ایک دوسرے کے سب سے بڑے دو دشمن ممالک نے 65 سال سے جاری جنگ بلاآخر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ، کونسے ممالک ہیں ؟ جان کر پاکستانی بھی بے حد خوش ہو جائیں گے

ایک دوسرے کے سب سے بڑے دو دشمن ممالک نے 65 سال سے جاری جنگ بلاآخر بند کرنے کا ...
ایک دوسرے کے سب سے بڑے دو دشمن ممالک نے 65 سال سے جاری جنگ بلاآخر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ، کونسے ممالک ہیں ؟ جان کر پاکستانی بھی بے حد خوش ہو جائیں گے

  

سیول(ڈیلی پاکستان آن لائن )اس وقت ہر طرف افراتفری کا سماءہے شام میں دن بدن صورتحال کشیدہ ہوتی جارہی ہے جہاں امریکہ اور روس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کی وجہ سے معصوم لوگوں کو شدید نقصان پہنچ رہاہے تاہم اس جنگی ماحول میں اب خوشخبری آتی ہوئی دکھائی دے رہی کہ شمالی اور جنوبی کوریا 65 سال سے جاری جنگ کو اب ختم کرنے جار ہے ہیں ۔

ڈیلی میل آن لائن کے مطابق شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر ’کم جونگ ‘اور جنوبی کوریا کے صدر ’مون جائی ان ‘آئندہ ہفتے ملاقات کر نے جا رہے ہیں جس میں امید کی جارہی ہے کہ وہ برسوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کا ممکنہ طور پر اعلان کریں گے ۔جنوبی اور شمالی کوریا 1950-1953 میں ہونے والے تنازعے کے بعد سے جنگ جاری ہے جو کہ اس وقت ایک وقتی معاہدے کے ذریعے روک دی گئی تھی تاہم کوئی امن معاہدہ عمل میں نہیں لایا گیا تھا لیکن اب بڑی پیشرفت کی امید کی جارہی ہے۔

ڈیلی میل نے جنوبی کوریا کے میڈیا میں چلنے والی رپورٹس کے حوالے سے کہاہے کہ دونوں اطراف سے جنگ کو مستقل بنیاد پر ختم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔کم جانگ ممکنہ طور پر 27 اپریل کو تاریخ رقم کریں گے اور وہ شمالی کوریا کے پہلے لیڈر ہوں گے جو کہ 1950 کے بعد اب جنوبی کوریا کی مٹی پر قدم رکھیں گے ۔اس ملاقات میں سرحد پرافواج کی بھاری تعیناتی میں کمی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔

شمالی کوری کے سربراہ کم جانگ نے گزشتہ ہفتہ اپنے دادا کی ’کم دوئم سنگ ‘ کی سالگرہ کی تقریبات مناتے ہوئے گزارا ، جس میں یہ امر انتہائی دلچسپی کا رہا کہ سالانہ تقریبات میں گزشتہ سالوں کی طرح ملٹری پریڈ کا انعقاد نہیں کیا گیا جس طرح پہلے میزائلوں کی نمائش کی جاتی تھی ۔ جو تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں ان میں کوئی ہتھیار نظر نہیں آ رہے جبکہ اس موقع پر فنکاروں نے رقص کا مظاہرہ کیا جبکہ کھیلوں کا انعقاد کروایا گیا ۔

واضح رہے کہ 1950ء میں ایک تنازع  نے جنگ کی صورت اختیار کرلی تھی جس میں 40 لاکھ کوریائی ہلاک ہوئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی