کیسا صوبہ، کہاں کا صوبہ؟

کیسا صوبہ، کہاں کا صوبہ؟
کیسا صوبہ، کہاں کا صوبہ؟

  

نئے صوبے کی سیاست عروج پر ہے، جنہیں آخری دنوں میں مسلم لیگ (ن) چھوڑنے پر شرمندہ ہونا چاہئے تھا، وہ صوبہ محاذ کی آڑ میں فخریہ اعلان کررہے ہیں کہ انہوں نے ایک بڑے مقصدکے لئے پارٹی چھوڑی ہے۔

اُدھر تحریک انصاف بھی میلہ لوٹنے کے لئے میدان میں آگئی ہے، صوبہ محاذ والوں کے ساتھ مل کر یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ اب جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا کے دم لیں گے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے، پلے نئیں دھیلہ تے کردی میلہ میلہ، یعنی جیب میں ایک پیسہ نہیں اور شوق ہے میلہ دیکھنے کا۔

اب شاہ محمود قریشی ایک نئی سکیم سامنے لائے ہیں، جو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی آزمودہ سکیم کے مترادف ہے؟ انہوں نے کہا ہے کہ نئے صوبے کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے۔

عوام اس کے حق میں ووٹ دیں تو صوبہ بنادیا جائے۔ ریفرنڈم ہوا تو ایک صوبے کے لئے نہیں ہوگا، وہ تو ملک بھر میں نئے صوبے بنانے کے لئے کرایا جاسکتا ہے، تو کیا اتنا بڑا پنڈورابکس کھولے جانے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ کسی کا دماغ خراب ہے کہ بیٹھے بٹھائے ایک ایسی چنگاری چھوڑے جو بعد میں شعلہ بن کر بے قابو آگ کی شکل اختیار کرجائے۔ مقصد یہی نظر آتا ہے کہ الگ صوبے کا جھانسہ دے کر جنوبی پنجاب کے عوام کو بے وقوف بنایا جائے۔

اُن سے ووٹ لینے کی راہ نکالی جائے، اُس کے بعد کس نے مُڑ کے دیکھنا ہے۔

ابھی کل ہی وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے صوبہ بہاولپور بنانے کی سب سے پہلے حمایت کی۔ یہ ایک بہت پرانی حکمتِ عملی ہے، جو سرائیکی صوبہ، سرائیکستان یا جنوبی پنجاب کے نام سے مطالبہ کئے جانے والے صوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے اختیار کی جاتی ہے، جو جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حامی ہیں اور مطالبہ بھی کررہے ہیں، وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ جنوبی پنجاب کی تقسیم ہو، دوسرے لفظوں میں وہ بہاولپور کو صوبہ بنانے کے قطعاً حق میں نہیں، مگر دوسری طرف محمد علی درانی جیسے بہاولپوری رہنماؤں نے وہاں صوبہ بحالی تحریک شروع کررکھی ہے، وہ کسی طرح بھی مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے کا حصہ بننے پر راضی نہیں۔ وہ صرف صوبہ بہاولپور چاہتے ہیں، آج صوبہ محاذ والے اور شاہ محمود قریشی جن 24اضلاع پر مشتمل الگ صوبہ مانگ رہے ہیں، ایک تہائی تو بہاولپور ڈویژن میں شامل ہیں۔

اب یہ معاملہ کون حل کرے گا؟ بہاولپور صوبہ بحالی تحریک والے اس وقت بھی خم ٹھونک کر سامنے آگئے تھے، جب یوسف رضا گیلانی کے دور میں علیحدہ صوبے کا غلغلہ مچا تھا، اس وقت بھی قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار داد کو بہاولپور صوبہ بحالی تحریک نے مسترد کردیا تھا، کہا یہ جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی یہ سیاسی چال ہے، جو صوبہ جنوبی پنجاب کے مطالبے کو ناکام بنانے کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔

جب بھی جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک زور پکڑتی ہے، بہاولپور کو صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی زور پکڑجاتا ہے۔ یوں یہ بیل منڈھے نہیں جڑھتی، دلچسپ بات یہ ہے کہ سرائیکی قوم پرست جماعتیں یا تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور اب صوبہ محاذ تحریک والے اس مسئلے کا کوئی توڑ نہیں کرسکتے۔ بہت زور لگا تو بات اس نکتے پر آکر اٹک گئی تھی کہ اگر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا ہی ہے تو اس کا دارالحکومت بہاولپور ہوگا۔

اب سرائیکی قوم پرست یہ کڑوی گولی بھلا کیسے نگل سکتے ہیں، اُن کا سارا زور ملتانی زبان و ثقافت کی بنیاد پر ہے بہاولپور والے اپنی تہذیب، زبان کو سرائیکی نہیں ریاستی کہتے ہیں، اگر بہاولپور کو دارالحکومت بنا دیا جاتا ہے تو صدیوں پرانے ملتان کی حیثیت تو وہی ایک نواحی شہر جیسی رہے گی۔ تختِ لاہور سے جان چھڑا کر تختِ بہاولپور میں اٹکنے سے بہتر ہے کہ اسی آزاد حیثیت میں تختِ لاہور کو للکارتا رہے۔

الگ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں سے اگر کوئی پوچھے کہ اس کا نام کیا ہوگا تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں،کیونکہ ابھی یہ پہلو اس قدر متنازعہ ہے کہ کوئی بھی کھل کر صوبے کا نام لینے کو تیار نہیں آج شاہ محمود قریشی کھل کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سرائیکی صوبے کے حق میں ہیں، وہ سرائیکستان کا نام لیتے بھی گھبراتے ہیں، سیاسی جماعتوں اور قوم پرست سرائیکی تنظیموں کے درمیان سب سے بڑا بعد المشرقین ہی یہ ہے کہ وہ کسی ایک نام پر متفق نہیں صوبہ محاذ تحریک اور سیاسی جماعتوں کے قائدین ،جوجنوبی پنجاب کی روز و شب گردان کرتے رہتے ہیں، اسے سرائیکی قوم پرست اپنے لئے ایک گالی قرار دیتے ہیں، ان کے نزدیک انہیں الگ صوبہ اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان کی بنیاد پر چاہئے۔ جنوبی پنجاب تو گویا پھر پنجاب ہی رہے گا، اس میں ہماری شناخت کہاں نظر آئے گی؟

وہ اس بات کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں کہ جنوبی پنجاب اب کثیر اللستان اور کثیر الثقافت خِطہ ہے۔ اس میں صرف سرائیکی زبان بولنے والے نہیں بستے، بلکہ دیگر زبانیں بولنے والوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ تعداد کی بجائے خطے کی تاریخ کو بنیاد بناتے ہیں، جو صدیوں سے سرائیکی تہذیب کا حصہ چلی آ رہی ہے، اب یہ اتنی بڑی تفریق ہے جسے ختم کئے بغیر الگ صوبے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، کیونکہ ایسا ہوا تو یہاں ایک نئی کشمکش شروع ہو جائے گی۔ پھر شاید یہ بھی ہو کہ صوبے کے اندر سرائیکی اور نان سرائیکی آبادی کی تفریق شروع ہو جائے اور بلوچستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں، جہاں نسلی بنیادوں پر کوئٹہ کے مختلف حصے بن چکے ہیں اور قتل و غارت گری انہی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ نام کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مسئلہ مجوزہ صوبے کی حدود کا بھی ہے، جو لوگ پنجاب کے 24 اضلاع پر مشتمل اپنا صوبہ مانگ رہے ہیں، وہ ذرا یہ بھی تو غور کریں کہ صوبے کے کل اضلاع ہیں کتنے؟ایک طرف صوبہ محاذ والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ساڑھے تین کروڑ آبادی کے لئے نیا صوبہ چاہتے ہیں، مگر دوسری طرف وہ 24 اضلاع کی بات کر رہے ہیں۔ میانوالی سے لے کر جھنگ تک جنوبی پنجاب میں شامل کرنا چاہتے ہیں، یہ تو آدھے پنجاب سے بھی زیادہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ حدود کا فیصلہ کسی اتھارٹی کو کرنا چاہئے یا یہ نقشے پر پرکار کی نوک رکھ کر گھمانے کا عمل ہے، کیا صوبہ بنانے کا عمل بھی انتخابی حلقہ بندیوں جیسا ہے کہ جہاں سے چاہو کاٹو اور دوسرے حلقے میں شامل کر دو، کیا اس سے پہلے ان علاقوں کے عوام کی رائے نہیں لی جانی چاہئے، جنہیں نئے صوبے میں شامل کرنا مقصود ہے کہ وہ پنجاب کے ساتھ رہنا چاہتے ہیںیا نئے صوبے کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟ جھنگ کے عوام کو اگر فیصل آباد اور لاہور نزدیک پڑتا ہے تو انہیں زبردستی جنوبی پنجاب کے ساتھ کیسے رکھا جاسکتا ہے۔

میانوالی کا معاملہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ سونئے صوبے کے مطالبے کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے، اُسے عملی جامہ پہنانے میں کئی پیچیدگیاں نظر آتی ہیں، لیکن سیاسی جماعتیں اسے اتنا آسان بناکر پیش کرتی ہیں کہ جیسے کل اجلاس ہوگا اور پرسوں نیا صوبہ بن جائے گا، یہ معاملہ اتنا آسان ہوتا تو اب تک کب کا صوبہ بن چکا ہوتا۔ کوئی اس حقیقت کوواضح نہیں کرتا کہ پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ چار صوبائی اور ایک وفاقی اکائی پر کھڑا ہے۔ آئین کے اس بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لئے صرف قرار دادوں سے بات نہیں بنے گی، اس کے لئے بڑی باریک بینی سے آئینی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لئے ترمیم لانا پڑے گی۔

نئے صوبے کے پورے آئین پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جہاں جہاں چار اکائیوں کا ذکر ہے، وہاں پانچ اکائیاں بنانا پڑیں گی۔ ہوم ورک کئے بغیر صرف سیاسی مقاصد اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے صوبے کا مطالبہ ایک بہت بڑی دھوکہ دہی کی واردات کے مترادف ہے۔ مجھے تو اپنے سمیت جنوبی پنجاب کے بھولے بھالے عوام پر ترس آرہا ہے۔

ایک الگ صوبے کا خواب دکھا کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔ دوسری طرف تخت لاہورپر بیٹھے ہوئے حکمران یہ سوچ کر کچھ دینے کو تیار نہیں ہوتے کہ انہیں نیا صوبہ ملے گا، تبھی ان کے مسائل حل ہوں گے۔تاہم مَیں اپنا فرض ادا کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کے عوام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، جنوبی پنجاب کو کوئی بھی سنجیدگی سے الگ صوبہ نہیں بنانا چاہتا، سب لیپا پوتی کے لئے اس کا نعرہ لگاتے ہیں۔

جس طرح کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہونے دیا جاتا، اسی طرح جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ ہمیشہ ایک سیاسی سٹنٹ رہے گا، تاکہ یہاں کے وڈیرے، جاگیر دار اور سیاستدان بوقت ضرورت اسے اپنی بری کارکردگی کو چھپانے اور سیاسی نعرہ بنانے کے لئے استعمال کرسکیں۔ شاید بہت سے لوگوں کو میری یہ تلخ نوائی پسند نہ آئے، لیکن مَیں کئی دہائیوں سے جو کچھ دیکھتا آیا ہوں، اُس کی بنیاد پراس کے سوا اور کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔

مزید : رائے /کالم