غیر معمولی حالات اور واقعات میں گھری، عظیم ریاست پاکستان (2)

غیر معمولی حالات اور واقعات میں گھری، عظیم ریاست پاکستان (2)
غیر معمولی حالات اور واقعات میں گھری، عظیم ریاست پاکستان (2)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انتخابی دھاندلیوں کے نتیجے میں چلنے والی اپوزیشن کی تحریک کے باعث ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عوامی جذبات اپنی انتہائی بلندی تک جا پہنچے تھے، پھر خون ریز عوامی تحریک کے نتیجے میں مسلح افواج کو مارشل لاء لگانے کا موقع ملا۔

اس حوالے سے بہت سے تاریخی حوالے موجود ہیں کہ مارشل لاء ناگزیر ہوچکا تھا، کیونکہ بھٹو حکومت نے اپوزیشن پاکستان نیشنل الائنس کی تحریک کو مکمل طور پر کچلنے کا پروگرام بنا لیا تھا، اس طرح خانہ جنگی کا امکان پیدا ہوچکا تھا، تحریک میں تشدد کا عنصر پہلے ہی داخل ہو چکا تھا۔

بھٹو کی فیڈرل سیکیورٹی فورس کے مظالم کے ساتھ ساتھ ’’نتھ فورس‘‘ کی تشکیل نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور خانہ جنگی ہوا چاہتی تھی۔ جس کے باعث جنرل ضیاء الحق نے آگے بڑھ کر مارشل لاء لگا کر ملک کو تباہی سے بچا لیا۔ پاکستان کے کئی سرکردہ سیاستدان بھی فوجی مداخلت کے داعی تھے اور وہ کھلے عام فوج کو اکساتے تھے۔

دوسری طرف کئی تاریخی حوالے اس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت ایک تاریخ ساز معاہدے تک پہنچ چکے تھے، بس معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے، جس کے مطابق بھٹو حکومت نئے الیکشن کرانے پر متفق ہو چکی تھی کہ اچانک فوج نے مداخلت کرکے معاملات الٹ پلٹ کر دیئے اور ملک پر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے ماشل لاء کا ملک گیر سطح پر استقبال کیا گیا۔ عوام نے حلوے کی دیگیں پکا کر تقسیم کیں، بھنگڑے ڈالے گئے اور شکرانے کے نوافل ادا کئے گئے۔

بھٹو کی آمرانہ روش نے پورے ملک میں سیاسی ماحول کو پراگندہ کر رکھا تھا، صنعتوں کے قومیائے جانے کے باعث صنعتی ترقی رک گئی تھی، مزدوروں اور کارکنوں کے ابھرے ہوئے جذبات اور بیوروکریسی کی نااہلیوں نے اقتصادیات کا بیڑہ غرق کر دیا تھا

۔ ایسے میں جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا ایک نعمت بن کر ملک پر نازل ہوا۔ قوم نے بھٹو شاہی سے نجات دہندہ کے طور پر جنرل ضیاء الحق کا خیرمقدم کیا۔

جنرل ضیاء الحق نے 90دنوں میں الیکشن کرانے اور فوج سمیت بیرکوں میں واپس جانے کا بھی اعلان کیا، لیکن پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ بھٹو پر نواب احمد رضا خان قصوری کے والد کے قتل کا مقدمہ چلنا شروع ہوگیا۔ یاد رہے اس قتل کی ایف آئی آر بھٹو دور حکومت میں ہی درج کی گئی تھی۔

مارشل لاء کے بعد مقتول کی بیوہ نے جنرل ضیاء الحق کو درخواست دی کہ اسے انصاف دلایا جائے، ایسا کرنا کیونکہ ضیاء الحق کے ذاتی انٹرسٹ میں بھی تھا، اس لئے انہوں نے قتل کے مقدمے کی کارروائی شروع کی اور بالآخر عدالتی فیصلے کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی۔

جنرل ضیاء الحق کا گیارہ سالہ دور حکومت ملی جلی پالیسیوں اور ان کے نتائج کا حامل تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے شعوری طور پر پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی، اپوزیشن کو دبانے، ڈرانے، دھمکانے کی پالیسی پر عمل ہوتا رہا، انہوں نے ہم خیال سیاستدانوں کو بڑھاوا دیا۔ انہیں سیاست میں موثراور مضبوط بنانے کی کاوشیں کیں۔

بلدیاتی الیکشن کرائے، شوریٰ بنائی، لیکن یہ تجربہ کامیاب نہ ہوا۔ غیر جماعتی الیکشن کرائے ،چند افراد کوکلیدی عہدوں تک پہنچایا اور تاحیات سیاسی منظر پر چھائے رہنے کا بندوبست کیا۔

جنرل ضیاء الحق نے اسلامی نظام کے نفاذ کی بھی کاوشیں کیں اور اس حوالے سے انہیں عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کی تائید بھی حاصل تھی، اس طرح انہوں نے اپنا حلقہ نیابت تخلیق کیا۔ 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد، افغان مجاہدین کی پشت پناہی کے فیصلے نے انہیں اقوام مغرب اور عالم اسلام میں بھی پذیرائی بخشی۔

افغان مجاہدین کی مدد انہوں نے جزو ایمان سمجھ کر انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کی، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام مغربی دنیا اشتراکی روس کو شکست دینا چاہتی تھی، اس لئے انہوں نے بھی پاکستان کی سیاسی، سفارتی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ خزانوں کے منہ بھی کھول دئیے۔

جنرل ضیاء الحق نے جہاں افغان جہاد کو بڑی جرأت، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام تک پہنچانے کی کاوشیں کیں، وہاں انہوں نے پاک فوج کی تنظیم نو اور جدت طرازی میں بھی کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا اور چپ چاپ تیزی سے مکمل کیا، اس لئے جب 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کو منظر سے ہٹایا گیا تو پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود تھا۔

ہندوستان کی حیثیت، پاکستان کے مقابلے میں بہت پست تھی۔ عالمی پس منظر پر پاکستان ایک موثر اور مستحکم ملک کے طور پر کھڑا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے بعد دس سال تک یہاں جمہوری حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، جمہوری تماشہ چلتا رہا۔ سیاستدان آپس میں لڑتے رہے، عوام میں بے چینی بڑھتی رہی حتی کہ جب جنرل(ر) پرویز مشرف نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تو بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کے علاوہ شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو نے بھی ان کے اس اقدام کو سراہا۔

نوازشریف کے علاوہ کسی نے بھی مشرف مارشل لا کی تکلیف محسوس نہیں کی۔ اس کے بعد 9\11 ہوا تو پاکستان ایک بار پھر فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا۔ 1979ء میں اشتراکی حملے کے بعد پاکستان کو افغان جہاد کی حمایت میں لیڈ ملی تھی۔ جب پوری دنیا افغانستان کو بھولی بسری داستان قرار دے رہی تھی تو جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی آئی ایس آئی کے جنرل اختر عبدالرحمن کو مجاہدین افغانستان کو منظم کرنے کا حکم دیا۔ پھر 1982ء میں رونالڈ ریگن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ نے جہاد افغانستان کی پشت پناہی کا فیصلہ کیا۔

پاکستان نے اس مشن کی سربراہی کی۔ امریکہ، اقوام مغرب اور عالم اسلام پاکستان کی پشت پر کھڑے تھے، لیکن مشرف مارشل لا دور میں جارج بش کی اعلان کردہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں پاکستان کو زبردستی فرنٹ لائن سٹیٹ بنا دیا گیا ۔

اس بار ہمیں امریکی حمایت میں افغان عوام کے خلاف کھڑا ہونا پڑا۔ ہم نے دو دھائیوں تک جس قوم کے حق خوداریت کے حصول کے لئے ایک سپریم طاقت کے خلاف اُن کی مدد کی تھی۔

اب ایک دم ہم ایک دوسری طاقت کے ساتھ ان کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ دو تین عشروں سے جاری ہماری افغان پالیسی میں ایک یوٹرن آیا۔ پاکستان کے دوست، افغان عوام کے خلاف ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم نے اپنی فضا زمین اور سمندر امریکی اتحادی افواج کے لئے کھول دیئے تاکہ وہ افغان عوام کا قتل عام کر سکیں۔

ہماری اس دوغلی پالیسی نے ہمیں اور ہمارے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا۔ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بن کر خود دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے۔

افغان طالبان اور ان کے دیگر گروپوں نے 42ممالک کی سپاہ پر مشتمل امریکی اتحادی افواج کو اس طرح ناکوں چنے چبوائے جس طرح وہ پہلے برطانوی اور اشتراکی افواج کو شکست سے ہمکنار کر چکے تھے۔

امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے گزشتہ کئی سال سے ترلے کر رہا ہے، ان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے تاکہ انہیں افغانستان میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کا حصہ بنایا جاسکے، لیکن ابھی تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور ہونے والی بھی نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ افغان مزاج اور کردار کے برعکس ہے کہ وہ حملہ آوروں یا ان کے حمایت یافتہ حکمرانوں کے ساتھ مل بیٹھیں افغانوں نے حملہ آوروں یا ان کے حمایت یافتگان کو ہمیشہ جہنم واصل کر کے ہی سانس لیا ہے۔

انہوں نے صدیوں سے ایک ہی کھیل کھیلنا سیکھا ہے اور وہ ہے بندوق اور بارود کا کھیل۔ مرنے اور مارنے کا کھیل۔ دشمنوں اور غاصبوں کا ناطقہ بند کرنے کا کھیل، شکست دینے کا کھیل۔ وہ برطانوی سامراجیوں کے ساتھ بھی ایسا کر چکے ہیں، انہوں نے اشتراکیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا اور امریکیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے، لیکن ہم خود اپنی ہی پالیسیوں کا شکار ہوچکے ہیں۔

ہم نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بن کر اپنا قومی وجود چھلنی چھلنی اور کرچی کرچی کر لیا ہے۔ ہم اپنے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ویسے تو ہماری مسلح افواج نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے ان کا قلع قمع کرنا شروع کر رکھا ہے اور انہیں اس میں نمایاں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں، لیکن اس ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے کے لئے ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، فوجی آپریشن کے علاوہ ہمیں اپنے سول اداروں کی تشکیل اور تنظیم نو کی بھی ضرورت ہے۔ وگرنہ آپریشن ضرب عضب ، ردالفساد اور ہماری عسکری فتح کے ثمرات ضائع بھی ہو سکتے ہیں۔ (جاری ہے)

پاکستان سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد سے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں بے شمار اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہماری اقتصادی سرگرمیوں کا پھیلاؤ ہوشربا ہے، ہماری زراعت، زرعی صنعت و حرفت اور زرعی معیشت نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ گندم کی پیداوار ہو یا کپاس کی، مِلک پروڈکشن ہو یا چاول اور گنے کی پیداوار، پاکستان دنیا کے نمایاں ممالک کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔ تر شاوے پھل کی پیدوار میں بھی ہم عالمی چیمپئن ہیں۔

ٹیکسوں کی یافت کا حجم بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، گو جی ڈی پی کے حوالے سے شرح خاصی کم ہے، ٹیکسوں کی وصولیوں کو اور بھی زیادہ ہونا چاہیے، لیکن جتنی بھی ہورہی ہیں، وہ کم نہیں ہیں، خاصی معقول ہیں۔ قرضوں کی عالمی مارکیٹ کے ہم اہم حصہ دار ہیں۔ عالمی بینک ہو یا آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی ادارے، ہم ان سب سے قرضے لیتے ہیں۔

ان کی شرائط کی وجہ سے ہمارے قومی قرضوں کا حجم خاصا بڑھ چکا ہے۔ بیرونی قرضوں کا حجم 89 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ جی ڈی پی کے حوالے سے یہ شرح خطرناک حد کراس کر چکی ہے، لیکن ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے قرضوں کی طے شدہ اقساط کی ادائیگیوں کے حوالے سے کبھی ڈیفالٹ نہیں کیا، ہمیشہ وعدوں کا ایفا کیا ہے۔ہماری اوسط فی کس آمدنی بہت اچھی نہ سہی، لیکن معقول ضرور ہے۔

قومی آمدنی کا حجم خاصا ہے، لیکن تقسیم دولت کا نظام غیر منصفانہ ہونے کے باعث غربت کی شرح بلند اور مکرر سرکاری اعلانات کے باوجود اس میں کمی نہیں ہورہی، کیونکہ ہم نے قومی سطح پر اس حوالے سے بہت زیادہ غور و فکر نہیں کیا ہم تقسیم دولت کے نظام کو کس طرح منصفانہ اور عادلانہ بنا سکتے ہیں؟ہماری عدلیہ، کئی تاریخی داغوں کے باوجود اپنے اندر میچورٹی لا چکی ہے۔

گو ہماری لوئر کورٹس مکمل طور پر ناانصافی پر چل رہی ہیں، لیکن اعلیٰ عدلیہ نے بہت اچھے کام کئے ہیں اور کئے جا رہے ہیں، لیکن پانامہ کیس کے حوالے سے معاملات کچھ تسلی بخش نہیں ہیں۔ بحث اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

ہمارا سیاسی سفر، جمہوریت کاسفر، ہچکولوں کا شکار رہا ہے، نظریاتی و فکری طورپر اب بھی یہ بحث جاری ہے کہ فوجی حکمرانی ٹھیک ہے، نتیجہ خیز ہے اور امن و سکون کی ضامن ہوتی ہے، جبکہ سیاست و جمہوری ادوار غیر ہموار، پُراسرار اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں، اس لئے فوج یا مارشل لاء کار سرکار کے لئے بہتر ہیں۔

پھر یہ بھی بحث ہو رہی ہے کہ صدارتی نظام زیادہ ذمہ دارانہ اور بہتر ہے اس لئے یہاں اسے نافذ کر دینا چاہئے۔ ہمارے کچھ دانشور سائنس دان ووٹر کے لئے میٹرک پاس کی شرط کے لئے دلائل تحریر کر رہے ہیں۔

یہ ایک نظریاتی بحث ہے، لیکن ہمارے سامنے پاکستان کی 70سالہ تاریخ موجود ہے۔ 1958,ء1969,ء1977,ء اور 1999ء کے مارشل لاؤں کے نتائج سامنے ہیں جنرل ایوب خان کا 1958ء، جنرل یحییٰ خان کا 1969ء، جنرل ضیاء الحق کا 1977ء اور جنرل پرویز مشرف کا 1999ء کا مارشل لاء اب ہماری قومی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

ان ادوار ہی کی خوبیاں اور خامیاں ہمارے سامنے ہیں۔ جنرل ایوب کے مارشل لاء دور میں بنگالیوں کے دلوں میں مرکز کے خلاف نفرت پیدا ہوئی، علیحدگی کے رجحانات نے فروغ پایا، جنرل یحییٰ کے مارشل لا میں سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ ہوا۔

جنرل ضیاء الحق کے بعدملک میں فرقہ واریت نے جڑیں پکڑیں، کاروباری سیاست کے رجحانات نے فروغ پایا، غیر جماعتی الیکشنوں کی وجہ سے سیاست میں سرمایہ کاری اور نفع اندوزی کے رجحانات نے جڑیں پکڑیں۔ جنرل مشرف کے دور حکمرانی نے ملک کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔معیشت، معاشرت کا بیڑہ غرق ہوگیا، پاکستان دہشت گردوں کی جنت اور اہل پاکستان کے لئے جہنم بن گیا۔

جہاں تک ہماری قومی سیاست اور جمہوریت کا تعلق ہے، اس کی تاریخ بھی کوئی بہت شاندار نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان قائداعظم جیسے ایک سیاست دان کی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم پر سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا۔

قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر پاکستان کا مقدمہ لڑا۔ آئینی و قانونی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے ایک عظیم نظریاتی ریاست کی تخلیق کا کارنامہ سر انجام دیا۔

قیام پاکستان کے فوراََ ساتھ ہی نوزائیدہ مملکت سول اور وردی والے بیوروکریٹس کی چالوں اور مکاریوں کا شکار ہوگئی، ان سرکاری ملازموں نے اپنے فرائض منصبی کے علاوہ قومی سیاست میں دخل اندازی شروع کر دی اور پھر حکومتیں بنانے اور بگاڑنے کا منصب خود ہی سنبھال لیا ،جس کے باعث یہاں سیاسی استحکام پیدا نہ ہوسکا۔

پہلا آئین بننے میں 9سال کا عرصہ لگ گیا، پھر اس آئین کو دو سال بھی چلنے نہیں دیا گیا اور1958ء میں جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ انہوں نے ملک کو صدارتی نظام کے تحت چلانے کی کاوشیں کیں۔

1962ء میں دوسرا آئین دیا، جسے انہوں نے 1969ء میں خود ہی پامال کر کے ملک کی باگ دوڑ جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دی۔ جنرل یحییٰ نے حسبِ روایت سیاست بازی کی اور مشرقی پاکستان میں لشکر کشی کا حکم دیا۔ ہندوستان نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مکتی باہنی کے ذیعے پاک فوج کو بے بس کر دیا، پھر مشرقی پاکستان میں فوجیں داخل کر کے وہاں علیحدگی پسندوں کی مدد کی اور پاکستان کی افواج کو شکست سے ہمکنار کیا ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے منتخب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر باقی ماندہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالی۔

1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا 1988ء میں ان کے منظر سے ہٹنے کے بعد پارلیمانی جمہوری دور کا آغاز ہوا۔ حکومتیں بنتی بگڑتی رہیں، حتی کہ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ 2003ء کے الیکشن کے ذریعے ایک بار پھر سے جمہوری دور حکمرانی شروع ہے۔ میثاق جمہوریت نے سیاستدانوں کی بالغ النظری کو ظاہر کیا تھا، لیکن عوامی سطح پر سیاستدانوں کی اہلیت اور گورننس کے مسائل کے باعث معاملات زیادہ پختہ نظر نہیں آرہے۔ ایک طرف قومی معاملات میں فوج کی مداخلت کے بارے میں منفی خیالات پائے جاتے ہیں، لیکن ایک طبقہ فوج کے کردار کو قومی معاملات میں احسن گردانتا ہے۔

پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ فوجی حکمرانی ہمارے لئے باعث برکت نہیں ہے، ہر مارشل لا کے بعد ملک واپس جمہوریت کی طرف ہی لوٹ کر آیا ہے، مارشل لا حکمران کو بھی سیاست ہی کرنا پڑتی ہے اس لئے یہ بات اب طے ہی سمجھنی چاہئے کہ پاکستان کی بقاء اور تعمیر و ترقی جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے۔

پاکستان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنی خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جمہوری نظام کی خرابیوں کو درست کرنا بھی ضروری ہے لیکن جمہوری انداز میں ووٹ کی طاقت سے ۔

مزید : رائے /کالم