جنوبی پنجاب،بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 17گھنٹے تک پہنچ گیا،نظام زندگی مفلوج

جنوبی پنجاب،بجلی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 17گھنٹے تک پہنچ گیا،نظام زندگی مفلوج

ملتان (سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب میں بجلی کا بحران بدترین ہو گیا ۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 17گھنٹے تک پہنچ جانے سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔صارفین اذیت میں مبتلا ہو گئے ۔ بتایا گیا ہے کہ بجلی کا شارٹ فال 3 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیاہے۔ ملتان سمیت مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 6گھنٹے جبکہ دیہات میں 17 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مینٹی نینس کے نام پر بجلی کی کئی کئی گھنٹے بندش کے ساتھ ساتھ شیڈول کی لوڈشیڈنگ بھی کی جا رہی ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال تین ہزار میگا واٹ سے زائد ہو گیا ہے۔ بجلی کی طلب 18ہزار 5سو میگا واٹ جبکہ پیداوار 15ہزار 5سو میگا واٹ ہے ۔مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں 2 گھنٹے سے لے کر 16گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ زیرو لوڈشیڈنگ والے مزید 588 فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ۔گزشتہ روز بھی شیڈول لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ مینٹی نینس کے نام پرملتان کے بیشتر فیڈرز کی بجلی 8گھنٹے تک بند رہی۔ دریں اثنا ماہرین کے مطابق حکومتی اعلان کے برعکس ملک میں بجلی کا بحران 2018میں بھی جاری رہے گا اور عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات نہیں مل سکے گی ۔پاور سیکٹر میں سسٹم کے نقصانات میں کمی کے باوجود وزارت توانائی کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا رہے گا ۔پاور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق مالی سال2013میں سسٹم کے نقصانات 19فیصد تھے۔بجلی کی پیداوار 14800میگاواٹ تھی اور نقصانات 120ارب سالانہ تھے۔بجلی کی ترسیل اور تقسیمی نظام میں موجودہ نقصانات 17.8فیصد ہیں ۔ نقصانات کی شرح میں 1.2فیصد کمی ہوئی ۔موسم گرما 2018میں بجلی کی پیداوار 25000میگاواٹ ہوگی جو سال2013میں پیداوار سے 10200میگاواٹ زیادہ ہوگی ۔بجلی کے پیداواری حجم میں اضافے کی وجہ سے نقصانات میں 1.2فیصد کمی کے باوجود پاور ڈویژن کو تقریباً360ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول