ٹرمپ انتظامیہ مافیا ہے ، صدارت کیلئے اخلاقی اعتبار سے غیر موزوں ، امریکی اقدار کے آئینہ دار نہیں : جیمز کومی

ٹرمپ انتظامیہ مافیا ہے ، صدارت کیلئے اخلاقی اعتبار سے غیر موزوں ، امریکی ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کیلئے ’’اخلاقی اعتبار سے غیر موزوں‘‘ ہیں۔ گزشتہ برس صدر ٹرمپ نے انہیں اس لئے برطرف کر دیا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں ان کے حق میں روسی مداخلت پر تفتیش میں ان کو ملوث کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ تبصرہ ’’اے بی سی ٹیلیویژن‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا جو برطرف ہونے کے بعد پہلا باقاعدہ انٹرویو ہے، جو اتوار کی شام ان کی کتاب شائع ہونے سے دو دن قبل نشر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنی آنے والی کتاب میں بھی اپنی برطرفی کے پس منظر پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے۔جیمز کومی نے ٹی وی اینکر جارج سٹیفنو پولس کیساتھ انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے روس کے پاس صدر ٹرمپ کیخلاف ایسا مواد موجود ہو، جس سے وہ اسے بلیک میل کرسکتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایک مافیا خاندان کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی صدارت جنگل کی آگ جیسی ہے اور اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ان سے جرم سرزد ہوا ہے۔ تاہم جیمز کومی نے صدر ٹرمپ کو مواخذے کے ذریعے صدارت سے الگ کرنے کی حمایت نہیں کی، کیونکہ اس کا امریکی عوام پر برا اثر پڑے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صدر بننے کا فیصلہ انتخابات کے ذریعے ہونا چاہئے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ صدر ٹرمپ امریکی اقدار کے آئینہ دار نہیں ہیں۔جیمز کومی کی آئندہ کتاب کے کچھ اقتباسات منظر عام آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغامات میں جیمز کومی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’کلاسیفائیڈ انفارمیشن‘‘ کا انکشاف کیا ہے اور کانگریس کے سامنے پیشی میں بھی جھوٹ بولا تھا۔ سرکاری ری پبلکن پارٹی کی خاتون سربراہ رونا میکڈینیل نے جیمز کومی کے انٹرویو نشر ہونے کے بعد ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کی مدافعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیمز کومی کی کوئی معتبر حیثیت نہیں ہے اور صدر ٹرمپ نے انہیں بجاطور پر برطرف کیا تھا۔پانچ گھنٹے کے طویل انٹرویو میں جیمز کومی نے صدر ٹرمپ کے پرائیویٹ مشکوک طرز زندگی پر بھی نکتہ چینی کی اور تفصیل سے بتایا کہ کس طرح صدر ٹرمپ نے ان سے ذاتی وفاداری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جیمز کومی نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا کہ گزشتہ برس 14 فروری کو ایک ملاقات میں انہوں نے اس وقت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر مائیکل فلین کے خلاف ایف بی آئی کی تفتیش ختم کرکے انہیں بری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اینکر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح صدر ٹرمپ انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔ جیمز کومی کا کہنا تھا کہ سابق صدر بارک اوباما کو ان کی صدارت کے آخری دنوں میں انہوں نے بتایا تھا کہ آئندہ چار سال بہت خوف ناک دکھائی دیتے ہیں اور بعد میں ٹرمپ کے دور میں انہوں نے اپنے ادارے کو بچانے کیلئے صدر کی طرف سے زبردست دباؤ کا سامنا کیا۔ ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے انٹرویو میں تسلیم کیا کہ انہوں نے صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی ای میل پر تفتیش کا انتخابات سے دو ہفتے قبل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ یقیناًانتخابات پر اثر اندازہ ہوا ہوگا۔ اس وقت فضا ہیلری کلنٹن کے حق میں جاری تھی، جو اس کے بعد کچھ تبدیل ہوگئی۔

جیمز کومی

مزید : صفحہ اول