخص پوری جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دے رہا ہے تمام ملازمین کیلئے باغِ میں رہائش کی سہولتیں نہیں ہیں ۔

انگریز کے دور حکومت میں جب باغ میں بیلوں کے ذریعہ گوڈی کی جاتی تھی تو جہاں بیل باندھے جاتے تھے ، اسی جگہ پر ملازمین کو رہائش دی گئی ہے ۔

اس جگہ کو انسانوں کی رہائش گاہ میں بھی تبدیل نہیں کیاگیا ، بلکہ ملازمین نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق وہا ں پارٹیشن کر لی ہوئی ہے ۔یہ جگہ سہگلو ں کی کوٹھی کے لارنس روڈ پر واقع ہے۔

محمد صدیق گجر صاحب نے بتایا کہ اگر پی ایچ اے اسی جگہ کو مسمار کرکے یہاں دوتین منزلہ فلیٹ بنادے تو تمام ملازمین کو رہائش میسر آسکتی ہے۔ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ اسی باغ کے ڈائرکٹر کی رہائش گاہ چار ایکڑ یعنی 32 کنال میں باغ کے اندر تھی جسے موجودہ ڈائرکٹر نے لینے سے انکار کردیا تھا جو اپنے ذاتی گھر میں رہتے ہیں اور اس رہاثش گاہ میں پی ایچ اے نے ریسرچ اکیڈیمی اور زرعی تربیتی کالج میں تبدیل کر لیا ہے جس جگہ پر بیل باندھے جاتے تھے اس جگہ پر رہنے والوں نے باغِ جناح کو پھولوں کی نمائش میں پہلا انعام دلا دیا ہے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی پی ایچ اے کو ضرور کرنی چاہیے ۔

جس طرح یہ مالی حضرات ہر موسم کے شروع ہونے سے پہلے اس موسم کے پھول لگانے شروع کردیتے ، اسی طرح اس سال کا بجٹ آنے سے پہلے ان کیلئے بھی غورو فکر شروع کردینا چاہیے ۔

کاش ایکڑوں کی رہائش میں رہنے والوں کو بیلوں کی رہائش میں رہنے والوں کا بھی خیال آجائے تو یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ باغ کی کار کردگی مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم