مقبوضہ کشمیر میں پر تشدد اور انتہا پسندی کی زبان بولی جا رہی ہے :سردار مسعود خان

مقبوضہ کشمیر میں پر تشدد اور انتہا پسندی کی زبان بولی جا رہی ہے :سردار مسعود ...

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزاد جموں وکشمیریونیورسٹی کے زیر اہتمام تیسری بین الاقوامی لسانیات کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر سے 120سے زائد تحقیق کاروں کی شرکت۔ صدر آزادکشمیر نے بحیثیت چانسلر کانفرنس کا افتتاح کیا۔ لسانیات سے متعلق اس نوع کی کانفرنسز دراصل دنیا میں تہذیبوں کے مابین مکالمے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اس کانفرنس سے سب سے اہم پیغام یہ دینا ہے کہ تمام زبانوں سے اہم زبان امن کی زبان ہے،جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزاد کشمیر،چانسلر یونیورسٹی سردار محمد مسعود خان نے کانفرنس بعنوان جنوبی ایشیا میں لسانی تنوع اور تحفظ ثقافت کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں لاتعداد زبانیں بولی جاتی ہیں، جو کہ جموں وکشمیر کی ہمہ جہت تہذیبوں کی آئینہ دار ہیں۔یہ تنوع خطہ کشمیر کے حسن کا آئینہ دار ہے اور مختلف اکائیوں کے مربوط رشتے کا عکاس ہے جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے دیرپا اور پرامن حل کا متقاضی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس سے تحمل،برداشت اور امن کی زبان کو فروغ ملے گااور ہمیں عالمی کوششوں اور مربوط پالیسی کے ذریعے خطہ میں دم توڑتی علاقائی زبانوں کو بچانے کی کوشش کرنا ہو گی۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ جموں وکشمیر کی دوسری طرف بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بہت ابتر ہے جہاں پر تشدد اور انتہا پسندی کی زبان بولی جاتی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے اندر 8سالہ بچی کو اغواء کرکے اجتماعی بداخلاقیکا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا گیا،یہ وہ خوفناک جرم ہے جس کی ہرسطح پر مذمت ہوئی اورانسانیت کو درپیش اسطرح کے جرائم کے خاتمے کیلئے اقوام عالم کو اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں وکشمیریونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے کہا کہ یہ کانفرنس تحقیق کاروں کی تحقیق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ جس سے مختلف نوع کے تحقیق کار ایک دوسرے کے تجربات سے مستفیدہوں گئے۔انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں 120تحقیق کارشریک ہیں جن میں سے برطانیہ،امریکہ،پولینڈاور جموں وکشمیر کے ماہرین تعلیم اور تحقیق کار بھی شامل ہیں، انہوں نے تحقیق کاروں اور ماہرین لسانیات کو مظفرآبادآمد پر خوش آمدید کہا اور اس امیدکا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس زبانوں کی ترویج ،ان کے تحفظ کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔کانفرنس کی بہ دولت پاکستان اور آزاد کشمیر کے ساتھ بیرون ممالک سے شرکت کرنے والے مندوبین کے مابین بھائی چارہ ہمدردی اور روابطہ کو تقویت حاصل ہونے کے علاوہ یونیورسٹی کی نوجوان فیکلٹی، پی ایچ ڈی سکالرز کو دنیا بھر میں متذکرہ موضوع پر کیے جانے والے تحقیقی کام سے واقفیت حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین باالخصوص ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل،چیئرمین شعبہ انگریزی ڈاکٹر عبدالقادر،ڈائر یکٹر لینگویجز نوید سرورسمیت فیکلٹی ممبران،ایڈمنسٹریٹو سٹاف کوکانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکبا ددی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے تحقیق کاروں کی مظفرآباد آمد ہمارے لیے خوش آئند ہے اور اس کانفرنس کے اغراض ومقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوں گے اور بالاالخصوص ساوتھ ایشیاء کی زبانوں کے مختلف پہلوؤں پر کی گئی تحقیق سے لوگ مستفید ہوں گے، عالمی لسانیات کانفرنس کے 30سیشن ہوں گے اور یہ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...