’میں نے اپنی بیوی کو مار ڈالا کیونکہ وہ فیس بک پر۔۔۔‘ شوہر نے اپنی بیگم کو قتل کرنے کی ایسی وجہ بتادی کہ جان کر تمام لڑکیاں گھبراجائیں گی

’میں نے اپنی بیوی کو مار ڈالا کیونکہ وہ فیس بک پر۔۔۔‘ شوہر نے اپنی بیگم کو ...
’میں نے اپنی بیوی کو مار ڈالا کیونکہ وہ فیس بک پر۔۔۔‘ شوہر نے اپنی بیگم کو قتل کرنے کی ایسی وجہ بتادی کہ جان کر تمام لڑکیاں گھبراجائیں گی

  

گروگرام(نیوز ڈیسک) موبائل فون اور سوشل میڈیا جیسی چیزیں جہاں ہمارے لئے بڑی سہولت کا سبب بنی ہیں وہیں ان کے باعث گھروں میں ایسے مسائل بھی پیدا ہونے لگے ہیں جن کا ماضی کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہونے والے لڑائی جھگڑے بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے۔ اگرچہ اس نوعیت کے معمولی جھگڑے تو گاہے بگاہے دیکھنے میں آتے رہتے ہیں لیکن بھارت میں ایک سفاک شخص نے تو حد ہی کر دی۔ اس ظالم نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر مار ڈالا کہ وہ فیس بک بہت زیادہ استعمال کرتی تھی۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 35 سالہ ہری اوم اپنی 32 سالہ اہلیہ لکشمی کے ساتھ ایک فلیٹ میں مقیم تھا۔ لکشمی کے والد بلونت سنگھ نے پولیس کو بتایا کہ گزشتہ جمعرات کی صبح وہ اپنی بیٹی کے گھر گیا تو ایک اندوہناک منظر اس کا منتظر تھا۔ اس کی بیٹی لکشمی مردہ حالت میں بیڈ پر پڑی تھی اور ہری اوم اس کی لاش کے پاس بیٹھا تھا۔ بلونت سنگھ کی اطلاع پولیس پر موقعے پر پہنچی اور لاش کو پوسٹمارٹم کے لئے بھجوایا جبکہ ہری اوم کو حراست میں لے لیا گیا۔

عدالت میں پیش کئے جانے پر ہری اوم نے اپنے بھیانک جرم کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا ’’ہماری شادی 2006 میں ہوئی اور ہمارے دو بچے ہیں۔ ہماری زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی لیکن جب دو سال قبل میں نے اپنی بیوی کو سمارٹ فون لے کر دیا تو سب کچھ بدلنے لگا۔ وہ ہر وقت فیس بک اور واٹس ایپ استعمال کرتی رہتی تھی اورمجھے اور بچوں کو بھول چکی تھی۔ شاید ہم اس کے لئے موجود ہی نہیں تھے۔وہ گھر کے کام کرتی تھی نا کھانا پکاتی تھی۔ اس کے اسی رویے کی وجہ سے میں اپنے دونوں بچوں کو بورڈنگ سکول بھیجنے پر مجبور ہوا۔‘‘

پولیس کا کہنا ہے کہ لکشمی نیند کی حالت میں تھی جب ہری اوم نے اس کا گلا دبا کر اسے مار ڈالا۔ ملزم کے دوبچے ہیں، چھوٹی لڑکی کی عمر آٹھ سال جبکہ بڑا لڑکا 10 سال کا ہے۔ بدقسمت بچے اب ماں اور باپ دونوں کے سایے سے محروم ہو گئے ہیں۔ ماں قتل ہو چکی ہے اور باپ اس قتل کی پاداش میں ساری عمر جیل میں گزارے گا۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس