کیا بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے؟اہم سماجی مسئلہ کے بارے شریعت کیا کہتی ہے،آپ بھی جانئے

کیا بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے؟اہم سماجی مسئلہ کے بارے ...
 کیا بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے؟اہم سماجی مسئلہ کے بارے شریعت کیا کہتی ہے،آپ بھی جانئے

لاہور(نظام الدولہ)بیٹی کے نام کے ساتھ والد کا نام لکھنے کا رواج عام سی بات ہے لیکن جب اسی بیٹی کے نام سے اسکے والد کانام ہٹا کر شوہر کا نام لکھا جاتا ہے تو کئی مسائل جنم لیتے ہیں ۔اسکی تمام اسناد پر والد کا نام لکھا ہوتا ہے جبکہ شناختی کارڈ میں بھی والد کا ہی نام درج ہوتا ہے لیکن اکثر یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ شوہر بیوی کے نام کا اندراج کرانے کے لئے دفاتر کے چکر کاٹنے لگ جاتا ہے ۔لیکن کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیویاں اس بات پر اکڑ جاتی ہیں کہ وہ اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام کیوں لکھیں جبکہ اسلام اسکی اجازت بھی نہیں دیتا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اسلام میں ایسی کوئی قدغن موجود ہے کہ بیوی شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ نہیں لکھ سکتی ؟ ۔اس بارے ادارہ منہاج القران کے مفتی محمد شبیر قادری سے ایک سائل نے یہ سوال کیا کہ نکاح کے بعد بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے؟ بعض لوگ اس کو حرام اور کفار کا طریقہ قرار دیتے ہیں۔تو انہوں نے اسکا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کا اپنے نام کے ساتھ بطورِ نسبت شوہر کا نام جوڑنا اور کسی کا اپنی ولدیت تبدیل کرنا دو الگ الگ مسئلے ہیں جبکہ کچھ لوگ مسئلہ کی نوعیت سمجھے بغیر دونوں پر ایک ہی حکم جاری کر دیتے ہیں جو عوام الناس کے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

مفتی محمد شبیر قادری نے بتایا کہ قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نسب کا اظہار کرنے کے لئے اپنی نسبت والد کی بجائے کسی اور کی طرف بطور والد منسوب کرنا حرام ہے جبکہ ولدیت تبدیل کئے بغیر خاص پہچان کے لئے اپنی نسبت کسی ملک، شہر، مسلک، سلسلے، جماعت، ادارے کی طرف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً پاکستانی، عربی، دمشقی، کوفی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، نقشندی، چشتی، سہروردی، شازلی، سلفی دیوبندی وغیرہ سب نسبتیں ہیں جو پہچان کے لئے نام کے ساتھ لگائی جاتی ہیں لیکن ولدیت تبدیل نہیں ہوتی، لہٰذا بیوی کی نسبت بھی پہچان کے لئے اس کے شوہر کی طرف کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا جس کی مثالیں قرآن وحدیث سے ملتی ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ نے حاضر ہو کر اجازت مانگی۔ عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! زینب آنا چاہتی ہیں۔ فرمایا کہ کونسی زینب؟ عرض کی گئی ۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ اس موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے نسبت ان کے والد کی بجائے شوہرعبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع نہیں فرمایا کیونکہ یہ نسبت پہچان کے لئے تھی نہ کہ ولدیت تبدیل کرنے لئے تھی۔ اور حضرت عطائؓ کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابن عباسؓ کے ہمراہ سرف کے مقام پر حضرت میمونہؓ کے جنازے پر حاضر ہوئے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں۔

جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی پہچان کے لئے ا±ن کے والد کی بجائے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کی، اسی طرح احادیث مبارکہ کی اسناد میں ازواج مطہرات کی نسبت متعدد بار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی گئی ہے۔ لہٰذا عورت اپنی پہچان کے لیے اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے۔

مزید : روشن کرنیں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...