نومور نواز شریف یا ونس مور نواز شریف

نومور نواز شریف یا ونس مور نواز شریف

سپریم کورٹ نواز شریف کو سزائیں ثواب سمجھ کر سنارہی ہے حالانکہ اس کے لئے سب سے بڑا مقدمہ جاوید ہاشمی کا ہونا چاہئے تھا جنھوں نے 2014ء کے دھرنے کے تناظر میں ملک میں جوڈیشل مارشل لاء کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ انہیں بلائے اور ان کا ٹرائل کرے، وہ ثابت کریں گے کہ عمران خان ایک ایسے بڑے منصوبے کا حصہ تھے جس کا مطلب اس وقت کے چیف جسٹس کے ذریعے ملک میں منتخب حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔لیکن سپریم کورٹ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے الزام کو بھول بھال کر نواز شریف کو تاحیات نااہل کر دیا ہے۔

کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک گریٹر پلان کا حصہ ہے جس کے تحت نواز شریف کو کرپٹ اور نااہل کے القابات سے نواز کر انہیں اگلے عام انتخابات سے پہلے پہلے آصف و عمران کے برابر کھڑا کرنا ہے تاکہ سب کو لیول پلے فیلڈ میسر آسکے۔ خدا معلوم ہماری اسٹیبلشمنٹ یہ سب کچھ اپنے تئیں کررہی ہے یا پھر کسی مجبوری کے تحت، لیکن ایسا ہو رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیانواز شریف کی نااہلی آصف و عمران کی اہلیت کو بڑھادے گی؟ کیا اس سے نون لیگ والے ان کو ووٹ دے دیں گے؟ ....اور کیا وہ مل کر بھی نون لیگ کے ووٹ بینک کو پچھاڑ سکیں گے کیونکہ ہمارے بٹ صاحب کی اہلیہ نے ان پر واضح کردیا ہے کہ چاہے قبر پر جاکر ووٹ ڈالنا پڑے ، وہ اپنا ووٹ نواز شریف کوہی دیں گی!

نااہل نواز شریف آصف و عمران کے لئے کس قدر سہل ہوگا، ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ ایک منقسم مینڈیٹ کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک منقسم مینڈیٹ سے ملک میں اسپتالوں کی حالت بہتر ہو جائے گی، عوام کو پینے کے لئے صاف پانی ملنے لگے گااور جنوبی پنجاب ایک الگ صوبہ بن سکے گا؟؟؟..... اگر یہ سب کچھ ممکن نہیں تو ایک منقسم مینڈیٹ کس کے مفاد میں ہوگا ۔ ایسے میں اگر پیپلز پارٹی حکومت بنا بھی لے تو بھان متی کے کنبے سے آصف زرداری کون سا تیر چلالیں گے ۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات میں مینڈیٹ کتنا ہی منقسم کیوں نہ ہو، جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ ختم نہیں ہوگا!

عدلیہ کے فیصلوں کے حوالے سے ایک بات تیقن کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پھانسی کے فیصلے پر عملد رآمد کے باوجود بھٹو کا مقدمہ سپریم کورٹ میں پڑا ہوا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈکلیئر کیا جائے کہ سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا غلط دی تھی۔ اسی طرح آج جو فیصلے نواز شریف کی بابت ہو رہے ہیں کل ریورس بھی ہو سکتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ عدالتی فیصلوں کو آئینی و قانونی تحفظ ہوتا ہے جو عوام کو دبائے رکھتا ہے!

پیپلز پارٹی کتنا ہی نواز شریف کیخلاف تاحیات نااہلی کے فیصلے کو جائز قرار دے لے بھٹو کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو ناجائز ہی قرار دے گی۔ اس کے جیالوں کے پاس نواز شریف کے خلاف فیصلے کی ایک ہی سند ہے کہ اس بار چونکہ نواز شریف کے خلاف فیصلے آرہے ہیں ، اس لئے درست فیصلے ہیں!....یہ انصاف کا جنازہ ہے جو پیپلز پارٹی نکال رہی ہے اور ارادہ باندھے بیٹھی ہے کہ اسی طرح تحریک انصاف کا جنازہ نکالے گی۔ لوگ کھلے بندوں کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بن گئی ہے ، کبھی یہ الزام جماعت اسلامی پر لگا کرتا تھا لیکن آج بات پیپلز پارٹی تک پہنچ چکی ہے ، یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ایک دن یہ بات بے وارا ہو جائے گی اور عوام کو کسی صورت قابل قبول نہ ہوگی!....پیپلز پارٹی کو سمجھنا چاہئے کہ بھٹو پر پاکستان توڑے کا الزام تھا، نواز شریف پر پاکستان جوڑنے کا الزام ہے!

اسٹیبلشمنٹ ہر طرح کا قانونی ہتھیار استعمال کرکے نواز شریف کو گھر بٹھانا چاہتی ہے، اس لاقانونیت پر سینیٹر رضا ربانی خاموش ہیں ،مولانا فضل الرحمٰن خاموش ہیں،محمود اچکزئی خاموش ہیں، اسفند یار ولی خاموش ہیں ، ۔۔۔یہ خاموشی نواز شریف کی طاقت بنتی جا رہی ہے کیونکہ عوام ان کے ساتھ جلسوں میں بات کرتے ہیں ، ہاں اور نہیں کے نعرے بلند کرتے ہیں اور ووٹ کو عزت دو کا ورد کرتے ہیں!

ان دنوں جہاں جائیے یہی سننے کو ملتا ہے کہ نواز شریف نومور لیکن اگر یہ نعرہ نواز شریف ونس مور میں بدل گیا تو کیا ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے جیالے اور جنونی نواز شریف کا جلسہ دیکھتے ہیں تو چپ سادھ لیتے ہیں اور نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنتے ہیں تو واہ واہ کرنے لگتے ہیں، ایسے میں اگر عدالتوں سے نواز شریف کے حق میں آوازیں آنے لگیں تو جیالے اور جنونی کہیں پاگل نہ ہو جائیں اور غوث بخش بزنجو چیخ چیخ کر مولا بخش چانڈیو کو باور کرارہے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں پارلیمنٹ جیتی ہوتی تو رضا ربانی چیئرمین بنتے مگر مولا بخش چانڈیو نے بھی اپنی فہم و فراست کو بالائے طاق رکھ چھوڑا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اعتزاز احسن کا ہے جنہوں نے پانامہ کا معاملہ پارلیمنٹ میں حل نہ ہونے دیا حالانکہ وہ جس چیف جسٹس کے ڈرائیور بن کر اتراتے پھرتے تھے ، ان کی عوام میں عزت مفقود ہے!

نواز شریف کی سیاست کو نون لیگ کی سیاست سمجھا جاتا ہے لیکن نواز شریف کی نااہلی نون لیگ کی نااہلی نہیں ہو سکتی، ایسا ہوتا تو پیپلزپارٹی 80ء کی دہائی میں دم چکی ہوتی، قاف لیگ پر قیامت ڈھے چکی ہوتی ، سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، بھٹو کی جگہ بلاول بھٹو لے لیتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ادارے نہیں ہوتی ہیں جہاں کمان کی تبدیلی ادارے کی پالیسی میں تبدیلی سے تعبیر کی جاتی ہے لیکن لوگوں کے دلوں میں موجود شک ختم نہیں ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...