ملک میں انتہا ء پسندی یا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں:احمد لدھیانوی

ملک میں انتہا ء پسندی یا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں:احمد لدھیانوی

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) اہل سنت والجماعت کے مرکزی سربراہ احمد لدھیانوی نے کہاہے کہ ہم پاکستان‘ عدلیہ اورپاک فوج کا دل سے احترام کرتے ہیں پاکستان کی نظریاتی اساس پر یقین رکھتے ہیں انتہا پسندی یا فرقہ واریت سے ہماراکوئی تعلق نہیں ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے کبھی دہشت گرد نہیں ہوتے دہشت گردی کی عفریت میں ہمارے ہزاروں کارکنان نے جان کی قربانیاں دیں اور ہر موڑ پر ہم نے ایسی کاروائیوں کی بھرپورمذمت کی کوھاٹ کے مختصر دورے کے دوران انہوں نے ان خیالات کااظہار کوھاٹ پریس کلب میں منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ان کاکہنا تھا کہ الیکشن 2018 میں اہل سنت والجماعت بھرپور حصہ لے گی قبل ازیں انتخابات میں منتخب ہونے والے اس جماعت کے کارکنان نے ملکی استحکام اور نظریہ پاکستان کے تحفظ میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ملک کے سیاسی دھارے میں شامل ہوکر ملک کی سا لمیت اور بقاء کے لئے کام کیا اس سیاسی ماحول میں جہاں پاکستان مردہ باد کے نعرے لگے جہاں سبز ہلالی پرچم کی بے حرمتی کی گئی اور ملک کے خلاف سازشیں کی گئیں اداروں کے مابین ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی عدلیہ کے فیصلے ماننے سے انکار کیا گیا مگر ہماری جماعت کے کارکنان اس کا حصہ نہیں بنے بلکہ اپنے نظریات اور اصولوں کو مدنظر رکھا اس سیاسی چپقلش کے نیچے میں پانچ سال میں جو کچھ ہوا وہ پاکستانی عوام کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت اور ہماری پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے ہم فرقہ واریت ‘دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ہیں ہمارے کسی کارکن کا خلاف نظریہ کام سے کوئی تعلق نہیں اور اس وقت ملک جس نازک دور سے گزر رہاہے اس کاتقاضا ہے کہ عوام محب وطن اور دین پر کاربند لوگوں کا انتخاب کریں ملک کے استحکام اور سا لمیت برقرار رکھنے کی خاطر اہل سنت والجماعت آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور کوھاٹ کے تمام حلقوں سے اپنے امیدوار سامنے لائیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تاخیر اگر اس وجہ سے ہوجائے کہ پہلے حکمرانوں کااحتساب کیاجائے تو ہم اس کی حمایت کریں گے بشرطیکہ احتساب بلاامتیاز ہو اور غیر ضروری تاخیر نہ ہو ایک اور سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھا کہ ایم ایم اے کے اتحاد بارے ان کی جماعت سے کوئی رابطہ نہیں کیاگیا البتہ انہوں نے ذاتی طورپر جمعیت علماء اسلام س کے رہنمامولانا سمیع الحق سے ملاقات ضرور کی ہے اگر رابطہ کیاگیا تو اس پر ضرور غور کیاجائیگا جوڈیشل مارشل لاء کی افواہوں کا جواب چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف دے چکے ہیں ہم آزدانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات چاہتے ہیں اس موقع پر ضلعی کنونیئر کوھاٹ منصور پراچہ‘ مرکزی رہنما عید نذر مینگل اور مولانا محمدشہباز بھی موجود تھے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر