مِشن مکمل!

مِشن مکمل!

14اپریل 2018ء کو علی الصبح امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر شام کے دارالحکومت دمشق پر فضائی اور میزائلی حملہ کر دیا جس سے ساری دنیا میں سنسنی پھیل گئی۔ دنیا کو شائد غلط فہمی تھی کہ روس اور ایران اس کا فوری جواب دیں گے، مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ یعنی دل میں بہت شور برپا تھا لیکن جب چیر کر دیکھا تو خون کا صرف ایک قطرہ نکلا۔۔۔ تاہم دمشق پر اس حملے نے ثابت کر دیا کہ دنیا ابھی قیامت کے لئے تیار نہیں، ابھی روس میں چند حلیم الطبع لوگ موجود ہیں جو ایک ورلڈ پاور ہونے کے باوجود جوش کی بجائے ہوش سے کام لیتے ہیں اور چھچھورے یا جلدباز نہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت روسیوں کو خدا کا منکر سمجھتی ہے اور ایران پر بھی مذہبی شدت پسندی کا لیبل لگاتی ہے لیکن ان دونوں نے تحمل اور بردباری کا ثبوت دے کر فی الحال دنیا کو تیسری اور آخری عالمی جنگ سے بچا لیا ہے!۔۔۔آگے اللہ مالک ہے!!

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ تنہا کسی بھی ملک سے ’’پنگا‘‘ نہیں لینا۔ چنانچہ اس بڑی جنگ کے بعد کوریا، ویت نام، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کے خلاف لشکر کشی میں امریکہ، جنگ میں کبھی اکیلا نہیں کودا۔

اب اس دمشق پر حملے میں بھی آپ دیکھ لیں، امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کو ساتھ ملا کر یکبارگی اور اجتماعی حملہ کیا ہے۔ لیکن اس حملے کا دورانیہ صرف چند منٹ تھا جس کے دوران امریکہ نے 100اور 130 کے درمیان ٹام ہاک میزائل فائر کئے اور ساتھ ہی برطانوی اور فرانسیسی طیاروں نے پہلے سے منتخب کئے گئے اہداف پر فضائی حملے کئے۔ ان حملوں کا ہدف دارالحکومت دمشق کے تین محدود رقبے والے علاقے تھے جہاں اتحادیوں کے مطابق شام نے زہریلی گیس کے بم، ذخیرہ کر رکھے تھے اور ایک بم ساز کارخانہ بھی وہاں تھا۔

تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ صرف چند گودام اور اس سے ملحق عمارتیں وغیرہ ہٹ (Hit) کی گئیں اور مشن مکمل ہو گیا! ۔۔۔کوئی کولیٹرل نقصان نہیں ہوا۔شام کو پہلے سے معلوم تھا کہ امریکہ ان عمارتوں کو ٹارگٹ کرے گا اس لئے کئی روز پہلے ان کو خالی کرا لیا گیا تھا۔ اور ان میں اگر کوئی زہریلی گیس رکھی بھی ہوئی تھی تو وہ وہاں سے منتقل کر دی گئی تھی۔

ان تینوں حملہ آوروں کا یہ حملہ ایک علامتی اور آزمائشی حملہ بھی تھا۔ اتحادیوں کو اس بات کا جائزہ لینا مقصود تھا کہ روس اور ایران اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس حملے سے پہلے روس نے دھمکی دی تھی کہ اگر دمشق پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔

زہریلی گیسوں کا جنگ میں استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ یہ گیسیں 19ویں صدی کی جنگوں میں بھی استعمال ہوتی تھیں۔ ان سے اگرچہ موت واقع نہیں ہوتی لیکن متاثرہ انسان کا دم گھٹنے لگتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

اس کا توڑ یہ ہے کہ متاثرہ حصہء جسم پر پانی کی بالٹی انڈیل دی جائے یا ناک اور منہ پر مصنوعی عملِ تنفس کا ماسک چڑھا دیا جائے جو سرجیکل سٹوروں پر عام دستیاب ہوتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس جو آنسو گیس استعمال کرتی ہے اس سے موت واقع نہیں ہوتی لیکن ایک محدود عرصے کے لئے متاثرہ شخص بے بس ہو جاتا ہے، احتجاجی نعروں کے ’’گلا پھاڑ شور‘‘ سے ایک مختصر وقت کے لئے نجات مل جاتی ہے اور ہجوم بے بس ہو کر تتر بتر ہو جاتا ہے۔

لیکن اس قسم کی گیس یا گیسیں صرف پولیس کے پاس ہوتی ہیں، ریگولر افواج یا نیم مسلح فورسز کو یہ گیسیں ایشو نہیں کی جاتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1899ء میں ہیگ کنونشن نے، 1919ء میں لیگ آف نیشنز نے اور 1946ء میں اقوام متحدہ نے ان گیسوں کا استعمال انسانی ہمدردی کی بناء پر کسی بھی لیول کی جنگ میں ممنوع قرار دے دیا تھا۔۔۔ بندہ ’’انسانی ہمدردی‘‘ کے ان مغربی ٹھیکے داروں سے یہ پوچھے کہ ان عارضی اثرات والی گیسوں کا استعمال تو روک دیا گیا لیکن کیا کسی اقوام متحدہ نے ایٹم یا ہائیڈروجن بموں کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا؟۔۔۔ آپ کے پاس اگر جوہری بم ہے تو آپ اسے جنگ میں جب چاہیں بے دریغ استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ کو کھلی چھٹی ہے۔۔۔آج دنیا کے نو ملکوں کے پاس جوہری بم موجود ہیں (امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، اسرائیل، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا) اور ان کا مجموعی ٹوٹل 20ہزار بنتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کرۂ ارض کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کئے صرف 10،12ہائیڈروجن بم ہی کافی ہیں جبکہ ان نو ممالک میں اکثروں کے پاس (ان میں پاکستان شامل نہیں) جوہری بموں کے علاوہ زہریلی گیسوں کے سینکڑوں ہزاروں ڈرم بھی موجود ہیں۔ بندہ پوچھے یہ ڈرم کس انسانی ہمدردی کے لئے رکھے ہوئے ہیں؟۔۔۔اگر کوئی بڑی عالمی طاقت ان ڈرموں کا ذخیرہ کر لے تو جائز لیکن کوئی غیر جوہری ملک اگر ان گیسوں کو اپنے ہاں تیار یا ذخیرہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ ناجائز، بلکہ گردن زدنی ٹھہرے!۔۔۔آپ کو معلوم ہے کہ شام سے پہلے عراق پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا اور اس کو برباد کر دیا گیا تھا اور اب شام کو بھی اسی الزام میں دوسرا نشانہ ء عبرت بنایا جا رہا ہے۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ،شام کی موجودہ حکومت (Regime) کو تبدیل کرکے ایک نیا حکومتی سیٹ اپ لانا چاہتے ہیں۔ اس خواہش میں ان کے ساتھ کئی ایشیائی عرب ممالک بھی شامل ہیں جن کے ناموں سے ہم سب واقف ہیں۔ امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ شام اپنی حکومت کے باغیوں پر زہریلی گیسوں سے حملے کرتا ہے مگر اس کا کوئی ثبوت ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا۔

شام، روس اور ایران کا موقف ہے کہ یہ کام دراصل امریکہ اور اس کے حواری خود کر رہے ہیں اور نام شام کے بشارالاسد کا لیا جا رہا ہے جو ایک یزدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شام پر امریکی حملے فروری 2011ء سے جاری ہیں اور آج ان کو سات برس ہو رہے ہیں۔ اس بدنصیب اسلامی ملک کا سارا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔

اس کی آدھی آبادی ترکِ وطن کرکے دوسرے ممالک میں جا کر ذلیل و خوار ہو رہی ہے اور باقی آدھی کی اکثریت اس سات سالہ جنگ کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ تین سال پہلے روس کو بھی اس پراکسی وار میں کودنا پڑا تھا۔ جب روسی فوجی انطاکیہ اور طرطوس میں آ گئے تھے تو امریکی فوج کو کسی تازہ کارروائی سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑا تھا۔

خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ روس اور امریکہ آپس میں دوبدو نہ ہو جائیں۔ اوباما کے دور تک یہ ڈیٹرنس برقرر رہا لیکن اب جنابِ ٹرمپ مسند آرائے حکومت ہیں جن کی سات پشتوں نے نہ کبھی سیاست میں حصہ لیا اور نہ کسی چھوٹی بڑی جنگ کا ’منہ‘ دیکھا۔

اب وہ بطورِ صدر یکے بعد دیگرے ایسی غلطیاں کرتے چلے آ رہے ہیں جو ان کے دامنِ عقلِ سلیم (Common Sense) کو داغدار کر رہی ہیں۔۔۔ اب آپ دارالحکومت دمشق پر اس حملے کو ہی دیکھ لیں جو عاقبت نا اندیشی کی انتہا ہے۔ امریکی فوج آج بھی شام میں ہے۔ شام کی شمالی سرحد، ترکی سے ملتی ہے اور جنوبی حصہ اردن سے۔ ترکی تو ناٹو کا رکن ہے اور اردن عربوں کا ساتھ دے رہا ہے۔

دارالحکومت دمشق کے شمال میں باغیوں کی ایک بڑی اور طاقتور تعداد جمع تھی جس کو حال ہی میں وہاں سے نکال کر حکومت کی رِٹ بحال کی گئی ہے۔ یہ صورتِ حال امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ناقابلِ قبول تھی اس لئے ’’گیس اٹیک‘‘ کا ڈرامہ رچایا گیا۔

جس طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں بارہ کہو اور فیض آباد کے علاقے واقع ہیں تقریباً اسی طرح اور اسی دوری پر شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں ’’دوما‘‘ کا وہ قصبہ واقع ہے، جو دو ہفتے پہلے تک باغیوں کا گڑھ تھا اور جہاں حکومت کے باغیوں کو امریکہ، اس کے مغربی اتحادیوں اور بعض عرب ممالک کی عسکری حمائت اور مالی امداد حاصل تھی۔

جب دوما ان کے ہاتھ سے نکلنے لگا تو امریکہ نے یہ چال چلی کہ اسرائیل کی طرف سے اس پر گیس اٹیک کروا دیا۔ زہریلی گیسوں میں مسٹرڈ گیس، سارین گیس اور فوسجین گیس، بڑی زہریلی ،زود اثر اور نامراد قسم کی گیسیں ہیں۔

دوما میں امریکی اور یہودی فوٹو گرافر بھی بلوا لئے گئے جنہوں نے گیس زدہ آبادی کی وڈیوز بنا کر ساری دنیا میں پھیلا دیں اور مشہور کر دیا کہ یہ حملہ دمشق نے کیا ہے۔۔۔ فوری طور پر سلامتی کونسل کے اجلاس بلائے جانے لگے۔

لیکن امریکی قرارداد کو روس نے اور روسی قرارداد کو امریکہ نے ویٹوکر دیا اور فیصلہ ہوا کہ ایک ایسا وفد دمشق بھیجا جائے جس میں ان گیسوں کے زہریلے اثرات کا جائزہ لینے والے ماہرین شامل ہوں۔ یہ وفد ابھی شام پہنچا بھی نہ تھا کہ 14اپریل کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر یہ حملہ کر دیا۔

ان تینوں حملہ آور ملکوں کا استدلال عجیب و غریب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آج اگر شام اپنے علاقوں اور آبادیوں پر یہ گیسیں استعمال کر رہا ہے تو کل کلاں کسی یورپی ملک یا امریکہ کے خلاف بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اسی مفروضے نے ان تینوں ملکوں کے اربابِ اختیار کے دلوں میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے اور ان کو لرزہ براندام کر رکھا ہے۔

اضطراب و اضطرار کی اسی کیفیت نے ان مغربی ملکوں کو شام کے خلاف ایکشن لینے پر اکسایا اور یہ نہیں سوچا کہ اس کا ردعمل دوسرے فریق کی طرف سے کیا آئے گا۔۔۔ لیکن فی الحال دوسرا فریق چپ ہے۔

دیکھیں اس کی طرف سے اس ایکشن کا ری ایکشن کیا آتا ہے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعہ پر جو بیان دیا ہے، وہ بڑا سوچا سمجھا اور ایک جوہری قوت کے شایانِ شان ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جن زہریلی گیسوں کا استعمال اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں نے ممنوعہ قرار دیا ہوا ہے اس پر عمل کرنا چاہیے۔

دوسرے لفظوں میں پاکستان نے شام پر اس حملے کو مشروط سپورٹ دی ہے اور آج کی بین الاقوامی صورتِ حال میں پاکستان کو یہی کرنا چاہیے تھا!

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...