سپریم کورٹ کی عمارت بھی غیر قانونی ہے تو گرا دیں : چیف جسٹس

سپریم کورٹ کی عمارت بھی غیر قانونی ہے تو گرا دیں : چیف جسٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پیمرا آزاد ادارہ ہونا چاہیے اور حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرنا چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے، کمیشن میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کیلئے3 ممبران کے پینل کا انتخاب کریگا۔اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ کام 3 ہفتوں کے اندر ہوجائے گا۔عدالت نے چیئرمین پیمرا کے انتخاب کیلئے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کردی جس سے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو نکال کر سیکریٹری اطلاعات کو شامل کیا گیاہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی، ان کیلئے کمیٹی کیلئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔مریم صاحبہ کے ہوتے ہوئے کمیٹی آزادانہ کام نہیں کرسکتی۔ لالو پرساد کا نام کچھ دن پہلے لیا تھا لالو کا نام لینے سے اینکر نے طوفان برپا کردیا۔ لالو پرساد کے حوالے سے میری اطلاعات غلط تھیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 2 روز قبل عدالت کے باہر نعرے لگائے گئے، جب ہم نے آرٹیکل 62 ون ایف کا فیصلہ سنایا، یہاں عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے ہیں، نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے، خواتین کو شیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں، غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ابھی صبر اور تحمل سے کام لے رہے ہیں، کسی شیر کو میں نہیں جانتا۔ چیف جسٹس نے ججز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں اصل شیر۔ معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنا احترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں۔اس دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔پیمرا قانون میں کیا غلط خبروں سے متعلق کوئی شق ہے؟، جعلی خبریں بہت اہم مسئلہ ہیں، ملائیشیا میں جعلی خبر کو فوجداری جرم بنادیا گیا ہے۔ رانا وقار نے کہا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کرنا نہایت ضروری ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ پیمرا قانون میں ترمیم کے حوالے سے کیا کیا گیا؟،عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا، اگر ہماری بات ٹھیک نہیں تو بولنا بھی بند کردیں گے، قانون سازوں کو قانون میں ترمیم کیلئے تجویز نہیں دے سکتے، پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں؟ آرٹیکل 5 اور6 آئین کے آرٹیکل 19 سے مطابقت نہیں رکھتے۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

چیف جسٹس

اسلام آباد(این این آئی ،آن لائن)چیف جسٹس ثاقب میاں نثار نے کہا ہے کہ میں نے نہیں کہا کہ عمران خان کا گھرریگولرائزکردیں،حکومت کی مرضی ہے چاہے وہ سب کچھ گرا دے،یہ تاثر نہ دیا جائے کہ عدالت نے تعمیرات کو ریگولائز کرنے کا کہا ہے، پیر کو سپریم کورٹ میں غیرقانونی شادی ہال تعمیرات کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔جس پر وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم بنی گالہ میں ریگولرائزیشن کررہے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ راول ڈیم کے قریب بنائے گئے شادی ہالز غیر قانونی ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ دو کلومیٹر کے دائرے میں ہوٹل بن سکتے ہیں تومارکی کیوں نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ راول ڈیم کے قریب شادی ہالز اور بنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ہیں، عدالت نے بنی گالہ میں تعمیرات ریگولر کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تعمیرات کو ریگولر کرنے کا میں نے نہیں کہا، وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے تعمیرات ریگولر کرنے کا فیصلہ کیا ٗریگولر کرنا ہے تو کریں، ریگولر نہیں کرنا تو نہ کریں ٗیہ تاثرغلط ہے عدالت نے تعمیرات ریگولر کرنے کا کہا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ مارگلہ نیشنل پارک میں کسی صورت تعمیرات نہیں ہوسکتی، جب نیشنل پارک میں شادی ہال بنا تب سی ڈی اے کدھر تھا؟ ممبر سی ڈی اے نے جواب دیا کہ زون ون میں شادی ہالز نان کمرشل جگہوں پر بنے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی تعمیرات مل ملا کر ہوتی ہیں اور سی ٹی اے بھی اس میں ملوث ہے۔ شادی لان کے وکیل نے کہا کہ بنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ہیں، دو کلومیٹر کے دائرے میں کئی شادی ہال ہیں، سپریم کورٹ کی بلڈنگ بھی 2 کلومیٹر کے اندر آتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسا ہے تو سپریم کورٹ کو بھی گرا دیں جس پر لان کے مالک جمیل عباسی نے بتایا کہ شادی لان قوانین کے مطابق ہے، عدلیہ بحالی تحریک میں تین مرتبہ جیل گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا ہو سکتا ہے چوتھی مرتبہ بھی جانا پڑ جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ چک شہزاد میں فارم ہاؤسز سبزیوں کی افزائش کیلئے دیئے گئے تھے لیکن وہاں محل جیسے گھر بنے ہوئے ہیں، یہ اراضی کس نے لیز پر دی؟ وکیل نے بتایا کہ فارم ہاؤسز پر بڑے بااثر لوگ رہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون بڑے اور بااثر لوگ ہیں ؟ ایک مرتبہ قانون کی حکمرانی قائم ہوگئی تو سب ٹھیک ہوجائے گا ٗضرورت ہوئی تو چک شہزاد فارم ہاؤسز کا معائنہ بھی کرسکتے ہیں ٗ غریب آدمی کو ایک کوٹھڑی نہیں ملتی، کیا صرف امیر آدمی کی زندگی ہے؟ اس ملک میں اس کلچر کو ختم کرنا ہے۔ چک شہزاد میں سبزیوں کے فارم ہاؤسز پر محل نما گھر بنانے والوں کو نوٹس جاری کر کے بلائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں غصے میں کسی کی سرزنش نہیں کرتا لیکن میڈیا پرمیری طرف سے سرزنش کے الفاظ چل جاتے ہیں اور بلاوجہ میری بدنامی کرتے ہیں، ہم صرف سوالات پوچھتے ہیں۔

سپریم کورٹ

اسلام آباد(صباح نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔پیر کو سپریم کورٹ میں فٹ بال فیڈریشن سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد اظہار یکجہتی پر سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کا شکریہ ادا کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

بارکونسلز کاشکریہ

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...