پاکستان اسلامی نظریئے پر بنا اور اسی پر چلے گا،سرا ج الدین عزیز

پاکستان اسلامی نظریئے پر بنا اور اسی پر چلے گا،سرا ج الدین عزیز

کراچی (اسٹاف رپورٹر)معروف دانشور سراج الدین عزیز نے کہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح جیسے تھے انہیں ویسا ہی پیش کیا جائے، وہ دقیانوسیت پر یقین نہیں رکھتے تھے، انہیں صحیح طور پر کیپشن نہیں کیا گیا، بلکہ دو انتہاؤں پر رکھ کردیکھا جا رہا ہے جس کے سبب ان کی عظیم شخصیت کے جو اچھے اثرات پاکستانی معاشرے اور پاکستانی سیاست پرمر تب ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہوئے۔ وہ گزشتہ روز بطور مہمان مقرر جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ’’قائد اعظم محمد علی جناح کا سیاسی بیانیہ اور موجودہ سیاسی صورتحال‘‘ کے موضوع پر ایک مقامی کلب میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر قائد کے اوصاف ’’مقصد سے سچی لگن‘‘ ، بے داغ اور دیانتدارانہ کردار‘‘ اور ’’احترام قانون‘‘ کو ہی صرف اجاگر کیا جاتا تو پاکستانی سیاست پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا اور قانون شکنی کا کبھی سوچا بھی نہیں! اس بات کو ایک واقعہ سے ثابت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائد شام کے وقت ہوا خوری کے لیے جاتے تھے۔ جب قائد کی گاڑی ڈرگ روڈ پہنچی تو ڈرگ کالونی کا ریلوے پھاٹک بند تھا اور ریل گاڑی کے گزرنے میں کچھ وقت تھا، قائد کے ڈرائیور نے گیٹ مین سے کہا کہ گاڑی میں قائد اعظم محمد علی جناح بیٹھے ہیں گیٹ کھولو! قائد نے اپنے ڈرائیور کو منع کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسے قانون شکنی پر مجبور نہ کرو، ریل گاڑی کو گزرنے دو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قائد کی ایمانداری اور دیانتداری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے مقدمہ جیتنے کے باوجود زائد فیس لینے سے صاف انکار کر دیا اور پاکستان بننے کے بعد کیبنٹ میٹنگ میں چائے پیش کرنے سے منع کر دیا کہ یہ ملکی خزانے پر اضافی بوجھ ہوگا، انہیں حکومت اور عوام کے پیسے کا احساس رہتا تھا۔ جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ایسا تھا کہ ان کے بدترین مخالف بھی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اقبال و جناح کی خط و کتابت سے پتہ چلتا ہے کہ علامہ اقبال کے دل میں ہندی مسلمانوں کی بہبود کے لیے زبردست تڑپ تھی اس لیے انہوں نے علیحدہ ریاست پاکستان کا تصور دیا لیکن انہوں نے اس کو اسلامی ریاست بنانے کی کبھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان مسلمانوں کے حقوق کے حصول کی جنگ تھی، قائد اعظم کی 11 ۔اگست1947 کی تقریر قائد کا اصل سیاسی بیانیہ ہے۔ میجر جنرل (ر) سکندر حیات نے کہا کہ قائد اعظم اپنے کاموں اور کارناموں کے پیش نظر یا تو ولی تھے یا جن، ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح انہیں پیار سے ’’جن‘‘ کہہ کر پکارتی تھیں جو جناح کا مخفف ہے۔ قائد کے اندر بہت توانائی اور طاقت تھی ان کی تخلیق ’’پاکستان‘‘ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے، وہ پاکستان کو اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست دیکھنا چاہتے تھے وہ جس اسلامی سماجی انصاف کی بات کرتے تھے اسے ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نام دیا۔ قائد کہتے تھے کہ اس ملک میں ہر شخص کو انصاف اور اس کا حق ملے گا۔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ قائد اعظم کا فرمان ہے کہ ملک کی اقلیتیں بھی پاکستانی ہیں، ان کے حقوق اور جان و مال کی حفاظت مملکت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اخلاق احمد نے کہا کہ پاکستان کے لیے قائد اعظم کا وژن ، آج کے پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ملک میں روشن خیالی، دیانت داری اور فرض شناسی کا فروغ چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات مایوس کن ہیں تاہم قوی امید ہے کہ مستقبل قریب میں بہتر ہو جائیں گے۔ اگر قائد جیسے رہنما مل جائیں تو حالات بہت تیزی سے بہتر ہو سکتے ہیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ بریگیڈیر (ر) ریاض الحق نے کہا کہ قائد اعظم تو ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے، تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ اکثریت مسلم اقلیت کے حقوق دینا ہی نہیں چاہتی تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور حاصل بھی کیا۔ انجینئر انوار الحق صدیقی نے کہا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو میاں صاحب کہا جاتا تھا اور ان کی بات کو سچ سمجھا جاتا تھا، آج جھوٹ اور بددیانتی پر ایک میاں صاحب کو نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اخلاق اور مورال اتنے گر گئے ہیں کہ ہمیں قائد کے دور کے مورال کا احیا کرنا ہوگا۔ ظفر اقبال نے کہا کہ قائد اعظم کے وژن کے برعکس اب پاکستان نہ اسلامی ہے اور نہ حمہوری رہا ہے۔کرنل(ر) مختار احمد بٹ نے کہا کہ پاکستان کے لیے قائد اعظم کی سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مہلک بیماری کو چھپا کے رکھا۔ قائد کے بعد اشرافیہ نے حکومت پر قبضہ کر لیا، پاکستان کی تاریخ کے آدھے برسوں میں فوجی جنرلز ملک پر حکومت کرتے اور تباہی لاتے رہے اور ان کے ساتھ جاگیردار بھی شریک رہے جن کے بارے میں قائد نے فرمایا تھا کہ’’ ان کی وجہ سے ملک میں ہر طرف غربت نظر آرہی ہے، آپ قائد کا وژن دیکھیے! شیخ عثمان دموہی نے کہا کہ پاکستان اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے بنایا گیا تھا۔ ہم قائد کو مذہب سے الگ کرتے ہیں اور ان کی 11 ۔اگست 1947 کی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس اسلامی نظام کے حق میں ان کی بے شمار تقریریں ہیں جو اسلامی نظریئے پر مبنی ہیں ۔ہم بھٹک گئے ہیں اور ہم نے قائد کے نظریات کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذہب پر بنا ہے اور مذہب پر ہی چلے گا۔ ابن الحسن رضوی نے قائد اعظم کی 11 ۔اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تقریر میں قائد نے ملک میں قانون کی حکمرانی، رشوت و بدعنوانی کو فولادی ہاتھوں سے کچلنے اور اقربا پروری کے خاتمے کی بھی تو بات کی ہے آخر اس پر کیوں عمل نہیں کیا جاتا؟ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ قائد اعظم کے سیاسی بیانیے کی روشنی میں آج کے ملکی حالات کا تجزیہ کیا جانا چاہیے۔ اسی صورت میں ہم اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آخر ہم آئندہ نسلوں کو کیا بتائیں گے اور کیا دے کر جائیں گے؟ موجودہ حالات کا خاتمہ ضروری ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کا آغاز کہاں سے کریں؟ ہمیں عام آدمی میں شعور پیدا کرنے اور اسے صحیح معلومات فراہم کرنے کے لیے کام کرنا ہے۔ میڈیا کے ذریعے درست بات لوگوں تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ اجلاس نے ایک متفقہ قرارداد تعزیت کے ذریعے شوریٰ کے رکن نصرت نصراللہ کی اہلیہ کی رحلت پر اظہار افسوس اور دعائے مغفرت کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر