سٹی کورٹ میں آتشزدگی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی

سٹی کورٹ میں آتشزدگی کئی سوالیہ نشان چھوڑ گئی

کراچی سٹی کورٹ کے مال خانے میں لگنے والی آگ نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے ۔مال خانے میں آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی 3بارآگ لگنے کے باعث اہم ریکارڈ جل کر خاکستر ہوچکے ہیں اور اس حوالے سے کوئی تحقیقات بھی سامنے نہیں آئی تھیں ۔سٹی کورٹ کے مال خانے میں آگ لگنے کا یہ تازہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا جب اچانک ہی مال خانے میں آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو ادارے اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور آگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا۔ مال خانے میں موجود اسلحہ، گولیاں اور بارودی مواد آگ کی شدت سے پھٹنا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن کو روک کر تمام رضاکاروں کو سٹی کورٹ کے احاطے سے باہر نکال دیا گیا۔ اس دوران مال خانے میں موجود بارودی مواد کے دھماکوں سے علاقہ لرزتا رہا۔ مال خانے میں آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ایڈیشنل آئی جی مشتاق مہر اور ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان بھی موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو، فائر بریگیڈ کے کام کا معائنہ کیا۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے شہر بھر کی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب کرلی گئیں جنہوں نے چھ گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پالیا مگر کچھ ہی دیر بعد آگ پھر بھڑک اٹھی۔مال خانے کی عمارت کی چھت کا ایک حصہ ریسکیو آپریشن کے دوران گر گیا اور واقعہ کے وقت سٹی کورٹ کی بجلی بھی بند کردی گئی تھی۔ آتشزدگی کے باعث عدالتی امور ٹھپ ہوگئے اور اپنے مقدمات کے لیے آنے والوں کو واپس جانا پڑا۔ چیف فائر آفیسر تحسین صدیقی کے مطابق مال خانے میں کیس پراپرٹی جل کر خاکستر ہوگئی ہیں،بارودی مواد اور اسلحے کی موجودگی کی وجہ سے دھماکے ہوئے ہیں مذکورہ آگ کو بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور 2 اسنارکل نے حصہ لیا ۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے فوراً بعد پولیس کے افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔ مال خانے کی دیواریں مضبوط ہیں چھت کمزور تھی جس کا ایک حصہ منہدم ہوگیا ہے۔سٹی کورٹ کا مال خانہ پرانا تعمیر شدہ ہے، آتشزدگی کے بعد نقصان کا تعین کیا جارہا ہے اور آگ لگنے کے وقت مال خانے میں کوئی بھی اہلکار موجود نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بظاہر لگتا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے مال خانہ شام 4 بجے بند ہو جاتا ہے، فوری طور پر نقصان کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ عدالت میں پیشی پر آنے والوں کی اشیا یہاں رکھی جاتی ہیں، اسلحہ اور گولہ بارود ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔مال خانے میں ضلع ملیر کے علاوہ تمام ضلعوں کا سامان موجود ہے، سٹی کورٹ کے مال خانے میں اس سے پہلے بھی آتشزدگی کے واقعات ہو چکے ہیں دیکھنا ہوگا اس مرتبہ آتشزدگی سے کن اہم مقدمات کے شواہد ضائع ہوئے ہیں۔ پولیس تمام تر واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔ایس ایس پی سٹی شیراز نذیر کے مطابق مال خانے کے دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا اور آگ رات 2 سے 3 بجے کے درمیان لگی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مال خانے کے ساتھ ہی سٹی کورٹ تھانہ واقع ہے اور مال خانے کے عملے کے مطابق تالہ لگنے کے بعد مال خانے میں کوئی نہیں گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق واقعہ تخریب کاری نہیں تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ آزاد خان نے بتایا کہ مال خانے میں آتشزدگی کے باعث ڈسٹرکٹ ساؤتھ اور ایسٹ کا ریکارڈ جلا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مال خانے میں موجود ڈسٹرکٹ سینڑل، ملیر اور ویسٹ کا ڈیٹا محفوظ ہے۔آزاد خان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ کی جیوفینسنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ کیس پراپرٹی کی چھان بین کے لیے الگ ٹیم تشکیل دی جائے گی اور کس تھانے کا کتنا ریکارڈ جلا ہے اس کے تخمینے کے لیے بھی الگ ٹیمیں ہوں گی۔ذرائع کے مطابق آگ لگنے سے مال خانے میں ہزاروں مقدمات کی کیس پراپرٹی جل گئی، کروڑوں روپے مالیت کا سونا،چاندی اورزیورات بھی جل گئے،دستی بم،اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی مال خانے میں موجود تھا۔ وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے سٹی کورٹ مال خانہ میں مبینہ آتشزدگی کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کوواقعہ کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے احکامات جاری کیے ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ مؤثر اور مربوط تفتیش کے اقدامات کی بدولت حقائق کو سامنے لایا جائے۔سٹی کورٹ کے مال خانے میں آتشزدگی کے حوالے سے بہت سے حلقے اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں ۔اس ضمن میں خصوصی طور پر وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ مال خانے میں تواتر کے ساتھ آتشزدگی کے واقعات نے معاملات کو پراسرار بنادیا ہے ۔کراچی بارایسوسی ایشن کے سابق صدر محمودالحسن کا کہنا ہے کہ کیس پراپرٹی نہ ہونے سے مقدمات پر اثر پڑے گا اورسب سے زیادہ فائدہ سنگین نوعیت کے ملزمان کوہوگا۔محمود الحسن کے مطابق چاروں اضلاع کی کیس پراپرٹی سٹی کورٹ کے مال خانے میں ہوتی ہے جبکہ نارکوٹکس کورٹ، اے ٹی سی کا بھی مال یہیں ہوتا ہے۔مال خانے کے برابر میں لائبریری بھی ہے، آگ جب بھی لگی ہے مال خانے میں لگی ہے۔کراچی بار کے صدر حیدر امام رضوی نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے آگ لگنے کے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک جج سے واقعے کی انکوائری کرائی جائے،پہلے بھی مال خانے کو منتقل کرنے کا کہاتھا، کیس پراپرٹی کے بغیر مقدمات کمزور ہو جائیں گے، شکر ہے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعہ کی شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔ ذرائع کے مطابق سٹی کورٹ کے مال خانے میں 2500 سے زائد سنگین مقدمات کے اہم ثبوت جلا دیے گئے، آگ لگنے سے کیس پراپرٹی خاکستر ہوگئی ،۔ تفتیشی افسران شواہد عدالتوں میں پیش نہیں کر سکیں گے جس کے باعث متحدہ اور گینگ وار دہشت گردوں کو فائدہ ہوگا اور ان کو سزائیں نہیں دی جاسکیں گی، اس طرح تمام گرفتار خطرناک دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی رہائی کا امکان ہے۔ مال خانے میں آتشزدگی سے شہر کا امن داؤ پر لگ گیا ہے۔ مال خانے کے انچارج اے ایس آئی شکیل مرزا نے بتایا کہ شہر بھر سے کئی سالوں کے دوران گرفتار ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا دھماکہ خیز مواد سمیت اسلحہ و دیگر سامان مال خانے میں جمع ہوتا ہے اور اس مال خانے میں کئی سال پرانا دھماکا خیز مواد اسلحہ اور دیگر شواہد موجود تھے ۔ایک ماہ قبل سٹی کورٹ پولیس کے ڈی ایس پی سعید رند نے مال خانے کا دورہ کیا تھا اس دوران خودکش جیکٹوں، ،آوان گولے،بال بم،دستی بم،100سے زائدراکٹوں،اور ڈھائی سے تین من بارودی مواد،دیکھ کر انہوں نے کہا تھا کہ ان سب کو یہاں سے دوسری جگہ منتقل کراؤانہوں نے اس حوالے سے سفارشات مرتب کرکے رپورٹ آگے بھی بھیجی تھی ،تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہوا ، ذرائع نے بتایا ہے کہ مال خانے میں ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے بم، بارودی مواد، ہتھیار، گولیاں، منشیات، سونا چاندی، نقدی، خون آلود کپڑے، آلہ قتل اور فائلیں موجود تھیں۔ زرائع نے دعوی کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں امن وامان کے قیام کے لیے انتھک محنت سے جن دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا عدالتوں میں ان کے مقدمات چل رہے تھے اور مال خانے میں آگ لگا کر ایسے سنگین مقدمات کے ثبوت مٹادیے گئے ہیں۔ زرائع کا کہنا ہے کہ جل کر خاکستر ہونے والے سامان میں سانحہ طاہر پلازہ،چکرا گوٹھ،سانحہ12مئی، سانحہ سندھ محبت ریلی، سمیت دیگر دہشت گردی کے سنگین دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزمان سے برآمد ہونے والا اسلحہ بھی شامل ہے ۔ ثبوت نہ ہونے سے کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں سمیت ایم کیو ایم اور لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والے خطرناک دہشت گردوں کی رہائی ممکن ہو جائے گی اور یہ دہشت گرد آزاد ہو کر پھر سے شہر کا امن تباہ کر سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مال خانے میں 500 سے زائد قتل کے مقدمات کے جائے وقوع سے ملنے والے خون آلود کپڑے اور آلہ قتل بھی جل گئے ہیں جس کے باعث قتل کے مقدمات کی سماعت میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ چاروں اضلاع کی عدالتوں میں کراچی آپریشن کے دوران پکڑے جانے والے متحدہ، لیاری گینگ وار، اے این پی، کالعدم قوم پرست جماعتوں، کالعدم تحریک طالبان، القاعدہ سمیت دیگر گروپوں کے دہشت گردوں کو سخت سیکورٹی میں لایا جاتا ہے، کیس پراپرٹی جلنے سے خطرناک ملزمان کو فائدہ پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ، لیاری گینگ وار اور کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی جانب سے ملنے والا اسلحہ بھی مال خانے میں موجود تھا جو آگ لگنے کی وجہ سے جل کر خاکستر ہوگیا۔ گرفتار دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد تفتیشی افسران کورٹ میں پیش نہیں کرسکیں گے جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو سنگین کیسوں میں فائدہ پہنچے گا۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ پہلے ہر تھانے کا اپنامال خانہ ہوتا تھا اور اور مال خانے کی تمام ذمہ داری متلقہ تھانے کی ہوتی تھی انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ فائدہ تھا کہ اگر کسی بھی تھانے کے مال خانے میں آتشزدگی کا کوئی واقعہ ہوتا بھی تو ایک تو صرف اسی تھانے مال خانے میں موجود سامان کا مقصان ہوتا اور پھر تھانہ جوابدہ بھی ہوتا یہاں تو تمام ضلعوں کے تھانوں کا مال ایک ہی جگہ اکھٹا کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔وکلا کے تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ آتشزدگی کے واقعہ کی سنجیدہ نوعیت کی انکوائری کرائی جائے اور ماضی کی طرح اس معاملے کو سرد خانے کی نذر نہ کیا جائے ۔ان وجوہات کو جاننا انتہائی ضروری ہے جس کی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔اگر دانستہ طور پر یہ حرکت کی جارہی ہے تو اس کے پس پردہ محرکات کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔وکلاء کا یہ مطالبہ بھی بالکل جائز ہے کہ مال خانے کے مقام کو تبدیل کیا جائے اور کسی محفوظ مقام پر اس اہم نوعیت کے دستاویزی ریکارڈ اور سامان کو رکھا جائے جو عدالتی کارروائی میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2