راؤ انوار پر ملیر میں’’ڈرامائی خود کش حملے‘‘ کی بھی تحقیقات شروع

راؤ انوار پر ملیر میں’’ڈرامائی خود کش حملے‘‘ کی بھی تحقیقات شروع

کراچی(کرائم رپورٹر)جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کے 3 دن بعد ملیر کینٹ کے قریب سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار احمد پر ’’ڈرامائی خودکش حملے‘‘میں 3 افراد کی ہلاکت کے واقعہ کی بھی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے خود کش حملہ آور کی جھلسی ہوئی لاش نے معاملے کومشکوک بنا دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود اور تین دیگر افراد کے قتل کے بعد جب سوشل میڈیا پر اس کارروائی کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں تو 16 جنوری کی شام ساڑھے 7 بجے اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار احمد کی جانب سے پولیس حکام کو اطلاع دی گئی کہ ماڈل کالونی سے سپر ہائی وے جانے والے لنک روڈ پر ملیر کینٹ کے گیٹ نمبر 5 کے قریب ان پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں راؤ انوار احمد کے حفاظتی اسکواڈ کی فائرنگ سے 2 مشتبہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ انہیں بھی راؤ انوار احمد پر حملہ آور دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ پولیس حکام کو بعد میں سامنے آنے والی صورت حال اور ملنے والے شواہد کے مطابق مقابلے سے قبل ملیر کے اس لنک روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں آئیں تھیں۔ موقع پر پہنچنے والے تفتیش کاروں نے اسی وقت اسے خودکش حملہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ کو مشکوک ظاہر کیا تھا۔ جائے وقوع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کے تفتیش کاروں نے ہلاک ہونے والے ایک شخص کے خودکش ہونے کی نفی کی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق خود کش حملے میں حملہ آور کے جسم کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں۔ خودکش حملوں کی زیادہ تروارداتوں میں حملہ آوروں کے سر تک نہیں مل سکے لیکن یہ پہلا خودکش حملہ آور تھا جس کی لاش سلامت تھی اور اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کے شواہد واضح طور پر سامنے آئے تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کے ہاتھوں کے معائنے سے یہ شواہد بھی سامنے آئے تھے کہ مرنے والے نے خود کو لگی آگ بجھانے کی کوشش کی تھی۔ دوسری طرف حملہ آور ظاہر کرکے ہلاک کیے گئے دونوں افراد نے بوسیدہ چپل پہنے ہوئے تھے اور ہسپتال منتقل کی گئیں لاشیں ان کے قیدی ہونے کی نشاندہی کر رہی تھی۔ تفتیش کاروں کے مطابق پولیس پر منظم حملہ کرنے والے دہشت گرد چپل نہیں بلکہ مخصوص قسم کے جوتے پہنے اور مختلف قسم کے سامان سے لیس ہوتے ہیں۔ ہلا ک ہونے والے یہ تینوں افراد کی شناخت کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ وہ بھی کئی ماہ سے لاپتہ تھے۔ راؤ انوار احمد کے خلاف نقیب قتل کیس کا معاملہ تیز ہوا اور اس پوری ٹیم کے خلاف مقدمات درج ہوئے تو اس مبینہ جعلی کاروائی کا معاملہ پس پشت چلا گیا تھا کس کی اب تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور اس سلسلے میں تفتیشی ٹیم نئے شواہد جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق کے سلسلے میں ٹیکنیکل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول