پھول قطار اندر قطار طبیعتوں میں حِلم پیدا کرتے ہیں

پھول قطار اندر قطار طبیعتوں میں حِلم پیدا کرتے ہیں

مارچ کا آخری ہفتہ اور اپریل کا مہینہ اُس موسم کا ہوتا ہے جس میں مختلف النوع پھول اپنی بناوٹوں، دلکش رنگوں اور اپنی نزاکت کی جھلک سے دیکھنے والوں کی آنکھوں کے راستے سیدھے اُن کے دِل میں اُتر جاتے ہیں۔ سبھی پھول اپنی مخصوص خوشبو رکھتے ہیں۔کچھ خوشبوئیں تیز ہوتی ہیں اور کچھ مدہم،لیکن خوبصورتی سبھی کی اپنی جانب کھینچتی ہے۔پھولوں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی،لیکن جتنا عرصہ بھی وہ اپنی بہار دکھلاتے ہیں، سارا منظر اُن کی دلربائی کے جادو سے جھلملاتا رہتا ہے۔قدرت بہترین تخلیق کار ہے۔اُسی کے علم میں ہے کہ درختوں کے پھولوں کو کیا رنگ دینے ہیں اور پودوں کے پھولوں کو کون سا ڈیزائن اور رنگ دینا ہے۔ پھولوں میں اِس قدر کشش پائی جاتی ہے کہ بچے، جوان اور بوڑھے سب ہی اِن کی طرف لپکتے ہیں اور کانٹوں کا خیال بھی نہیں کرتے جو پھولوں کی بعض اقسام کے ساتھ اُگے ہوتے ہیں۔پھول قدرت کی جانب سے انسان کی جمالیاتی حس کے لئے ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ پھول تحفے کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں،بالوں اور گلے کا سنگھار بنتے ہیں،غمزدہ دِلوں اور پُرکیف ایام، تہواروں اور تقریبوں کا حصہ بنتے ہیں۔پھولوں کے بھرپور کِھل اٹھنے پر ان کی نمائشوں کا اہتمام ہوتا ہے جن میں لوگ دوستوں، ساتھیوں اور اہل خانہ کے ہمراہ شرکت کرتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔پھولوں کی نمائش کرنے والے بھی اپنے کام میں ماہر ہوتے ہیں اِس لئے پھولوں کو گملے، گلدان، قطعے اور کیاریوں میں اس ہنر مندی اور فنکاری کے ساتھ ترتیب دیتے ہیں کہ دیکھنے والوں پر ماحول کا طلسم حاوی ہو جاتا ہے۔

پھول انسانی قلب میں راحت، سکون، خوشی اور امید بھر دیتے ہیں۔پھولوں سے الفت کسی ایک خطے تک محدود نہیں،بلکہ پوری دُنیا پھولوں پر فریفتہ ہے۔کوئی ارضی ٹکڑا ایسا نہیں، جہاں پھولوں کے شائقین موجود نہ ہوں۔پھولوں نے صرف زمین پر اپنی حکومت قائم نہیں کررکھی،بلکہ برف پوش پہاڑوں اور سمندروں کی تہوں میں اپنے وجود کا جادو جگا رکھا ہے۔وادئ جنت نظیر کشمیر اور پن چکیوں کے دیس ہالینڈ میں گلِ لالہ (Tulips) مختلف رنگوں میں جب کھلتے ہیں تو حدِ نگاہ تک قوسِ قزح زمین پر مانندِ صف بچھ جاتی ہے۔ دیو مالائی قصوں سے لے کر جدید دُنیا کی مختصر کہانیوں میں پھولوں نے اپنی اہمیت کا سحر قائم رکھا ہے۔نامور برطانوی ادیب آسکر وائیلڈ کی مختصر کہانی گلاب اور بلبل(The Rose and the Nightingale) ایک لازوال داستان ہے۔پھول صرف انسانی نگاہ ہی کو نہیں گرماتے،انسانی بدن کو بھی اپنے ادویاتی اجزاء سے صحت مند اور توانا رکھتے ہیں۔کھانے کو لذت بخشتے اور خوراک کا جزو بنتے ہیں۔

گزرتے ہوئے اِن دِنوں میں پھول اپنے جوبن پر ہیں۔ پھول چونکہ ہریالی کے ماڈل ہیں اِس لئے قدرت کی ریمپ واک پر ان کا ظہور دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتا ہے۔ان کے پیرہن رنگوں کے ایسے ایسے امتزاج لئے ہوتے ہیں کہ کپڑوں کے ڈیزائنر جن سے سدا بہار خیال اور پائیدار تصور حاصل کرتے ہیں۔

افسوس کہ پھولوں کی عمرزیادہ نہیں ہوتی تاہم جتنا عرصہ وہ کھلتے اور انسانی نگاہ کا مرکز بنے رہتے ہیں، اپنا فسوں قائم رکھتے ہیں۔ پھولوں سے محبت کرنے والے اپنے قلوب میں درحقیقت حلم اور عجز اور رحم کے جذبات کہیں زیادہ رکھتے ہیں۔وہ لوگ یقیناً بُرے بخت والے ہیں جو پھولوں سے پیار نہیں کرتے۔

مجھے بچپن ہی سے پھول بہت بھاتے ہیں، پھول چونکہ موسم بہار کا ہر اول دستہ ہیں اِس لئے بہار کی آمد کی اطلاع سے سبھی کِھل اُٹھتے ہیں۔ مجھے بہت بھلا لگتا ہے جب مَیں اپنی مہربان خواتین اور مہمانانِ خصوصی کو پھولوں کے گلدستے پیش کرتی ہوں۔پھول نرمی،لطافت، محبت اور اُنس کی علامت اور زندگی کی رعنائیوں کا سندیسہ ہیں۔ پھول گھر کی کھڑکی کی سِل پر گملوں میں لگے ہوں یا بیابان میں ستون نما تھوہر کے پھننگ پر اُگے ہوں، فوری توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اِن پر پڑنے والی پہلی نظر ہی دِل میں لطیف جذبوں کے تار ہلاتی ہے اور اس ذاتِ بے ہمتا کی تعریف کرنے پر ابھارتی ہے جو احسن الخالقین ہے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...