نوشہرہ ،تحصیل کونسل جہانگیرہ کے ممبران پارکنگ فیس این ایچ اے کے حوالگی کیخلاف سراپا احتجاج

نوشہرہ ،تحصیل کونسل جہانگیرہ کے ممبران پارکنگ فیس این ایچ اے کے حوالگی ...

نوشہرہ(بیورورپورٹ) تحصیل کونسل جہانگیرہ کے ممبران کا پارکنگ فیس این ایچ اے کو حوالگی، تحصیل کونسل ممبران سراپا احتجاج کسی بھی صورت میں اپنی آمدنی حوالے نہیں کریں گے کیونکہ یہ امدنی تحصیل کونسل جہانگیرہ کے علاقوں میں عوام کے فلاح وبہبود پر خرچ کی جاتی ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک فوری طورپر ایکشن لیتے ہوئے این ایچ اے کے فیصلے کے خلاف اقدامات اٹھائیں پارکنگ فیس اور دیگر ٹیکس کی آمدنی NHA کے حوالہ کرنا کسی صورت منظور نہیں تفصیلات کے مطابق تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن جہانگیرہ کی پارکنگ فیس NHA کے حوالے کرنے کے خلاف تحصیل کونسل جہانگیرہ کے ممبران سراپا احتجاج بن گئے ۔اس سلسلے میں تحصیل کونسل جہانگیرہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت کنونیئرحمید اللہ خان خٹک منعقد ہوا اجلاس میں تمام کونسلرز نے شرکت کی ۔ ملک سجاد خان، میاں کفایت اللہ جان، توحید عالم ، افضل شاہ، اقلیتِ کونسلرطفیل ، لیڈی کونسلر سمیت تمام ممبران نے بھر پور شرکت کی اور متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم کسی بھی صورت میں سیکرٹری بلدیات اور NHA کے افسران کے احکامات کے پابند نہیں۔ ہم عوامی نمائندے ہیں اور عوام کے خواہشات کے مطابق عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ناکام بنائینگے۔اس سلسلے میں ہم تحصیل کونسل کے عوام اور دیگر پارٹیوں کے نمائندوں سمیت بھرپور احتجاج کرینگے۔صوبائی حکومت کے اس یکطرفہ فیصلے میں براہ راست عوام متاثر ہونگے۔جوہمیں کسی صورت قبول نہیں ہیں۔اس موقع پر تحصیل کونسل کا ہنگامی اجلاس سے تحصیل ناظم محمد صادق خٹک نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹی ایم اے جہانگیرہ کے آمدنی کا ذریعہ یہی ٹیکس ہے۔ جس سے روزانہ عوام کے لئے صفائی سٹریٹ لائٹ، پینے کیلئے صاف پانی عوام کو مہیاکرنے سمیت دیگر ترقیاتی سکیمیں اس آمدنی سے پوری کی جاتی ہیں۔جسمیں ٹی ایم اے کے درجنوں ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن اس آمدنی سے ادا کیا جاتا ہے۔اس موقع پر ناظم محمد صادق خٹک نے مزید کہاکہ قانوناً پورے صوبے میں لوکل ٹیکس وصول کرنا ٹی ایم اے کی ذمہ داری ہے۔NHA قانوناً ٹیکس لینا کا مجاذ نہیں۔اگر ہم پر یہ ظالیمانہ فیصلہ مسلط کیا گیا تو سینکڑوں ملازمین کے گھر کے چولہے ٹھنڈے ہوجائینگے اور ریٹائر غریب ملازمین کی پنشن ختم ہوگی ۔جہانگیرہ،شیدو ،اکوڑہ خٹک، خیرآباد سمیت دیگر علاقے کچراکنڈی اور گندگی کے ڈھیر بن جائینگے۔عوامی فلاحی ترقیاتی کام ٹھپ ہوکررہ جائینگے۔ جس کی ہر گز اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے صوبائی حکومت اور NHA کو ہوش کے ناخن لیں ورنہ ایک ناختم ہونے والی احتجاجی تحریک شروع کردینگے۔ جس کی تمام ذمہ داری صوبائی حکومت اور NHA پر ہوگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر