ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا : صدر

ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا : صدر

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کرکام کریں توکوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا،الیکشن وقت پر ہوتے دیکھ رہا ہوں، تمام سیاسی قیادت پختہ اور وفاقی سوچ رکھتی ہے، سب کو معلوم ہے کہ ملک کا مفاد کس بات میں ہے اور نقصان کس بات میں ہے، میں چاہوں بھی تو تمام لیڈرشپ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں کر سکتا، پاسپورٹ آفس کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ ضروری نہیں کہ بیرونی ممالک میں پڑی ہوئی تمام دولت لوٹی ہوئی ہو، رقم باہر لے جانا کوئی جرم نہیں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ رقم کس طریقہ سے باہر گئی، کہیں اس مقصد کیلئے غیرقانونی طریقہ تو استعمال نہیں کیا گیا۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ، احتساب سب کا ہونا چاہئے، کسی کو توہین عدالت میں معافی مل جاتی ہے اور کسی کو سزا، یہ درست نہیں ہے، ملک میں محاذآرائی۔ اداروں کے درمیان لڑائی بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے بشرطیکہ تمام ادارے اپنی آئینی وقانونی حدود میں رہ کر کام کریں، لیڈرشپ اور اداروں کے درمیان محاذآرائی سے ملکی ترقی متاثر ہوتی ہے، موجودہ صورتحال بالخصوص جب سی پیک منصوبہ چل رہا ہے، شخصیات اور اداروں کے درمیان محاذآرائی نقصان دہ ہے، تمام سیاسی جماعتیں پختہ اور وفاق کی سوچ کی حامل ہیں، انہیں بتانے کی ضرورت نہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، ملک اور قوم کے مفاد سے سب واقف ہیں، لیڈرشپ بچے نہیں کہ انہیں سمجھایا جائے، ایسا ماحول پیدا نہ کیا جائے جس سے سی پیک جیسے منصوبہ متاثر ہو۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم اچھی ہے، انڈونیشیا میں کامیاب رہی ہے، یہ سکیم بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے، دنیا بھر میں باہر سے رقم لانے والوں کو ان کا ملک رعایت دیتا ہے منی لانڈرنگ سے بچنے کیلئے یہ سکیم متعارف کرائی ہے تاکہ باہر پڑی ہوئی دولت پاکستان کے کام آئے۔قبل ازیں صدر ممنون حسین اپنی اہلیہ کے ساتھ پاسپورٹ آفس آئے اور اپنے پاسپورٹ کے اجرا کیلئے ضروری عمل سے گزرے۔ صدر ممنون نے پاسپورٹ آفس کے انتظامات اور طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کیا، ڈی جی آفس کی کارکردگی کو سراہا۔

مزید : صفحہ آخر