عدلیہ مخالف تقاریر روکنے کا حکم ، پیمرا وزیر اعظم عباسی ، نواز شریف ، مریم نواز ، شہباز شریف ، وفاقی وزراء سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16راہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی شکایات کا 15 روز میں فیصلہ کرے : لاہور ہائیکورٹ

عدلیہ مخالف تقاریر روکنے کا حکم ، پیمرا وزیر اعظم عباسی ، نواز شریف ، مریم ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی ،جسٹس عاطرمحمود اورجسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل بنچ نے عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے سے روکنے اور پیمرا کے کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم جاری کردیا ہے ۔فاضل بنچ نے پیمرا کو مزیدحکم دیا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،سابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف ،مریم نواز ، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اوروفاقی وزراء سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16راہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی شکایات کا 15روز میں فیصلہ کیا جائے ۔عدالت نے اس بابت پیمرا کو آئندہ تاریخ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے ۔دوران سماعت فاضل بنچ کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ شفاف تنقید کا آئینی حق کسی قانون و ضابطے سے مشروط ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر کوئی اٹھ کر عدالتی معاملات اور فیصلوں کو شفاف تنقید کے نام پر نشانہ بنانا شروع کردے ۔کیس کی سماعت کے دوران میاں محمد نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کے وکلاء بار بار فاضل بنچ سے الجھتے رہے اور کیس کی سماعت پر اعتراضات اٹھاتے رہے ۔منیر احمد نامی شہری کی طرف سے دائر اس درخواست میں ریاستی اداروں کے علاوہ میاں محمدنواز شریف، مریم نواز، طلال چودھری، خواجہ سعد رفیق، دانیال عزیز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، نہال ہاشمی، پرویز رشید، محسن رانجھا، خواجہ محمدآصف، عابد شیر علی، مائزہ حمید، طارق فضل چودھری، میاں محمدشہباز شریف اور مشاہد اللہ خان کو فریق بنایا گیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ راہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف متعدد درخواستیں دائرکی گئیں، ان تقاریر کے خلاف پیمرا سے بھی رجوع کیا گیا لیکن پیمرا نے عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی۔دوران سماعت میاں محمدنواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے فل بنچ کی کارروائی روکنے کی استدعا کی ،جس پر بنچ کے سربراہی جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں، آپ کی باری آئے گی تو آپ کو بھی سنا جائے گا۔درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا حکومتی نوکر بن کر کام کررہی ہے اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم شریف خاندان کے گھریلو نوکر سے بھی زیادہ وفادار بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ مخالف تقاریر کا معاملہ دبانے کے لئے وزارت اطلاعات و نشریات سے راہنمائی مانگی گئی اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عدلیہ مخالف تقاریر پر کارروائی کرنے سے پیمرا کو روکا۔اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مزید موقف اختیار کیا کہ سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے غیراعلانیہ طور پر عدلیہ مخالف تقاریر کی اجازت دیئے رکھی اور ابصار عالم عدلیہ مخالف مہم میں حکومتی منصوبے کا حصہ بنے رہے جس پر فل بنچ کے رکن جسٹس مسعود جہانگیر نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ سے کہا کہ وہ کیس کے مرکزی حصے تک محدود رہیں۔وکیل نے کہا کہ میرا کام عدلیہ مخالف تقاریر کا معاملہ ریکارڈ پر لانا ہے اور آئین کے آرٹیکل 19 (اے )میں شفاف تنقید اور آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ شفاف تنقید کا آئینی حق کسی قانون و ضابطے سے مشروط ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہر کوئی اٹھ کر عدالتی معاملات اور فیصلوں کو شفاف تنقید کے نام پر نشانہ بنانا شروع کردے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مزید ریمارکس دیئے کہ کوئی وکیل یا ماہر بات کرے تو سمجھ بھی آتی ہے لیکن ہر کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ آئین کے آرٹیکل 19 (اے )کے علاوہ آرٹیکل 68 بھی پڑھ کر سنائیں۔اظہر صدیق نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 68 میں تو یہاں تک پابندی ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں اور معاملات پر پارلیمنٹ میں بھی بات نہیں ہو سکتی۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے دوبارہ فل بنچ کی کارروائی میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے دلائل عدالت کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہیں جس پر فل بنچ کے رکن جسٹس عاطر محمود نے کہا کہ ڈوگر صاحب آپ اس کیس میں ابھی فریق نہیں بنے اور نہ ہی آپ کو نوٹس جاری ہوا ہے۔اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ یہ مفاد عامہ اور قومی سطح کا کیس ہے اور بطور وکیل وقت کے ضیاع کی نشاندہی کرنا میری ذمہ داری ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے اپنی مرضی سے چلنا ہے، آپ کی نشاندہی سے نہیں چلنا۔ اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے فل بنچ کے ریمارکس پر جواب دیا کہ عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کو ہدایت کی کہ آپ تشریف رکھیں، جب آپ کی باری آئے گی تو آپ کو موقع دیں گے جس پراے کے ڈوگر دوبارہ اپنی نشست پربیٹھ گئے ۔دوران سماعت پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے کہ پیمراکی اتھارٹی پر غیرضروری اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، پیمرا نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیاجس پر جسٹس عاطر محمود نے استفسار کیا کہ پیمرا نے یہ اختیار استعمال کیا کہ عدلیہ مخالف تقاریر نہیں روکیں گے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ پیمرا نے عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی تھی۔ فل بنچ نے استفسار کیا کیا ہم یہ نہ سمجھیں کہ درخواست خارج کر کے عدلیہ مخالف تقاریر کی اجازت دے دی گئی ہے؟پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے کہ ہو سکتا ہے کہ درخواست خارج کر کے پیمرا سے معمولی غلطی ہوئی ہو جس پر فل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ یہ صرف معمولی غلطی نہیں ہے، پیمرا نے کارروائی کرنے کی بجائے 26 مارچ کو عدالت سے راہنمائی لینے کا مراسلہ جاری کر دیا تھا ،کیا ایسا مراسلہ جاری کرنا معمولی غلطی ہے؟جسٹس مسعود جہانگیر نے استفسار کیا کہ کیا یہ مراسلہ ثابت نہیں کرتا کہ پیمرا اپنی ذمہ داریوں میں ناکام ہو چکا ہے؟ یہی تو درخواست گزار کا کیس ہے کہ پیمرا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔پیمرا کے وکیل نے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ 26 مارچ کا عدلیہ سے راہنمائی کا مراسلہ پیمرا کی غلطی ہے۔دوران سماعت وزیر اعظم کے مشیر نصیر بھٹہ کی بنچ کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ نواز شریف اورلیگی وزراء کے وکلاء نے بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر پر اعتراض بھی اٹھایا۔نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمیں فل بنچ پر اعتراض ہے، ہم یہاں کیس نہیں سنوانا چاہتے۔جسٹس مسعود جہانگیر نے ریمارکس دیئے کہ آپ سب کو کتنی بار کہا ہے کہ آپ ابھی فریق ہی نہیں ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ آپ تب روسٹرم پر آئیے گا جب آپ کو نوٹس کر کے بلائیں گے۔وزیر اعظم کے مشیر نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس ہائیکورٹ میں 48 جج بیٹھے ہیں، آپ ہی کیوں اس مقدمہ کو سن رہے ہیں؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ کیا اب آپ کی مرضی اور حکم کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ بنائے جائیں گے؟ ابھی پیمرا کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے دیں۔مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے وکلاء نے کہا کہ ہماری بنچ پر اعتراض کی متفرق درخواست کا فیصلہ کر دیا جائے جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ صبر کریں، ابھی لکھ کر فیصلہ کریں گے۔پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مزید موقف اختیار کیا کہ ان درخواستوں پر پیمرا کو حکم جاری کرنے دیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ 8 ماہ گزرنے کے باوجود پیمرا نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی میاں محمدنواز شریف کے خلاف اسی نوعیت کی درخواستیں دائر ہوئی تھیں اور سپریم کورٹ نے ان توہین عدالت کی درخواستوں کو مسترد کیا تھا، انہوں نے مزید دلائل دیئے کہ نواز شریف کے خلاف توہین عدالت پر پیمرا نے عدلیہ سے رائے مانگی تھی جس پر فل بنچ نے سلمان اکرم راجہ کو ہدایت کی کہ آپ صرف پیمرا کی طرف سے دلائل دیں۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پیمرا کے ایگزیکٹو ممبر سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ توہین آمیز تقاریر رکوا سکتے ہیں؟ جس پر ایگزیکٹو ممبر نے جواب دیا کہ یہ ہم رکوا سکتے ہیں۔عدالت نے فریقین کے ابتدائی دلائل مکمل ہونے کے بعد میاں محمدنواز شریف سمیت دیگر لیگی راہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا جسے تھوڑی دیر بعدسنا دیا گیا۔فاضل بنچ نے اپنے عبوری فیصلے میں قراردیا ہے کہ پیمرا عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات پر پابندی سمیت اپنے کوڈآف کنڈکٹ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے اور مدعاعلیہان کے خلاف زیرالتواء درخواستوں کا 15روز میں فیصلہ کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرے ۔

پیمرا کیس

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...