آرٹیکل 203پر موثر عمل درآمد کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

آرٹیکل 203پر موثر عمل درآمد کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

لاہور(نامہ نگار خصوصی)ضلعی عدلیہ پرملک بھر کی پانچوں ہائیکورٹس کے غیر موثر سپروائزری کردار کے خلاف اور آئین کے آرٹیکل 203پر موثر عمل درآمد کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔یہ درخواست سینئرقانون دان میاں ظفر اقبال کلانوری کی جانب سے دائر کی گئی ہے، پٹیشن میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، سندھ، بلوچستان، اسلام آباد، خیبر پختونخواہ کو فریق بنایا گیا ہے، آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 203کے تحت صوبائی عدلیہ کوضلعی عدلیہ کی مانیٹرنگ کے لئے سپروائزری کردار حاصل ہے، مقدمات کو جلد نمٹانے،ججز اور عدالتی عملے کے خلاف سائلین کی شکایات کے ازالے،ججوں کے سروس سٹرکچر کے نفاذ اور ضلعی عدالتوں کے انتظامی امور نمٹانے کے لئے ملک بھر کی کسی ہائیکورٹ نے قواعد نہیں بنائے، درخواست میں کہا گہا ہے کہ قواعد موجود نہ ہونے کی بناء پر ملک بھر میں مقدمات سالہا سال زیر التواء رہتے ہیں، سائلین کی شکایات کے لئے ممبر انسپکشن ٹیم کا کردار غیر موثر اور ڈاکخانہ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے سائلین، وکلاء ،ججوں اور عدالتی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ملک بھر کی ہائیکورٹس کو آئین کے آرٹیکل 203کے تحت موثر سپروائزری کردار ادا کرنے کا پابند بنائے، مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت تمام ہائیکورٹس کو موثر سپروائزری کردار کی ادائیگی کے لئے قواعد بنانے کے احکامات بھی صادر کرے۔

سپروائزری

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...