ارکان اسمبلی سے پڑوسی ملک پر حملہ کی اجازت حاصل کرنے کا ایسا انوکھا طریقہ آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا،وہ نادر حربہ جس نے روم کی تاریخ بدل ڈالی تھی

ارکان اسمبلی سے پڑوسی ملک پر حملہ کی اجازت حاصل کرنے کا ایسا انوکھا طریقہ آپ ...
ارکان اسمبلی سے پڑوسی ملک پر حملہ کی اجازت حاصل کرنے کا ایسا انوکھا طریقہ آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا،وہ نادر حربہ جس نے روم کی تاریخ بدل ڈالی تھی

قبل از مسیح میں رومی شہنشاہ نے اپنے پڑوسی ملک کارتھیج پر حملہ کرنا چاہاتو اسکی پارلیمنٹ اسے جنگ کی اجازت دینے پر رضا مند نہیں تھی۔کارتھیج کے ساتھ یونانیوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوچکی تھی اور فن حرب میں وہ بھی کسی سے کم نہیں تھے ۔اس لئے اراکین پارلیمان جنگ سے گریز کررہے تھے ۔

یہ دستور تھا کہ جب تک اکثریتی ارکان سے اجازت نہ ملے شہشناہ اپنی مرضی مسلط نہ کرسکتا تھا ۔اراکین کو راضی کرنے کے لیے جب شہنشاہ کے تمام زبانی حربے بے سود ہوئے تو اس نے تین خوش رنگ ناشپاتیاں منگوا کر اراکین کے سامنے رکھ دیں۔ارکان نے حیران ہو کر پوچھا۔

”یہ ناشپاتیاں کس ملک میں پیدا ہوتی ہیں؟“

شہنشاہ نے جواب دیا”کارتھیج میں جو یہاں سے صرف چند دن کی مسافت پر ہے۔“یہ حربہ کارگر ثابت ہوا اور اراکین نے جنگ کی اجازت دے دی۔

کارتھیج وہی صدیوں پرانا شہر ہے جس کے آثار قدیمہ تیونس میں موجود ہیں ۔تیونس کی سرزمین پر ہی کارتھیج جیسا عظیم متمدن شہر اور سلطنت قائم تھی ۔مشہور فاتح ہنی پال کا تعلق کارتھیج سے تھا جس نے 201 قبل مسیح میں روم پر چڑھائی کی تھی اور پھر جب رومیوں نے کارتھیج پر حملہ کیا تو 146 قبل مسیح میں اسکو برباد کرکے رکھ دیا اور رومیوں کی شان و شوکت اور اجارہ داری کا نیا دور شروع ہوا تھا۔

مزید : روشن کرنیں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...