سانحہ ماڈل ٹائون کیس تاخیر سے آنے پر انسپکٹر کو ہتھکڑیاں

سانحہ ماڈل ٹائون کیس تاخیر سے آنے پر انسپکٹر کو ہتھکڑیاں

لاہور (ویب ڈیسک)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس میں مقدمہ مدعی جواد حامد کا جزوی بیان اور پولیس کی مدعیت میں دائر   کیس میں دو گواہوں کے بیان قلمبند کرلئے جبکہ تاخیر سے آنیوالے انسپکٹر رضوان قادر کو عدالت نے ہتھکڑیاں لگوا دیں ،کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے استغاثہ کیس میں مدعی جواد حامد کا جزوی بیان قلمبند کیا۔عدالت نے پولیس کی مدعیت میں دائر   کیس میں دو گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد جرح مکمل کر لی۔پولیس کی مدعیت میں دائر مقدمے میں گواہان سٹور کیپر جاوید اور کیمرہ مین عظیم کے بیانات پر جرح مکمل کی گئی۔

ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کی جانب سے گزشتہ روز بھی حاضری سے معافی کی درخواست دی گئی ،دوران سماعت عدالت نے پولیس کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس افسروں کی گاڑیاں احاطے میں لانے پر سرزنش کی،ججوں اور پراسیکیوشن افسروں کے علاوہ کسی بھی گاڑی کے احاطہ عدالت میں داخلے پرپابندی عائد کر دی جبکہ تاخیر سے آنے پر انسپکٹر رضوان قادر کو ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔

مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے استغاثہ کیس کے مدعی اور پی ٹی آئی رہنما جواد حامدنے کہا سانحہ ماڈل ٹائون اتنا بڑا ہے جس کا بیان ایک دن میں قلمبند نہیں کروا سکتا ،وکیل رائے بشیراحمد کا کہنا تھا آج دو گواہان پر جرح مکمل کی ہے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کے بیان قلمبند کیے جائیں گے۔انسداد دہشت گردی عدالت نمبر دو کے جج اعجاز حسن اعوان نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن استغاثہ پر سماعت کی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...