برطانیہ کے دار الحکومت لندن کو سیکیورٹی رسک قرار دیا جانے لگا

برطانیہ کے دار الحکومت لندن کو سیکیورٹی رسک قرار دیا جانے لگا

برطانیہ جوانسانی حقوق کا علمبردار ہے کو دنیا کا سب سے بڑا سیکیورٹی رسک قرار دیا جا رہا ہے60 لاکھ سے زائد سیکورٹی کیمرے نصب ہونے کے باوجود ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کیمروں کے جال ہونے کے باوجود قتل وغارت گری کی وارداتوں میں شدت پسندوں کے حملے بند ہونے کا نام نہیں لے رہے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ ریکارڈ کرنے ‘ ڈرون کیمرے ‘ سادہ لباس والے اہلکاروں کے کیمروں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جوسیکیورٹی کیمروں سے الگ ہیں 11 ستمبر 2001 اور اس کے بعد 2005 میں لندن کی میٹرو میں ہونے والے دھماکے کے بعد برطانیہ کے مختلف شہروں میں نگرانی کرنے والے کیمروں اور دوسرے جاسوسی آلات کی تنصیب میں زبردست اضافہ کیا گیادنیا کے ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے چمپیئن ملک برطانیہ کے دار الحکومت لندن نے جرائم کے معاملے میں نیویارک کو پیچھے چھوڑ دیا تاریخ میں پہلی بار لندن میں قتل کی وارداتیں نیویارک سے بڑھ گئیں 2018 میں لندن میں مجموعی طور پر52افراد کو چاقو ‘ فائرنگ کے نتیجے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیامارچ میں برطانوی دارالحکومت میں چاقو اور فائرنگ سے ہلاکتوں کے 22 واقعات پیش آئے اسی ماہ کے دوران نیویارک میں قتل کی 21 وارداتیں ہوئیں لندن اور نیویارک دونوں ہی شہروں کی آبادی تقریباً مساوی ہے دونوں شہروں میں تقریبا 85 لاکھ شہری بستے ہیں1990کے بعد سے نیویارک میں قتل کی وارداتوں کی شرح میں 87 فی صد کمی آئی ہے اس کے برعکس لندن میں پچھلے تین سال کے دوران قتل کے واقعات 40 فی صد تک بڑھے ان میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں ہیں برطانیہ کے حساس اداروں کے مطابق سروے میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ 2018میں 180سے زائد افراد قتل ہو سکتے ہیں 13ہفتوں میں 31افراد قتل کیے گئے اگر ان پر فوری طور پر قابونہ پایا گیا تو لندن ایک غیر محفوظ دار الحکومت کے طور پر دنیا میں بدنام ہو سکتا ہے پہلے تین ماہ میں 47افراد جبکہ ایک ہفتے میں تین افراد کو قتل کیا گیا میٹرو پولیٹن پولیس نے جو اعدادو شمار جاری کیے ہیں اسکے مطابق 2005میں 181افراد قتل ہوئے تھے جبکہ 2017میں لندن میں 116افراد کو قتل کیا گیا 2018کے پہلے ماہ جنوری میں 8افراد فروری میں 15اور مارچ میں 22افراد قتل ہوئے جبکہ اسکے مقابلے میں نیویارک میں 21افراد کو قتل کیا گیا ستمبر 2017تک چاقو کے ساتھ حملہ کر کے زخمی کرنے کی 37ہزار 443اور ہتھیار کے ساتھ زخمی کرنے کی 6ہزار 694وارداتیں ہوئیں نقاب پوش شدت پسند بلا وجہ اور کسی دشمنی اور رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر اچانک حملہ کر کے بیدری کے ساتھ اپنا شکار دبو چ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں برطانیہ میں خواتین کے ایک گینگ نے سرعام تشدد کرکے 18 سالہ مسلمان لڑکی کو بہیمانہ طور پر قتل کردیا ہے اہم شہر ناٹنگھم میں خواتین کے گینگ نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے دن دہاڑے مسلمان لڑکی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اسکی موت ہو گئی مقتولہ مریم مصطفیٰ کا تعلق مصر سے تھا جو کہ بیسٹن میں سینٹرل کالج میں انجینئرنگ کی طالبہ تھی مریم مصطفیٰ پر ناٹنگھم میں وکٹوریا شاپنگ سینٹر کے باہر خواتین کے گینگ نے حملہ کیا اور اس کے سر پر لاتیں اور مکوں کی بارش کردی، حملے کے بعد مریم کو ناٹنگھم کے سٹی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ایک ماہ تک کوما میں رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی مقتولہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ مریم کو چار ماہ قبل بھی اسی گینگ نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑی تھی، اس حملے کی شکایت پولیس کو کی گئی تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے بعد دوسری بار خواتین گینگ نے بیٹی پر حملہ کیا جو جان لیوا ثابت ہواگوجرخان کے رہائیشی پاکستانی نژاد نوجوان نبیل کو برطانیہ میں دن دیہاڑے قتل کر دیا گیاپاکستان کی تحصیل گوجر خان کا رہائشی نبیل کچھ عرصہ سے بسلسلہ روزگار برطانیہ میں مقیم تھا جسے نامعلوم افراد کی طرف سے نشانہ بنایا گیابچوں کوجرائم سے دور رکھنے پر ایک جوانسالہ لڑکی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا 17سالہ لڑکی تانیشا میلبورن کو منشیات فروشوں نے کمسن بچوں سے دور رہنے کی ہدایت کرنے پر طیش میں آ کر فائرنگ کر کے نشانہ بنایا مقتولہ اپنی ماں کی گود میں گری اور وہیں دم توڑ دیا منشیات فروشوں کے اس حملے کے نتیجہ میں 2لڑکے بھی شدید زخمی ہوئے ایک لڑکے کو گولی جبکہ دوسرے کو چاقو ما کر شدید زخمی کیا گیا پولیس کے مطابق یہ واقعات منشیات فروشوں کے گروہوں کی باہمی رقابت کا نتیجہ ہے برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں قتل کی سب سے زیادہ وارداتیں رونما ہو رہی ہیں پولیس نے رواں سال 52 افراد کے قتل کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تازہ ترین واقعہ میں مشرقی لندن کے علاقہ ہیکنی میں بیس سالہ نوجوان کو چاقو کے وار سے قتل کیا گیااس کے چند گھنٹوں بعد ایک 50 سالہ شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی پولیس کیلئے انتہائی پریشان کن رہی اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات میں تاحال کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی برطانیہ کے علاقے راچڈیل میں کرسمس کے روز پاکستانی نژاد برطانوی شہری محمد آفتاب کو نامعلوم حملہ آوروں نے سینے اور گردن پر چاقو کے کئی وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا 21سالہ محمد آفتاب کی نہر کے کنارے سے نعش برآمد کی گئی برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے مسلمان ہونے والی آبادی کا 66 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے چند برسوں میں اسلام قبول کرنیوالوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ بنیادں پرستوں کو ہضم نہیں ہو رہے اسلام قبول کرنے والے اکثریت سفید فام نوجوان خواتین کی ہے جو معاشرے کی بے راہ روی اور مادہ پرستی سے سخت نالاں ہیں یہ خواتین روحانی سکون کی تلاش میں تھیں جو انہیں اسلام میں ملا ہے برطانیہ میں کثیرالمذہبی تنظیم فیتھ میٹرزکے مطابق برطانیہ میں اسلام تیزی سے فروغ پارہا ہے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سالی لورین بوتھ نے جب اسلام قبول کیا تو اس کے بعد بھی دین اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کا رجحان بڑھا اور برطانوی ذرائع ابلاغ میں اس کا بہت چرچا ہوا03اپریل 2016 کو برطانوی حکام کی طرف سے ایک اہم فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق مسلمان مخالف جرائم کو جرائم کے اعداد و شمار میں علیحدہ درجے پر رکھاجائیگا اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کتنے مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد جنہیں نشانہ بنایا گیا ہو کا بھی حساب رکھا جائے گااس فیصلے کو ان مسلمان گروہوں کی حمایت حاصل ہے اس منصوبے پر کسی حد تک عمل درآمد جاری ہے برطانیہ میں 23 جون کو یورپی یونین چھوڑنے کے لیے ووٹ دیا گیا تھا اور بریگزٹ کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم نے ملک بھر میں نسل پرستی کو ہوا دی ہے، جس میں امیگریشن ایک اہم مسئلہ تھا ملک کے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد سے ملک بھر میں نفرت پر مبنی جرائم کی شرح بڑھنے لگی ہے پولیس کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بریگزٹ کے ووٹ کے بعد سے ملک بھر میں نفرت اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر کئے جانے والے جرائم جاری ہیں اور صرف 1 مہینے میں تارکین وطن اور یورپی باشندوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے 6000 سے زیادہ کیسز سامنے آئے جن میں نسلی تعصب کی بنیاد پر اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص تارکین وطن اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیابریگزٹ یعنی یورپی یونین چھوڑ دو مہم پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بریگزٹ سے ملک میں اجنبیوں کے ساتھ بیزاری بڑھی ہے جبکہ ریفرنڈم سے صرف ایک ہفتے پہلے اپوزیشن جماعت لیبر کی ایک سیاست دان اور خاتون رکن پارلیمان جو کوکس، جو "ریمین" یعنی یورپی یونین میں رہنے کی حامی تھیں انہیں شمالی برطانیہ میں ان کے حلقے میں چاقو سے حملے اور گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...