انتظامی بنیاد پر صوبے بنانے سے تاریخ کی نفی ہو گی ، اندرونی تنازعات مزید بڑھیں گے : رضا ربانی

انتظامی بنیاد پر صوبے بنانے سے تاریخ کی نفی ہو گی ، اندرونی تنازعات مزید ...

اسلام آباد(آئی این پی) سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ انتظامی بنیاد پر صوبے بنانے سے تاریخ کی نفی ہوگی اور اندرونی تنازعات کو مزید بڑھنے کا موقع ملے گا، سیاسی فکر کو قومی ڈائیلاگ کے ذریعے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت وفاق اور صوبوں کے مسائل پر آئینی ترامیم کی جائیں، پارلیمان خصوصاً ایوانِ بالا کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کرنا چاہئے۔پیر کو ایک بیان میں سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ صوبوں کا قیام ایک تاریخی عمل ہے ،صوبے انتظامی سہولت کی بنیاد پہ نہیں بنائے جاسکتے، اس بنیاد پر صوبوں میں تناؤ پیدا ہوگا۔ لسانی، علاقائی اور قدرتی وسائل پر سوالات اٹھیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبے اس کے باشندے اس کے جغرافیہ کی باقاعدہ ایک تاریخ ہوتی ہے، صوبے کے لوگ ہی صوبے کے مالک ہوتے ہیں، انکی اپنی زبان ہوتی ہے،کلچر اور رسم و رواج ہوتا ہے اور ان کا اپنے صوبے کے وسائل پر حق ہوتا ہے جو وہ آئینی معاہدے کے ذریعے سے وفاق کو بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا انتظامی بنیاد پر صوبے بنانے سے تاریخ کی نفی ہوگی اندرونی تنازعات کو مزید بڑھنے کا موقع ملے گا اس سے یقیناًوفاق بھی متاثر ہوگا ۔یہاں ضرورت ہے کہ ایک سیاسی فکر کو قومی ڈائیلاگ کے ذریعے اجاگر کیا جائے اور اس کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے مسائل پر آئینی ترامیم کی جائیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہ مسئلہ محض آئین کے آرٹیکل میں ترمیم کرنے سے حل نہیں ہوگا اس کے تناظر میں مزید آئینی ترامیم کی جائیں گی اور اس کے وفاق اور صوبوں پر دور رس اثرات مرتب ہونگے لہذا پارلیمان خصوصا ایوانِ بالا کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کرنا چاہئے۔

سینیٹر رضا ربانی

مزید : صفحہ آخر