’بس مجھے ایک آخری دفعہ اس کا ریپ کرنے دو پھر۔۔۔‘ کشمیر میں 8 سالہ بچی آصفہ کے ساتھ گینگ ریپ، قتل کرنے سے پہلے پولیس والے نے اپنے ساتھیوں سے کیا کہا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر شیطان بھی کانپ اُٹھے

’بس مجھے ایک آخری دفعہ اس کا ریپ کرنے دو پھر۔۔۔‘ کشمیر میں 8 سالہ بچی آصفہ کے ...
’بس مجھے ایک آخری دفعہ اس کا ریپ کرنے دو پھر۔۔۔‘ کشمیر میں 8 سالہ بچی آصفہ کے ساتھ گینگ ریپ، قتل کرنے سے پہلے پولیس والے نے اپنے ساتھیوں سے کیا کہا؟ ایسا انکشاف کہ جان کر شیطان بھی کانپ اُٹھے

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیرمیں کمسن مسلمان بچی آصفہ بانو کے قتل کی بیشتر تفصیلات لرزہ خیز ہیں لیکن ان میں سے کچھ ایسی بھیانک اور دل دہلا دینے والی بھی ہیں کہ جنہیں سن کر انسان کے لئے یقین کرنا مشکل ہو جائے کہ اس معصوم کی جان لینے والے درندے واقعی انسان ہی تھے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی تازہ ترین تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ کمسن بچی کو کئی روز تک جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد بالآخر درندوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو ان میں سے ایک، جو حاضر سروس پولیس اہلکار ہے، کہنے لگا کہ اسے مارنے سے پہلے مجھے ایک اور بار اس کی عصمت دری کر لینے دو۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ بچی کو قتل کرنے سے قبل سب درندوں نے مل کر اس کی اجتماعی آبروریزی کی۔ آخری بار اس کے جسم کو نوچنے کے بعد سفاک حیوانوں نے پتھر سے اس کا سر کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ملزمان کو گرفتار تو کر لیا گیا ہے لیکن بھارت کے ہندو شدت پسندوں کی جنونیت کا اندازہ کیجئے کہ ان درندوں کے حق میں بات کر رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ کئی شہروں میں تو ان سفاک قاتلوں کے حق میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مظلوم آصفہ کو انصاف ملنے کا کتنا امکان ہے، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔

مزید : بین الاقوامی