2017 میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں میں کمی ہوئی، ہیومن رائٹس کمیشن

2017 میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں میں کمی ہوئی، ہیومن رائٹس کمیشن

اسلام آباد(این این آئی) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حالیہ رپورٹ میں کہاہے کہ 2017 میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی تاہم مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں کمی نہ آسکی۔2017 میں انسانی حقوق کی صورت حال' کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ کو معروف قانون دان انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر سے منسوب کیا گیا ہے جو 11 فروری 2018کو انتقال کرگئی تھیں۔رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں میں کمی آئی، لیکن مسیحیوں، احمدیوں، ہزارہ، ہندوؤں اور سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کو حملوں کا سامنا رہا، خصوصاً توہین مذہب کے کیسز زیادہ سامنے آئے۔2017 میں مشتعل ہجوم کے حملوں میں اضافہ ہوا اور دھرنوں اور ریلیوں سے نمٹنے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا فقدان رہا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ملک بھر کی عدالتوں میں 3 لاکھ 33 ہزار 103 کیسز زیرسماعت رہے جبکہ 63 مجرموں کو پھانسی لگائی گئی۔انکوائری کمیٹی کو جبری گمشدگی کے 868 کیس موصول ہوئے اور 555 کیس نمٹائے گئے۔ خواتین پر تشدد کے واقعات میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا اور پہلے 10 ماہ میں خواتین کے خلاف جرائم کے 5 ہزار 660 کیس رجسٹرڈ ہوئے۔ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق صحت و تعلیم کے شعبے میں 2017 میں بھی صورت حال تشویشناک رہی۔ دنیا بھر میں پاکستان تپ دق کی شرح میں سرفہرست جبکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں دوسرے نمبر پر رہا۔رپورٹ کے مطابق 56 لاکھ بچے پرائمری اسکولوں اور 55 لاکھ بچے سیکنڈری اسکولوں سے باہر ہونے سے دنیا بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ رہی۔2017 کی مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں اور ٹرانس جینڈرز کی علیحدہ کیٹیگری شامل کی گئی اور ٹرانس جینڈر کیٹیگری کے تحت پاسپورٹ کا اجرا کیا گیا۔ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں پانی کے استعمال میں چوتھے نمبر پر رہا، لیکن صرف 36 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے۔دوسری جانب پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی اوسط شرح عالمی ادارہ صحت کی طے کردہ حدود سے 4 گنا زیادہ رہی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی تعداد 25 لاکھ سے زائد ہے جبکہ 10 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین یہاں آباد ہیں۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...