چیئرمین نیب کوپیشکش کی گئی عہدہ چھوڑ دیں، صدر پاکستان بنادیں گے: شیخ رشید نے دعویٰ کردیا

چیئرمین نیب کوپیشکش کی گئی عہدہ چھوڑ دیں، صدر پاکستان بنادیں گے: شیخ رشید نے ...
چیئرمین نیب کوپیشکش کی گئی عہدہ چھوڑ دیں، صدر پاکستان بنادیں گے: شیخ رشید نے دعویٰ کردیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کو پیشکش کی گئی کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، بیرون ملک چلے جائیں تو انہیں صدر بنا دیا جائےگا۔ انہیں دھمکایا بھی گیا کہ ورنہ انہیں عہدہ سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔

وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کررہے تھے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ خبریں کے مطابق شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ  جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دوبار فائرنگ کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے، بنیادی بات ہے کہ میں نے زندگی میں پہلی دفعہ جسٹس اعجاز الاحسن صاحب کو پانامہ میں دیکھااورسنا، کم گو نہایت مدلل اور گھر سے پڑھ کر اور تیاری کرکے آنے والے جج ہیں۔ انہوں نے پانامہ کا فیصلہ دیا۔ اب وہ مانیٹرنگ کر رہے ہیں ایک ایسے اہم کیس کی جس کے فیصلے کی تاریخ اگلے ماہ کی 4 تاریخ ہے۔ 4 تاریخ کو وہ ٹائم پورا ہو رہا ہے اس تاریخ تک اس کا فیصلہ آنا ہے جس میں انہوں نے کوئی صفائی کی بات نہیں کی، میڈیا میڈیا کھیلتے رہے۔ سپریم کورٹ سے باہر نکلتے تھے تو جو ان کا بس چلا انہوں نے کہا۔ جسے سن کر ہر آدمی نے کہا کہ ان کی دماغی حالت ناقابل بیان ہوتی جا رہی ہے۔ ان پر رحم کھائیں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر ہے۔ ابھی میں پروگرام کہہ رہا ہوں کہ کوئی بڑا حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔

شیخ رشید کاکہناتھاکہ میں نے بے نظیر کے الیکشن سے پہلے یہ کہا تھا کہ یہ خونیں الیکشن ہو سکتا ہے کیونکہ اس ملک کو سرحدوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اس ملک کواندر سے نقصان پہنچانے کی سازشیں ہو رہی ہیں جس کے سنٹر فارورڈ کھلاڑی اب نوازشریف ہیں، وہ کسی قیمت پر نہیں چاہتے نہ ہی انہوں نے سوچا تھا کہ ایسا ہو گا اور انہیں خوف نظر آ رہا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قوم کا مطالبہ ہے جس سیاست نے جو دولت لوٹی ہے وہ واپس لائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جو نیب میں کیس ہے جج کو ڈرانے کے لئے بنیادی طور پر اعجاز الاحسن پر دو دفعہ فائرنگ کی گئی۔ اور یہ ان کے ناک کے نیچے ہوئی ہے اگر اعجاز الاحسن کے ساتھ واقعہ ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ شیخ رشید، حمزہ شہباز کے ساتھ ہو سکتا ہے نوازشریف کے ساتھ ہو سکتا ہے اور کسی اور بڑے سیاستدان سے ہو سکتا ہے کیونکہ مقصد اس ملک میںج انارکی پھیلانا ہے قانون کی حکمرانی کو دروازے کو بند کرنا ہے۔ اعجاز الاحسن صاحب نے انصاف کی جنگ میں جو جھنڈا اٹھایا ہے اس پر ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی ہے۔ یہ سارے نااہل حکمران اور وزیراعظم کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کاکہناتھاکہ میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ لوگوں کے کاروبار ختم، بجلی، پانی، گیس نہیں ہے نہ نوکری نہ روزگار ہے۔ آ جا کے سارا خاندان شام کو ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتا ہے۔ اگر یہ زندہ معاشرہ اور ذمہ دار سیاست دان ہوتے تو جاہل قسم کی قیادت نہ ہوتی جو عدالتوں کو للکارتی ہے اور مولا جٹ کا کردار ادا کرتی ہے تو اس فیصلے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’انہوں نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو یہاں تک آخر کہا کہ آپ کو صدر پاکستان بنا دیں گے۔ ابھی آپ باہر چلے جائیں۔ نیب کے سربراہ کو دھمکیاں بھی لگائی ان کو مختلف تحقیقات میں الجھانے کی بھی بات کی اور عہدے سے سبکدوش کرنے کی بھی بات کی۔ اور ایک بنیادی وجہ جسٹس صاحب کی اس لئے زیادتی دکھائی دے رہی ہے کہ ہمارے دوست جو قمر صاحب تھے انہوں نے چار سال میں پہلے ایک دو سال میں چند کیسوں کی کال ہی کی تو ان کو نوازشریف نے شیٹ اپ کال دی اور اس سے سہم گئے، آگے بڑھے ہی نہیں اور کسی فائلل کو چھوا تک نہیں اور عباسی کے اہم کیسز ان کے پاس ہیں جو ان کے پاس ڈسکس ہونے ہیں‘۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور