گرینڈ ڈائیلاگ

گرینڈ ڈائیلاگ

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ مقرر ہونے کے بعد شہباز شریف ہفتہ (14اپریل) کے روز پہلی بار کراچی آئے جسے سنیٹر مشاہد حسین نے ان کی منہ دکھائی قرار دیا۔

انہوں نے گورنر ہاؤ س سندھ میں مصروف ترین دن گزارا۔ مختلف سیاسی رہنماؤں ، ممتاز شخصیات اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ تمام دن جاری رہا۔

ذرائع ابلا غ سے ملاقات میں حیدرآباد کے بعض صحافیوں کو بھی دعوت دی گئی تھی جس کے محرک ن لیگ سندھ کے جنرل سیکریٹری شاہ محمد شاہ تھے ۔ بہر حال اس ملاقات میں راقم بھی موجود تھا ۔

اپنی گفتگو کے آغاز میں انہوں نے صوبوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں اور ان کی رفتار کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی مثال دے کر صوبوں کے درمیاں ایسی تفریق پیدا کی جا تی ہے جو وفاق کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جو بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں ، اس میں وفاق سے کوئی مالی مدد نہیں لی گئی ہے

۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اپنے سامعین کو بتایا کہ اگر پنجاب گیارہ ارب روپے سالانہ کی قربانی نہ دیتا تو این ایف سی ایوارڈ کسی حال میں کامیاب نہیں ہوسکتاتھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس ایوارڈ سے پچاس ارب روپے سے زائد رقم ملی لیکن یہاں ترقیاتی کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بھی زیادہ خراب ہے۔ گرین لائن کے منصوبہ کے لئے وفاقی حکومت نے رقم فراہم کی ہے لیکن اس کی رفتار بہت سست ہے۔ اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ’’ مرسیوں مرسیوں سندھ نہ ڈیسوں ‘‘ لیکن یہاں تو صورت حال ایسی ہے کہ’’ مرسیوں مرسیوں پر کام نہ کرسیوں‘‘۔

شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ لیگ نے سندھ میں اتنا سیاسی کام نہیں کیا جس کی ضرورت ہے۔ لیکن ’’ میں یقین دلاتا ہوں کہ میں سندھ کا دورہ کروں گا ۔ دیہاتوں میں بھی جاؤں گا‘‘۔ اپنی گفتگو میں شہباز شریف نے ’’ گرینڈ ڈائیلاگ ‘‘ کی ضروت کا دوبارہ ذکر کیا اور کہا کہ ضروری ہو گیا ہے کہ قائد کے پاکستان کی ترقی کے لئے اداروں کے درمیاں نتیجہ خیز مذاکرات ہوں۔ شہباز شریف اس سے قبل بھی یہ بات کہہ چکے ہیں اور یہ تجویز اس لئے نئی نہیں ہے کہ سینٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے یہ تجویز پیش کی تھی۔ میں نے سوال کیا کہ گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت کون دے گا، کیا اداروں کے درمیاں مذاکرات کا مطلب یہ لیا جائے کہ فوج سے مذاکرات ہوں۔ شہباز شریف نے براہ راست جواب دینے کی بجائے کہا کہ اداروں کے درمیاں مذاکرات ہونا چاہئیں، تمام سیاسی جماعتوں ، اور تمام اداروں کے درمیاں گفتگو ضروری ہے۔ اداروں کے مسائل ہیں مثلا عدلیہ کو قوانین کے حوالے سے مسائل در پیش ہیں۔

اس موقع پر مشاہد حسین بول پڑے کہ فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سینٹ کی دعوت پر تشریف لائے، انہوں نے سینٹ اراکین سے خطاب کیا۔ مشاہد حسین کی بات اپنی جگہ ، شہباز شریف کے علم میں ہوگا کہ جنرل باجوہ نے دس مارچ کو جی ایچ کیو میں چنیدہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے لوگوں نے ساتھ چار گھنٹے پر محیط نشست کی جس میں انہوں نے اپنا ذہن کھول کر سامنے رکھ دیا ۔

بعض افراد نے اسے باجوہ ڈاکٹرائن کا نام دیا جس کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے تردید بھی کی۔ یہ باجوہ ڈاکٹرائن نہیں بلکہ ان کے خیالات تھے ۔ ان خیالات کی روشنی میں طے ہونا چاہئے کہ کیا کسی گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔

ان کے خیالات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے اور اگر پھر بھی مذاکرات کی ضرورت ہے تو یہ کن نکات پر ہونا چاہئیں ، اس کا شہباز شریف نے اپنی صرف چالیس منٹ کی پریس ٹاک میں کوئی تذکرہ نہیں کیا ۔ پاکستان میں ایک آئین نافذ ہے ، جس میں تمام اداروں کی ذمہ داریاں درج ہیں۔ پارلیمنٹ ہو یا عدلیہ یا فوج، یا انتظامیہ ، سب کے دائرہ کار کا ذکر ہے اور اس کے تحت ہی سب کو کام کرنا ہے۔

پاکستان میں موجود سیاسی صورت حال کئی لحاظ سے بعض سیاسی حلقوں میں قابل قبول نہیں ہے۔ یہ عناصر سمجھتے ہیں کہ پس پردہ کہیں نہ کہیں سے مداخلت ہوتی ہے جس کی وجہ سے سیاسی صورت حال میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سینٹ کے انتخابات میں مداخلت اور بلوچستان میں وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کی حکومت کی خاتمے کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ کسی بیرونی مداخلت کا جواز تو اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کمزوری کا مظاہرہ کرتی ہے اور پارلیمنٹ میں لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے رضا مند ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں اگر ن لیگ کے اراکین اپنی جماعت کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداری پر قائم رہتے یا سینٹ کے اراکین اپنی جماعت کے فیصلوں کی پابندی کرتے تو ایسی شکایت کا موقع ہی نہیں آتا۔

ایسا کیوں کر ممکن ہوا ؟ سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کی سہولت ناپید ہے۔ جماعتوں کی مرکزی مجالس عاملہ کے اول تو تواتر کے ساتھ اجلاس ہی نہیں ہوتے ہیں اور اگر ہوتے بھی ہیں تو اس میں قیادت کی جانب سے دی گئی تجویز کی حمایت کرنے پر سب ہی مجبور ہوتے ہیں۔

جس طرح شہباز شریف نے اداروں کے درمیاں ’’ ڈیبیٹ ، ڈسکشن‘‘ کی ضرورت پر زور دیا اگر یہ ڈیبیٹ اور ڈسکشن پارٹیوں میں رائج ہوں تو کسی مداخلت کا امکان کم ہی رہ جاتا ہے۔ فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف کے دور میں ہونے والی ایک کور کمانڈرز کانفرنس میں یہ نشان دہی کی گئی تھی کہ ملک میں گورننس بہتر نہیں ہے۔

اس سے قبل یہ ہی بات سپریم کورٹ کے اس وقت کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی کہہ چکے تھے ۔ جسٹس جمالی نے تو گوررننس کے حوالے سے بعد میں بھی کئی بار گفتگو کی ۔

ممکن ہے کہ کسی سبب سیاسی رہنماء گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت محسوس کرتے ہوں لیکن طرز حکمرانی کو بہتر کرنے کی ذمہ داری تو پارلیمنٹ اور حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ جنرل باجوہ نے بھی اپنی گفتگو میں کئی سوالات اٹھائے ہیں، ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر طرز حکمرانی بہتر ہو اور ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کرہے ہوں تو کسی کو ضرورت نہیں کہ حکومت کے طرز حکمرانی کی بات کرے یا پھر پارلیمنٹ کے لوگوں کو بار بار یہ نہ کہنا پڑے کہ پارلیمنٹ مقدم ہے۔ عدلیہ ہو یا فوج، ایک سے زائد بار یہ باور کر ا چکے ہیں کہ یہ اادارے پارلیمنٹ کو ہی مقدم سمجھتے ہیں۔ کسی ادارے کے مقدم ہونے کا زبانی ذکر کیوں ضروری ہوتا ہے؟

ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب حکومت کے ماتحت ادارے اپنا کام اطمینان بخش طریقے سے انجام نہیں دے رہے ہوں۔ پاکستان میں کئی ایسے ترقیاتی منصوبوں کو ذکر کیا جاتا ہے جو طویل تاخیر کا شکار ہوئے اور ان منصوبوں پر آنے والی لاگت آسمان کوچھو گئی۔ قوم کو یہ نقصان اسی وجہ سے برداشت کرنا پڑ تا ہے کہ طرز حکمرانی میں کہیں نہ کہیں سقم موجود ہے۔

شہباز شریف نے بھی اس جانب نشان دہی کی۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک وزیر اعظم یا وزیراعلیٰ پر عائد نہیں ہوتی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومتوں میں شامل لوگ خیانت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں اور قومی احتساب بیورو میں جو بھی مقدمات موجود ہیں وہ کسی نہ کسی کی خیانت اور خورد برد کا سبب ہیں۔

ن لیگ کے سربراہ سے ایک اور سوال بھی کیا گیا کہ جیسے ن لیگ کے حامی سمجھتے ہیں کہ مختلف مقدمات کی وجہ سے لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر انتخابات میں ن لیگ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو انتقال اقتدار ممکن ہوگا۔ شہباز شریف نے سوال کنندہ سے کہا کہ اس سوال پر آپ سے علیحدگی میں بات ہوگی۔

جس کا موقع نہیں آیا۔ البتہ مشاہد حسین نے ان کے بعد جو جواب دیا وہ کچھ یوں تھا کہ پاکستان میں ایک بار اقتدار منتقل نہیں کیا گیا تھا جس کے نتائج سے سب آگاہ ہیں۔ اس تماش گاہ میں بہتر حکمرانی کے نتیجے میں ہی اداروں کے درمیان چپقلش اور مداخلت کے درواز ے بند ہوسکتے ہیں جس کے لئے کسی گرینڈ ڈائی

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...