کرپشن فری پاکستان کیلئے بے لاگ احتساب وقت کا تقاضہ ہے :سراج الحق

کرپشن فری پاکستان کیلئے بے لاگ احتساب وقت کا تقاضہ ہے :سراج الحق

باجوڑ ایجنسی (نمائندہ پاکستان )جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق کا باجوڑ ایجنسی کا ایک روزہ دورہ اور پریس کانفرنس ۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے باجوڑ ایجنسی کا ایک روزہ دورہ کیا اور تورغونڈی چیک پوسٹ پر خیبر پختونخوا کے نائب امیر ہارون الرشید ،امیر فاٹا حاجی سردار خان اور ایجنسی امیر جے آئی قاری عبد المجید نے اُن کا استقبال کیا دورے کے پہلے فُرصت میں موصوف نے گزشتہ دنوں فوت ہونے تحصیل سلارزئی کے جوان اسرار خان کے گھر پہنچ گئے جہاں اُنہوں نے اُن کے والد لغمان خان کو فاتحہ پڑھایا جہاں سے واپسی پر سراج الدین خان کے رہائش گاہ پہنچ گئے جہاں اُنہوں نے ایک میڈیا سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ کرپشن فری پاکستان کیلئے بے لاگ احتساب وقت کا تقاضا ہے چونکہ پاناما کیس میں ملوث 456 افراد کے اب بھی آذادی کیساتھ گھوم پھر رہے ہیں اور ابھی تک پاکستان کے اعلی عدالتی ادارے سپریم کورٹ نے اُن کے خلاف سمن بھی جاری نہیں کیا اُنہوں نے اس بات پر بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑے بڑیلوگوں کے قرضے معاف کئے جاتے ہیں اور اس کیساتھ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے خلاف 150 بڑے سکینڈل موجود ہیں لیکن اُن لوگوں کیخلف کاروائی نہیں ہورہیاُنہوں نے کہا کہ ملک کا عام آدمی محب وطن ہیں اور عوام نے جن لوگوں کو مینڈیٹ دیا وہی لوگوں نے ملک کو لوٹا ہیں اور بیرون ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے عوام سالانہ 120 ارب روپے کماکرملک بھیجتے ہیں لیکنیہاں ایوانوں میں بیٹھے لوگ قوم کا یہ پیسہ کاروبار کیلئے ملک سے باہر منتقل کرتے ہیں اور یہی وجہ ہیں کہ ملک پر اب بھی 83 ارب ڈالر کا قرضہ ہیں اور ہمارے عوام کے 375 بلین روپے باہر کے بینکوں میں پڑے ہیں اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس کرپشن پر سوموٹو ایکشن لے اور قوم کے چوروں کو آئندہ الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرے اُنہوں نے کہا کہ غاروں میں بیٹھے دہشت گردوں کی طرح ایوانوں میں بیٹھے کرپشن کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف قانونی کاروائی چاہیئے اُنہوں نے کراچی سٹیل مل کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی کرپشن سے اب یہ کارخانہ بھی 19 ارب کا مقروض بن گیا ہیں اُنہوں نے مزید کہا کہ مجھے خوشی ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کادائرہ اختیار فاٹا تک توسیع دیا گیا ہے لیکن اب یہاں ایف سی آر کے شکل میں فرعونی نظام ختم ہونا چاہیئے اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت فاٹا کے انضمام کا وعدہ پورا کریں این ایف سی میں فاٹا کو 3 فیصد دینے کیساتھ قبائلی علاقوں میں تعلیمی ایمرجنسی کا وعدہ بھی پورا کریں اور آئندہ مالی بجٹ میں فاٹا کو اتنا حصہ دیا جائے کہ عام قبائلی کے زندگی تبدیل ہوسکے اُنہوں نے موجودہ حکومت سے فاٹا کیلئے صوبائی سیٹوں کی منظوریکا بھی مطالبہ کیا

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...