سعودی خاتون وزیر نے کانفرنس میں اپنے جسم کے ایسے حصے سے پردہ اُٹھا دیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا، شہریوں نے آسمان سر پر اُٹھالیا

سعودی خاتون وزیر نے کانفرنس میں اپنے جسم کے ایسے حصے سے پردہ اُٹھا دیا کہ ...
سعودی خاتون وزیر نے کانفرنس میں اپنے جسم کے ایسے حصے سے پردہ اُٹھا دیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا، شہریوں نے آسمان سر پر اُٹھالیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملک کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جتن تو کر رہے ہیں لیکن اب بھی بعض چیزیں ایسی ہیں جن پر سعودی شہری سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، ان میں خواتین کا باپردہ رہنا بھی شامل ہے۔ گزشتہ روز ایک خاتون سعودی وزیر نے کانفرنس کے دوران لباس کے معاملے میں ایسی بے احتیاطی کر دی کہ پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ میل آن لائن کے مطابق سعودی عرب کی ڈپٹی منسٹر فار گرلز ایجوکیشن ڈاکٹر حیا العود دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے اپنے چہرے کا نقاب اتار دیا۔

اس دوران انہوں نے سیاہ عبائیہ پہن رکھا تھا، جس نے ان کے سر کو بھی مکمل ڈھانپ رکھا تھا لیکن کانفرنس میں چہرے کا نقاب اتار کر شریک ہونا سعودی شہریوں کو انتہائی ناگوار گزرا، جنہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر رکھا ہے۔ اکثر صارفین کا کہنا ہے کہ ”ڈاکٹر حیا نے سعودی عرب کی مذہبی و سماجی اقدار کی پاسداری نہیں کی۔“ تاہم سعودی عرب کی بعض بڑی شخصیات ڈاکٹر حیا کے دفاع میں بھی سامنے آئی ہیں۔ معروف مذہبی سکالر سلیمان التریفی کا کہنا تھا کہ ”ڈاکٹر حیا نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ نقاب کے بغیر لوگوں کے سامنے آنا ان کا استحقاق تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔“حطون قاضی نامی بلاگر کا کہنا تھا کہ ”ڈاکٹر حیا کو چاہیے کہ وہ اپنے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والوں کے خلا ف قانونی کارروائی کریں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا