مقبوضہ کشمیر ، کمسن آصفہ کے قتل کا کیس لڑنے والی وکیل دیپکا راوت کو دھمکیاں

مقبوضہ کشمیر ، کمسن آصفہ کے قتل کا کیس لڑنے والی وکیل دیپکا راوت کو دھمکیاں

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں ضلع کٹھوعہ میں کم سن آصفہ سے بد اخلاقی اور قتل کیس میں متاثرہ خاندان کی وکیل دیپکا ایس راوت نے کہا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی کے لیے کھڑے ہونے پر انہیں بد اخلاقی کا نشانہ بنایا یا قتل کیا جاسکتا ہے۔دپیکا ایس راوت نے جموں میں صحافیوں کو بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میں کب تک زندہ رہوں گی۔ مجھے گزشتہ روز دھمکیاں دی گئیں کہ ہم آپ کو معاف نہیں کریں گے ۔ میں سپریم کورٹ کو بتانے جارہی ہوں کہ میری زندگی خطرے میں ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری افسروں پر مشتمل 49افراد کے ایک گروپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے کھلے خط میں انہیں اس خوفناک صورتحال کے لیے ذمہ دار قراردیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ضلع گاندربل کے علاقے کنگن میں نوجوان عامر حمید لون کی شہادت پر مسلسل دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال ہے۔ چھترہ گل کنگن سے تعلق رکھنے والا22سالہ عامر حمید لون جو ڈگری کالج گاندربل میں زیر تعلیم تھا، 3اپریل کو بھارتی فورسز کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا اور گزشتہ روز ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ دریں ا ثناء قابض انتظامیہ نے طلباء کے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے آج وادی کشمیرکے زیادہ تر کالجوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں کلاس ورک معطل رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ سرینگر میں امرسنگھ کالج اور ویمنز کالج بند رکھے گئے ہیں جن کے طلبا ء نے شوپیان میں نوجوانوں کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔ضلع بارہمولہ میں گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور اور بوائز ہائر سیکنڈری سکول سوپور بھی بند رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح ضلع کپواڑہ میں بھی گورنمنٹ ڈگری کالج کپواڑہ اور ہائر سیکنڈری سکول ہندواڑہ ، لنگیٹ اور کرالہ گنڈ میں بھی کلاس ورک معطل کیا گیا ہے۔ شوپیان میں بھی ڈگری کالج بند ہے۔گاندربل کی ضلعی انتظامیہ نے ضلع کے تمام ڈگری کالجوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں کلا س ورک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جموں ریجن کے علاقے ڈوڈہ میں مختلف تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلباء نے زبردست مظاہرے کئے اور بے حرمتی کے بعد قتل کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ آصفہ کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اس بہیمانہ واقعہ کی متاثرین کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیاگیاتھا۔ اس موقع پر طلبہ نے کہاکہ مظاہرے کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ علاقے میں خواتین پر مظالم کی طرف مبذو ل کرانا ہے ۔ ایک طالبہ نے اس گھناؤنے واقعے ملوث مجرموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرے میں شامل طلباء نے مختلف نعرے بلند کرتے ہوئے مجرموں کوسزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اس طرح کی شرمناک حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے ۔

کشمیر

مزید : صفحہ آخر