عدل کو صاحب اولاد ہونا چاہیے

عدل کو صاحب اولاد ہونا چاہیے
 عدل کو صاحب اولاد ہونا چاہیے

  

آخر کار اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آ ہی گیا ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی بیگم ماہین ظفرکو ایک، ایک سال قید اور50،50ہزار جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔طیبہ تشدد کیس میں دونوں ملزمان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 328 کے تحت سزاسنائی گئی جس کے مطابق 12 سال سے کم عمربچوں کو ملازمت پررکھنا جرم ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ پڑھ کر سنایا جو 27 مارچ کو دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔طیبہ تشدد کیس میں مجموعی طور پر19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں جن میں طیبہ کے والدین بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ کمسن ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر کو سامنے آیا تھا اور پولیس نے 29 دسمبرکو سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لیا تھا۔ایک مرحلے پر ملزمان اور طیبہ کے لواحقین کا راضی نامہ بھی سامنے لایا گیا اور دھن دھونس کا استعمال کر کے انہیں مجبور کیا گیا مگر اعلیٰ عدلیہ کی مسلسل نگرانی اور دلچسپی نے ملزمان کے مکروہ اقدام کو ناکام بنا دیا۔اس فیصلہ کے بعد عام لوگوں کو امید ہو چلی ہے کہ جب عدلیہ اپنی صفوں میں شامل کالی بھیڑوں کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے تو مستقبل میں بھی کسی بھی بالادست کے دباو¿ میں ہرگز نہیں آئے گی اور یہ فیصلہ خصوصاً چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگا۔ 

آئی۔ایل۔او اور یونیسیف کے مطابق بچوں کے کیے گئے ہر کام کو چائلڈ لیبر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ چائلڈ لیبر یعنی بچوں کی مشقت اور چائلڈ ورک (بچوں کے کام) میں امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔اگر چائلڈ ورک بچے کی شخصی و جسمانی نشوونما اور اسکی تعلیم پر برا اثر نہیں ڈال رہا تو اس طرح کے کام کو چائلڈ لیبر نہیں قرار دیا جائے گا۔ مثلاً اگر ایک بچہ سکول سے واپس آکر یا سکول کی تعطیلات کے دوران اگر کام کرتا ہے یا فیملی بزنس میں ہاتھ بٹاتا ہے تو اسے چائلڈ لیبر نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ اسطرح کاکام تو بچوں کی شخصی نشوونما کیلیئے نہایت ضروری ہے۔اور نہ صرف انکو ہنر مند بناتا ہے بلکہ انکو معاشر ے کے قابل رکن بننے میں بھی مدد دیتا ہے۔اس وقت بھی چائلڈ لیبر کے حوالے سے جو قوانین موجود ہیں اگر حقیقی معنوں میں ان پر ہی عمل ہوجائے تو معصوم پھولوں اور کلیوں کو معاشرے کا یہ بھیانک چہرہ دیکھنے کو نہ ملے ۔اس معاملے میں جوڈیشنری کے ساتھ ساتھ ریاست کے ہر ستون کو ذمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے جب تک روٹی کپڑا مکان کا بنیادی حق نہیں ملے گا یہ پھول جیسے چہرے یونہی جھلستے رہیں گے،ویسے بھی ریاست ماں جیسی ہوتی ہے مگر نجانے کیوں اسکا رویہ بعض اوقات بچوں کے لیئے سوتیلی ماں جیسا ہوجاتا ہے۔کسی دن اس سوتیلی ماں کے خلاف بھی کسی عدالت سے ایسا فیصلہ آنا چاہئے تاکہ ماں خود کو ماں ہی سمجھے ۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ