دہشتگردی کے خلاف حصار قائم کرنے ، فلسطین ریاست کیلئے بھر پور تعاون کرینگے

دہشتگردی کے خلاف حصار قائم کرنے ، فلسطین ریاست کیلئے بھر پور تعاون کرینگے

جدہ (محمد اکرم اسد )ظہران میں القدس سربراہ کانفرنس نے عربوں کو دہشتگردی کے خلاف حصار قائم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے بھرپور تعاون کے عزم کا اعلان کیا۔ 30ویں عرب سربراہ کانفرنس کی میزبانی تیونس کریگا۔ بحرین نے معذرت کرلی۔ عرب قائدین نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے متعدد سفارشات کیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عرب ممالک کو درپیش خطرات اور انکے امن و استحکام کو متزلزل کرنے والے حالات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ عرب جدوجہد کو مضبوط کیا جائیگا۔ عرب قائدین نے مسئلہ فلسطین کیلئے درکار مدد پیش کرنے کا عہد کیا۔ عرب سربراہوں نے پڑوسی ممالک سے کہا کہ وہ عرب ممالک کی خودمختاری کا پاس کریں۔ ملیشیاؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والوں سے کہا گیا کہ وہ اپنا یہ عمل بند کردیں۔ عرب قائدین نے اس امر پر زو ردیا کہ مشرق وسطیٰ میں جامع اور مبنی برانصاف امن عرب امن فارمولے کی بنیاد پر ہی قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے عربوں کی قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے مطلوب حکمت عملی کی حمایت کا بھی اظہا ر کیا۔ عرب قائدین نے اقتصادی ترقی کیلئے مشترکہ عرب جدوجہد کا طریقہ کار جلد از جلد متعین کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں واضح کیا گیاکہ عرب ممالک کے علاقوں میں حریصانہ عزائم رکھنے والوں کو روکنے کیلئے بیداری سے کام لینا ہوگا۔ عرب لیگ جنرل سیکریٹریٹ کو سربراہ کانفرنس کی قراردادوں پر عمل درآمد کی پیروی کی مہم تفویض کی گئی۔عرب قائدین نے القدس سے متعلق سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ مشرقی القدس کے نقوش تبدیل کرنے والے اسرائیل کے جملہ اقدامات نیز القدس کے حقیقی عرب تشخص کو مٹانے کی اس کی تمام کوششیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ عرب قائدین نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ کوئی بھی اپنا سفارتخانہ القدس منتقل کرے نہ ہی القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے۔ یاد رہے کہ اس سے قبلسعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا ہے کہ امر یکہ کی جانب سے سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ عرب لیگ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے عرب لیگ سربراہ کانفرنس کو ’مقبوضہ بیت المقدس کانفرنس‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ مقدم رکھیں گے۔سعودی عرب کے فرمانروا نے کہا کہ عرب امور میں ایران کی مداخلت قابل مذمت ہے۔مسئلہ فلسطین ہمارا اوّلین ایشو ہے اور ہم اس کو ہمیشہ مقدم جانیں گے انھوں نے کہا کہ مشرقی القدس کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔انھوں نے فلسطینیوں کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی امداد کا علان کیا ۔اس میں سے پانچ کروڑ ڈالرز فلسطینی مہاجرین کی ذمے دار اقوام متحدہ کی ایجنسی اْنروا کو د یئے جائیں گے اور پندرہ کروڑ ڈالرز مقبوضہ القدس میں اسلامی وقف اسپورٹ پروگرام کے لیے د یئے جائیں گے۔سعودی فرماں روا نے خطے میں ایران کے توسیع پسندانہ کردار کے خلاف اقوام متحدہ کا ایک مضبوط مؤقف اپنانے کی ضرورت پر زورد یتے ہوئے کہا کہ ایران کے اس کردار کی وجہ سے خطے میں بد امنی پھیل رہی ہے۔ عرب قومی سلامتی ایک مکمل اور ناقابل تقسیم نظام ہے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں ایرانی برتاؤ روکنے کے لیے مضبوط موقف اختیار کرے ۔ لیبیا کی خود مختاری کو یقینی بنانے کی حمایت کرتے ہوئے شاہ سلمان نے کہا کہ تمام عرب ممالک ایک یونٹ ہیں اور انہیں ٹکروں میں تقسیم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران ایک مافیا ہے جو خطے میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا کر عرب ملکوں پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔سعودی عرب شام کے تنازع کا سیاسی حل چاہتا ہے۔ اس کے لیے بہتر حل پہلے جنیوا اجلاس میں طے کردہ اصول مثال حل ہے۔لظہران میں سربرا کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں قبضے ا ور توسیع پسندی کے لیے فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔الجبیر نے کہا کہ عرب سربراہ کانفرنس میں حوثی دہشت گردوں کے سعودی عرب پر حملوں کی کھل کر مذمت کی گئی ہے۔عرب سربراہ اجلاس میں تہران کی جانب سے عرب ممالک کیامور میں مداخلت اور حوثی باغیوں کی مدد کی بھی مذمت کی گئی۔ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ ایران عرب ممالک سے نکل جائے اور اچھا پڑوسی ہونے کا ثبوت دے۔الجبیر نے بتایا کہ عرب سربراہ اجلاس میں عرب اقوام کی سلامتی کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اور حکمت عملی وضع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے بتایا کہ آئندہ عرب سربراہ کانفرنس کی میزبانی لبنان کرے گا اور اس کانفرنس میں اقتصادی امور پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے قطر کی طرف سے خود کو خلیجی دھارے سے باہر نکالنے کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ قطر کو دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے انتہا پسندوں کی مدد ترک کرنے کے اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ایک سوال کے جواب میں الجبیرنے کہا کہ عرب سربراہ کانفرنس کا انعقاد علاقائی تنازعات سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ اجلاس معمول کا حصہ ہے۔

عرب کانفرنس

مزید : صفحہ اول