نیا بلدیاتی نظام، منتخب نمائندوں کا اعتراض اور احتجاج!

نیا بلدیاتی نظام، منتخب نمائندوں کا اعتراض اور احتجاج!

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منشور اور پروگرام پر عملدرآمد کے حوالے سے خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب میں بھی بلدیاتی نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا،اس سلسلے میں نئے بلدیاتی نظام کے لئے مسودہ قانون بھی تیار کر لیا گیا، جس کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے بھی دے دی ہے۔ اس کے مطابق نیا نظام لاگو کر کے نئے انتخاب ہوں گے اور قانون کی منظوری کے ساتھ ہی موجودہ بلدیاتی نمائندے بھی اپنی مدت پوری کرنے سے قبل فارغ ہو جائیں گے اور ایک سال تک سارا نظام ایڈمنسریٹر چلائیں گے۔موجودہ منتخب بلدیاتی اداروں کے اراکین، ضلعی چیئرمین اور کارپوریشن کے میئر حضرات میں اضطراب پھیل گیا اور ان سب نے یہ نظام مسترد کرتے ہوئے احتجاج اورقانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔لوکل کونسل ایسوسی ایشن پنجاب کا ایک اجلاس فوزیہ خالد وڑائچ کی صدارت میں ہوا، اس میں 12 میئر اور24 اضلاع کے چیئرمین شریک ہوئے ان سب نے حکومتی منصوبہ مسترد کر دیا، اجلاس میں اس امر پر دُکھ اور حیرت کا اظہار کیا گیا کہ بلدیاتی نمائندے منتخب ہیں اور ابھی ان کی مدت قریباً چار سال باقی ہے، ایسے میں ان اداروں کو ختم کر کے ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا مینڈیٹ چرانے کے مترادف ہے، کہ سب لوگ منتخب ہیں۔یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ یہ سب حضرات باقاعدہ انتخاب کے ذریعے منتخب ہو کر آئے اور یہ ادارے کام کر رہے تھے،منتخب اراکین کی بھاری اکثریت کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد ہی سے ان کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا تھا، اجلاس میں یہ بھی شکایت کی گئی کہ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے یہ ادارے غیر فعال کر دیئے گئے کہ بلدیاتی فنڈز روک لئے گئے تھے، اسی وجہ سے مقامی مسائل کے حل میں رکاوٹ آ گئی اور سڑکوں، گلیوں کی مرمت، صفائی اور سٹریٹ لائٹ کا نظام بھی متاثر ہوا، جبکہ انتظامی امور بھی بطریق احسن ادا نہ ہو رہے تھے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان اداروں کو ہی فعال بنایا جاتا، فنڈز دیئے جاتے تاکہ عوامی مسائل حل ہوں۔ یہ نہیں کہ محض مخالف جماعت کی اکثریت کے باعث ان کو ختم کر کے بیورو کریسی کے حوالے کر دیا جائے۔شرکاء اجلاس کا موقف درست ہے۔ صوبائی حکومت کو کم از کم یہ چاہئے تھا کہ موجودہ منتخب سربراہوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور پھر اتفاق رائے سے جاری نظام میں ایسی تبدیلیاں کی جاتیں جو کارکردگی میں مزاحم ہیں۔ تحریک انصاف ان اداروں کو زیادہ اختیارات دینے کی حامی ہے اور یہ مقصد بھی بیان کیا گیا ہے تاہم جب نئے نظام کے نام پر پہلے سے منتخب اداروں کے اراکین کی رکنیت ختم کی جائے گی تو اعتراض یقینی ہے، حکومتِ پنجاب اسمبلی سے اپنی اکثریت کے بل پر نیا قانون منظور تو کرا سکتی ہے تاہم اس س۔ قضاء میں مزید تلخی پیدا ہو گی کہ پہلے ہی سیاسی محاذ آرائی موجود ہے اس میں مزید اضافہ ہو گا، جو مناسب نہیں،اِس لئے بہتر ہو گا کہ تمام فریقوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ