لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی: سپریم کورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی: ...
لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی: سپریم کورٹ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر عائد پابندی کے حوالے سے لیا گیا از خود نوٹس پہلی ہی سماعت میں نمٹادیا، عدالتی بینچ نے قرار دیا ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف کی تقاریر پر عدلیہ کی جانب سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر اخبار میں خبر لگی ہوئی تھی کہ تقاریر پر پابندی عائد کردی گئی لیکن ہم نے فیصلہ پڑھا تو ایسا کچھ نہیں لکھا ہوا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نواز شریف، مریم نواز سمیت 16 لیگی رہنماﺅں کی تقاریر پر پابندی کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی عدلیہ پر حملہ ہوا اور جھوٹی خبر چلا کر ایک بار پھر عدلیہ پر حملہ کیا گیا، خبریں نشر ہوئیں کہ مریم بیٹی کی تقریر پر پابندی لگادی گئی ہے حالانکہ عدالت نے پیمرا کو آرٹیکل 19 اور 68 کے تحت کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ججز نے ریماکس دیے کہ ہر اخبار اور ٹی وی چینلز پر خبر چلی کہ تقاریر پر پابندی لگادی گئی ہے لیکن جب فیصلہ پڑھا تو ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اتنا اچھا فیصلہ دیا لیکن خبر غلط چلائی گئی، پیمرا یتیم خانہ لگتا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ پیمرا کو  عدلیہ مخالف بیانات روکنے کے حوالے سے کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلی ہی سماعت کے بعد غلط خبر چلوانے والے سورس کا پتہ لگانے کا حکم دیتے ہوئے از خود نوٹس نمٹادیا۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی