افغان فوجیوں کی ایک بار پھر اشتعال انگیزی

افغان فوجیوں کی ایک بار پھر اشتعال انگیزی

افغان فوجیوں کی طرف سے اتوار کے روز کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے میں اشتعال انگیز کارروائی کی گئی، سرحد پر معمول کے گشت اور باڑ لگانے کے انتظامات کا جائزہ لینے میں مصروف ایف سی اہلکاروں پر فائرنگ کردی گئی جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوگئے، افغان فوجیوں کی جانب سے پاکستانی فورسز پر کسی اشتعال کے بغیر فائرنگ کے پہلے بھی کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے باقاعدہ احتجاج کیا جاتا رہا ہے، پاک افغان سرحد بہت طویل اور پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، دہشت گرد اور اسمگلر مختلف مقامات سے سرحد عبور کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر اپنے مخصوص اور طے شدہ راستے سے واپس افغانستان بھی پہنچ جاتے ہیں۔ دہشت گردوں اور تخریب کاروں کی آزادانہ آمد و رفت کو روکنے کے لئے پاکستان نے سینکڑوں کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے اور مختلف مقامات پر حفاظتی اور نگران چوکیاں بنانے کا فیصلہ کیا، جس پر ایک سے زائد مرتبہ افغان فوجیوں کی طرف سے فائرنگ کرکے کئی پاکستانی اہلکار شہید اور زخمی کردیئے گئے، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید با جوہ نے افغانستان کا دورہ کرکے ایک سے زائد مرتبہ اس معاملے میں قابلِ عمل تجاویز دی ہیں، بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں کے لئے پچھلے کئی سال سے افغان علاقے میں اپنے مراکز قائم کر رکھے ہیں، مخصوص ایجنٹوں کو ٹریننگ کے بعد وارداتوں کے لئے سرحد کے مختلف محفوظ علاقوں سے پاکستان بھیجا جاتا ہے، دہشت گردی کے واقعات کے دوران افغانستان میں موجود ماسٹر مائنڈ سے رابطوں کے ثبوت بھی کئی بار افغان حکمرانوں کو دیئے گئے ہیں، بھارت کی مذموم کارروائیوں کا سلسلہ ایک عرصے سے افغان سرزمین سے جاری ہے، افغان حکومت کو اس کی اجازت نہیں دینی چاہئے، مذاکرات کے موقع پر تو افغان حکومتی نمائندے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن عملی طور پر بھارت نے وہاں اپنا اثر و رسوخ اس قدر مضبوط بنا رکھا ہے کہ بھارتی دخل اندازیوں کو روکا نہیں جاتا۔

پاکستانی فورسز نے سینکڑوں کلو میٹر پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور حفاظتی چوکیاں بنانے کا جب سے کام شروع کیا ہے بھارت کو اپنی دہشت گردانہ اور تخریبی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہونے سے بڑی تکلیف ہے، چنانچہ پاکستانی اہلکاروں کو نشانہ بناکر حوصلے پست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالیہ کارروائی بھی اسی لئے کی گئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان حکومت کو بھارت کی من مانیوں پر قابو پانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے، افغانستان کا امن اسی ذریعے سے ممکن ہے، پاکستانی سول اور فوجی قیادت نے کئی بار اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ تعاون سے یہ مسئلہ حل کرلینا چاہیے، اس معاملے میں امریکہ کو بھی اپنا کردار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے اس خطے میں بھارت کو تھانیدار بنا کر پاکستان پر دباؤ بڑھا رکھا ہے، کہ طالبان کے مخصوص گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے امریکہ کو یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ افغان سر زمین کو بھارت کے عمل دخل سے پاک کرکے دہشت گردی کی روک تھام ممکن ہوگی، افغانستان میں طالبان کے مختلف گروہ ستر فیصد علاقے پر قابض ہیں اور واحد بڑا شہر کابل بھی دہشت گردی کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں، آئے روز وہاں فوجی اور سول علاقوں میں طالبان حملے کرتے رہتے ہیں۔ بھارت ان حملوں کی روک تھام میں تو افغان حکومت کی کوئی مدد نہیں کرتا اور افغان سر زمین استعمال کرکے افغان حکمرانوں کے لئے مشکلات کھڑی کرتا رہتا ہے، امریکہ کو افغانستان میں امن چاہئیے تو بھارت کو مذموم کارروائیوں سے روکنا ہوگا، اس طرح افغان حکومت اور فورسز پر دباؤ کم ہوگا اور پاک افغان تعاون بڑھنے سے در پیش مشکلات کے خاتمے کے لئے کوششیں بارآور ہوں گی۔

مزید : رائے /اداریہ