جسٹس اعجا زالاحسن کے گھر پر فائرنگ کیخلاف وکلاء کی ہڑتال ‘ احتجاجی مظاہرے

جسٹس اعجا زالاحسن کے گھر پر فائرنگ کیخلاف وکلاء کی ہڑتال ‘ احتجاجی مظاہرے

ملتان ‘ مظفر گڑھ ‘ میلسی ‘ منڈی یزمان ‘ رحیم یار خان ( خبر نگار خصوصی ‘ نمائندگان ) سپریم کورٹ کے جسٹس اعجا الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ کیخلاف ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے وکلاء (بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

نے ہڑتال کی اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے تفصیل کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے گھرپرفائرنگ کے واقعہ کیخلاف ہائیکورٹ وڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنزملتان کی جانب سے ہڑتال اور احتجاجی اجلاس منعقدکئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ روزہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے بارہال میں احتجاجی اجلاس منعقد کیاگیا جس میں مختلف قراردادیں منظورکرتے ہوئے کہاگیاکہ عدلیہ جیسے اہم ترین ادارے کاتحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اوراس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی اور تمام وکلاء فاضل جج کے گھر پرہونے والے فائرنگ کے 2 واقعات کی پرزورمذمت کرتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں کہ ان واقعات کے حقائق فوری طور پرمنظرعام پرلائیجائیں اور ملزموں کو فوری گرفتارکرکے قرارواقعی سزادی جائیورنہ اس سانحہ کی ذمہ داری حکومت وقت پرعائدہوگی۔دریں اثناء ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان ن اس موقع پراجلاس کی صدارت صدربارخالداشرف خان نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری ملک محمد عثمان بھٹی نے انجام دئیے۔اجلاس سے ملک محمد حیدر عثمان،کنورمحمدیونس،شمس القمرخٹک ،شیخ غیاث الحق،شیخ ارشدمحموداور محموداشرف خان نے خطاب کیانیز ارجنٹ مقدمات کی سماعت کے بعدہڑتال کی گئی اوروکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔اجلاس کے آخرمیں ہائیکورٹ بارکی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیاگیا۔اس طرح ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے واقعہ کیخلاف مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا گیا اوروکلاء مقدمات کی پیروی کے لئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔بعدازاں احتجاجی اجلاس منعقد کیاگیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر ملک محبوب علی سندیلہ اور جنرل سیکرٹری ملک جاوید اقبال اوجلہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز لااحسن کے گھر پر فائرنگ انصاف کی راہ میں رکاوٹ کی ایک سازش ہے جسے کسی طور وکلاء کامیاب نہیں ہونے دیں گے اجلاس سے مشتاق حیدر ٹیپو،صائمہ ایوب،تصور منظور،نوید ہاشمی نے بھی خطاب کیا۔اجلاس کے اختتام پر واقعہ کیخلاف مزمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔مظفر گڑھ سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ بار مظفرگڑھ نے پیر کے روز جسٹس اعجاز الحسن کی رہائش گاہ پر فائر نگ کے واقعہ کے خلاف فل ڈے ہڑتال کی اور مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا ۔صدر بار میاں سہیل اختر ،جنرل سیکرٹری میاں امجد اصغر ،ممبران بار کونسل جام محمد یونس ،سید منصور احمد شاہ ،سید شاہد مزمل شیرازی ،رانا امجد علی امجد ،رانا واجد علی ایڈ ووکیٹ ،آزاد بخت خان ،سید سجاد احمد گیلانی ،عبدالقیوم دستی ،محمد سلیم خان سمیت وکلاء نے مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ میلسی سے سپیشل رپورٹر،نمائندہ پاکستان کے مطابق پنجاب بارکونسل کی اپیل پرمیلسی بارنے جسٹس اعجاز الحسن کے گھرپرفائرنگ کے خلاف مکمل ہڑتال کی وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ۔ منڈی یزمان سے نامہ نگار کے مطابق (عدالت عظمی کے جسٹس اعجاز الحسن کی رہائش گاہ پر نا معلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے خلاف یزمان بار کے وکلاء نے پر امن احتجاج کیا۔ سابق صدر بار چوہدری اعجاز الحق ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے لئے عملی اقدا مات کا مظا ہرہ کرنا چاہئیے۔ رحیم یار خان سے بیورو نیوز کے مطابق جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر نامعلوم افرادکی فائرنگ کے خلاف پنجاب بار کونسل کی ایپل پروکلاء کا عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ ،سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ،ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ روز لاہور میں جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد کی جانب سے دوبار فائرنگ کی گئی جس پر پنجاب بارکونسل کی اپیل پر وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اورسیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیااورشدیدنعرے بازی کی اس موقع پر صدر بار محمد فاروق ورند ،سینئروکلاء ممبر پنجاب بارکونسل سردار عبدالباسط خان بلوچ،سابق صدوربارچوہدری بشیر احمد،سردار ظفر خان ترین ،چوہدری رمضان شمع،فرحان عامر،رانا نوید احمد،سید فہد صہیب احمد،رائے مظہر حسین کھرل ،جام شکیل بوبرہ ،راشد ممتاز خان ،افتخار السلام،غلام مصطفی امجد بخاری سمیت دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عدلیہ کو آزادانہ فیصلے کرنے کو روکنے کے مترادف ہے جسے وکلاء کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے

وکلا ہڑتال

مزید : ملتان صفحہ آخر