ملک بھر میں طوفانی بارشوں سے سینکڑوں گھر منہدم، تیار فصلیں تباہ، بجلی کا نظام درہم برہم ، ہلاکتوں کی تعداد 50ہو گئی، 135 زخمی

ملک بھر میں طوفانی بارشوں سے سینکڑوں گھر منہدم، تیار فصلیں تباہ، بجلی کا ...

لاہور ،کوئٹہ ،پشاور،اسلام آباد (فلم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) ملک کے مختلف علاقوں میں دو روز سے جاری بارشوں اور طوفانی ہواؤں نے تباہی مچا دی ہے۔ سیلابی صورتحال اور پھسلن کے سبب ٹریفک حادثات میں اب تک 50افراد جاں بحق اور 135زخمی ہوگئے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے حالیہ بارشوں میں ہونیوالے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک بھرمیں 50افراد جاں بحق جبکہ 135زخمی ہوئے۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 80مکان تباہ ہوئے، پنجاب میں بارشوں کے باعث 10 افراد جاں بحق، 56 زخمی ہوئے جبکہ تین گھر تباہ ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 2 بچوں سمیت 22افراد جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہوئے اور 52 گھر تباہ ہوئے۔ اسی طرح سندھ میں 5افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوااور قبائلی اضلاع میں 13افراد جاں بحق، تین زخمی ہوئے اور 25مکان تباہ ہوئے۔بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیلابی صورتحال کے باعث 2 بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ایران سے آنے والے ہواؤں کے سسٹم کے باعث بلوچستان کے طول وعرض میں جمعے سے جاری بارشوں کا سلسلہ تھم گیا ہے۔شدید بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں سیلابی کیفیت ہے جبکہ کئی علاقوں میں جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ مستونگ میں بارش کے باعث پھسلن کی وجہ سے ویگن اور ٹرک میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔لیویز ذرائع کے مطابق بولان کے علاقے بھاگ میں تیز بارش کی وجہ سے ایک مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 2 بچے جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے جبکہ مسلم باغ میں بھی بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ تیز بارش کے بعد کوئٹہ شہر میں سیوریج کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور دشواری کا سامنا کرنا پڑا، سڑکوں پر بارش اور سیوریج کا پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی بھی متاثرہوئی۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پشین، بولان اور دکی میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے اور مکان کی چھت گرنے سے 7 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔دوسری جانب ضلع دکی کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق المبار ندی کا سیلابی پانی کلی مانزئی میں داخل ہونے سے کئی گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ بارکھان کے علاقے رت ہن ندی میں سیلابی پانی میں بہہ کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کردی گئی ہے۔میرعلی خیل ڈی آئی خان روڈ پر لینڈ سلائڈنگ کے باعث ڑوب ڈی آئی خان شاہراہ بھی ٹریفک کی آمدو رفت کے لیے بند ہوچکی ہے۔ضلع لورالائی کی تحصیل دکی میں بارشوں کے سبب 15 سے زائد مکانات منہدم ہوئے اور تین افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔پنجگور، ہرنائی ، ٹانک ، پشین اور کوہلو میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔پنجاب میں بھی حالیہ بارشوں کے سبب 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ خیبرپختونخوا میں بارش کے سبب سیلابی ریلے اور دیگرحادثات نے9 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں طوفانی ہواں اور بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ منصورہ کے مین بازار میں عمارت گرنے سے چھ افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے۔ عامر روڈ پر مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔ بارش کے باعث 150 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے۔ متعدد فیڈرز ٹرپ کرنے سے بیشتر علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔سب سے زیادہ بارش اپر مال میں 26 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ جیل روڈ پر بارش 12.4 ملی میٹر، ایئرپورٹ پر 14 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ گلبرگ میں 23، لکشمی 13.5، مغلپورہ میں 18.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ بدھ کی شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔خانیوال میں بھی مکانوں کی چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں چار افراد ملبے تلے دب کر دم توڑ گئے۔ایری گیشن حکام کے مطابق بلوچستان میں موسلادھار بارش کے باعث سے مانکئی ڈیم میں پانی کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کرگئی ہے، ڈیم بھرنے کے باعث کسی ہنگامی صورتحال نمٹنے کیلئے ڈیم سے پانی کا اخراج سپل وے سے شروع کردیا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)نے کوئٹہ سمیت بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔ حکام نے احتیاطی تدابیراختیار کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے عوام غیرضروری سفرسے گریز کریں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے حوالے سے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ قائم کریں۔لوگ ایسے کچے مکانات میں رہائش سے گریز کریں جن کا جنکا گرنے کا خدشہ ہو۔ عوام پانی سے بھرے ہوئے ڈیموں کے قریب جانے یہاں وہاں نہانے سے گریز کریں۔کوہ سلمان کے پہاڑی سلسلے میں بارش سے راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ کاہا سلطان سے 71ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرنے لگا۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق برساتی نالے کاہا سلطان سے 71 ہزار کیوسک کا سیلابی پانی گزرہا ہے۔ بڑا سیلابی ریلا لنڈی سیدان، میراں پور، حاجی پور سے گزر رہا ہے۔ سوموار سے حاجی پور کا راجن پور سے زمینی راستہ منقطع ہے۔فلڈ کنٹرول روم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلابی ریلے سے کچھ علاقے متاثرہوسکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر عملہ موقع پرموجود ہے اور تما حفاظتی بندوں پر محکمہ انہار کا عملہ بھی موجود ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ موسلادھار بارش کی وجہ سے منگل کو مکران، کوئٹہ، ژوب، ڈی جی خان ڈویژن میں مقامی ندی نالوں ییں طغیانی کا امکان ہے جبکہ منگل اور بدھ کے دوران مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن، گلگت بلتستان اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈ کا بھی خدشہ ہے۔پنجاب کے بیشتر شہروں میں بارش کے باعث گرمی کی شدت میں کمی تو آئی ہے لیکن گندم کی تیار فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ منگل کی رات اور بدھ کے روز بھی پنجاب، خیبر پختونخوا اور بالائی سندھ میں بارش اور ژالہ باری کے باعث فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بارشیں،تباہی

مزید : صفحہ اول