فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر406

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر406

مظہر شاہ کو پاکستان کی پنجابی فلموں میں ایک زمانے میں وہ ممتاز حیثیت حاصل تھی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے ۔مظہر شاہ کے بارے میں ہم ان کی فلموں کے حوالے سے بتا چکے ہیں۔مگر ان کے پرستاروں کو شکایت ہے کہ ہم نے مظہر شاہ جیسے اعلٰی پایہ فنکار کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔پچھلے دنوں ان کے ایک مداح نے یہ شکایت کرتے ہوئے فر مائش کی ہے کہ مظہر شاہ کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتایا جائے ۔مظہر شاہ ان فنکاروں میں شامل ہیں ۔جو اپنے فن کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ان کے بارے میں عام طور پر بہت کم لکھا گیا ہے ۔اس کی ایک وجہ غالباََ یہ ہے کہ اپنی وفات سے چند سال قبل وہ اپنی اہمیت کھو چکے تھے ۔فلمی دنیا میں ان کی جگہ ایک نئے ولن آ گئے تھے اور وہ بد دل ہو کر گھر بیٹھ رہے تھے ۔ظاہر ہے کہ جس شخص نے اس قدر عروج دیکھا ہو وہ بھلا کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اسے نظر انداز کیا جائے اور اس پردوسروں کو ترجیح دی جائے ۔ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والامعاملہ ہے ۔جب تک کسی کو عروج حاصل ہے اسے سر آنکھوں پہ بٹھایا جاتا ہے ۔جہاں وہ مائل بہ زوال ہوا لوگوں نے اس کو نگاہوں سے گرا دیا اور بھول ہی گئے ۔مظہر شاہ بھی اسی سلوک کا نشانہ بنے حلانکہ وہ اس کے مستحق نہیں تھے ۔ان کی خدمات کے پیش نظر نہ انہیں نہ تو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فراموش کیا جا سکتا ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر405 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مظہر شاہ وہ فنکار ہیں جنہوں نے فلموں میں ’’بڑھک ‘‘کو ایک آرٹ بنا دیا ۔وہ بڑھک مارنے میں یکتا تھے۔بعد میں دوسر ے اداکاروں نے بھی ’’بڑکیں ‘‘لگانے کی روایت کو اپنایا مگر ۔

وہ بات کہاں مولوی مدن سی ۔

مظہر شاہ جیسا انداز کسی اور کو نصیب نہ ہوا ۔اس لیے کہ مظہر شاہ کی شخصیت اور آواز میں جو رعب و دبدبہ اوروقار تھا اور وہ بہت کم دیکھنے اور سننے میں آتا ہے۔وہ بہت بلند قامت نہ تھے مگر ڈیل ڈول اور چہرے مہرے کی وجہ سے مختلف اور نمایا ں نظر آتے تھے۔گندمی رنگت ،ستواں ناک،بڑی بڑی چمک دار آنکھیں جن سے وہ مختلیف سچویشن کے مطابق کام لیتے ہیں ۔مگر مظہر شاہ کی آواز میں قدرتی گھن ،گرج اور گہرائی تھی۔اس پر انکا مکالمہ ادا کرنے کا انداز ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مکالمے آج بھی فلم سازوں کو یاد ہیں ۔انہوں نے مکالمے ادا ئیگی کا منفرد انداز اپنایا تھا ۔جو ان کی شخصیت کے عین مطابق تھا ۔جب وہ پنجابی گبرو کے انداز میں کرتالاچا پہن کر اور سر پر پگڑی باندھ کر سینہ تان کر کھڑے ہوتے تو ٰکسی تصویر کی مانند نظر آتے تھے۔

وجیہہ ،با وقار ،پر شکوہ اور دوسروں سے ممتاز ۔ان کے بال گھنے سیا ہ اور گھونگریالے تھے جن میں کرداروں کی مناسبت سے وہ چمک ان کے چہرے کی آب و تاب اور رعب و داب میں مزید اضافہ کر دیتی تھی۔

مظہر شاہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔مظہر شاہ ان کا فلمی نام تھا ۔ان کا اصلی نام منور شاہ تھا ۔انہوں نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔اس کے بعد پولیس میں سپاہی بھرتی ہو گئے اور اس کے بعد جلد ہی ترقی کر کے سب انسپکٹر بن گئے۔وہ اس محکمے میں اپنی دیانت داری ،اصول پرستی اور فرض شناسی کی وجہ سے بہت ترقی کر سکتے تھے مگر افتاد طبع کے ہاتھوں مجبور تھے۔پولیس کے ڈی آئی جی سے اختلاف ہو گیا اور نوبت تلخ کلامی تک پہنچ گئی ۔اس سے پہلے کہ کوئی جواب طلبی ہوتی انہوں نے نوکری سے استعفی دے دیا ۔

سید عاشور کاظمی فلم ’’بے گناہ‘‘بنا رہے تھے ۔منور شاہ پروڈکشن کنٹرولر کی حیثیت سے اس ادارے سے وابستہ ہو گئے ۔ایک چھوٹے کردار میں انہیں مظہر شاہ کے نام سے پیش کیا گیا ۔یہ نام عاشور کاظمی نے رکھا تھا جو انہیں بہت راس آیا۔کردار تو بہت چھوٹا تھا مگر ان کی اداکاری سے متاثر ہو کر اس میں اضافہ کر دیا گیا ۔فلم ’’بے گناہ‘‘ ریلیز ہوئی تو مظہر شاہ کا نام ہر ایک کے منہ پر تھا ۔

اس طرح انہوں نے پہلی فلم ہی سے مقبولیت اور کامیابی حاصل کر لی تھی ۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر407 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...