نیب پر100 فیصد عمل درآمد ہو گام تعزیرات پاکستان سے سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ ، سکیل 5تک بھرتیاں قرعہ اندازی کے ذریعے ہوں گی: وفاقی کابینہ

نیب پر100 فیصد عمل درآمد ہو گام تعزیرات پاکستان سے سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، آن لائن ) وفاقی کابینہ نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر سو فیصد عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ سکیل ایک سے پانچ تک بھرتیاں قرعہ اندازی کے ذریعے ہوں گی‘ سٹیل مل کی دوبارہ بحالی کیلئے اقدامات شروع کردیئے گئے‘ آڈیٹر جنرل کی استعداد کار بڑھانے کیلئے ڈاکٹر عشرت کو دو ماہ کا ٹاسک دے دیا گیا‘ الطاف حسین ‘ حسن حسین‘ اسحاق ڈار سمیت دیگر برطانیہ میں موجود ملزمان کو لانے کیلئے پی پی سی میں سزائے موت کی شق بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کوٹہ ختم کرتے ہوئے گریڈ ون سے پانچ تک بھرتی بذریعہ قرعہ اندازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیا گھر ہاؤسنگ سکیم کا اعلان آج ہوگا۔ ابتدائی طور پر ایک لاکھ 35 ہزار اپارٹمنٹس کا افتتاح وزیراعظم کریں گے۔ سی ڈی اے چیئرمین اور کمشنر اسلام آباد کو تین ماہ کیلئے توسیع ‘ چیئرمین اوقاف اور چیئرمین فیڈرل بورڈ کی تقرری کیلئے بھی ناموں کا اعلان کردیا گیا ۔ کابینہ میں اکھاڑ بچھاڑ کی خبروں کی سخت سے تردید کردی گئی منی لانڈرنگ کے معاملہ میں ایف آئی اے کے ساتھ سی ٹی ڈی کو بھی تحقیقات کے اضافی اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ گزشتہ روز منگل کو وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں کوئٹہ کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کے ساتھ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے خلاف ہر حال میں جنگ جیتیں گے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردی اندرونی نہیں اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور اس انفراسٹرکچر کو توڑنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب دہشت گردی پر قابو تب پایا جاسکتا ہے جب نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد کیا جائے اور کابینہ اجلاس میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر سو فیصد عمل درآمد کیا جائے گا۔ اور اس حوالے سے سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔ ایمنسٹی سکیم کے حوالے سے فواد چوہدری نے بتایا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں شق وار بحث ہوئی لیکن چند ممبران کے سوالات پر تشنگی باقی ہے جس پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اور اجلاس کے ذریعے سکیم کی منظوری دی جائے گی۔ منی لانڈرنگ پر فواد چوہدری نے کہا کہ موجودہ مہنگائی سابقہ ادوار کے حکمرانوں کے کرتوت ہیں۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو سکینڈل مزید سامنے آئیں گے وہ ہلا کر رکھ دیں گے اور اس حوالے سے شریف اور زرداری خاندان کے پاس دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ 26 ملین ڈالر ٹی ٹی کے ذریعے شہباز شریف فیملی کو منتقل کئے گئے۔ حمزہ شہباز کے اثاثوں میں پچانوے فیصد ‘ نصرت شہباز کے اثاثوں میں پچانوے فیصد اور ان کے دیگر بیٹے یا بیٹیوں کے اثاثوں میں نناوے فیصد اضافی ٹی ٹی کے ذریعے ہوئے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ان دن نواز شریف کو ایک ارب دو کروڑ روپے دیئے جاتے ہیں اور دوسرے دن ان میں سے بیاسی کروڑ روپے نواز شریف اپنی بیٹی کو دے کر پراپرٹی خرید لیتے ہیں اس قسم کی سینکڑوں مثالیں موجود ہین اور وہ مقدمات بھی سامنے آنے والے ہیں۔ اقامہ ہولڈرز پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خواجہ آصف ہو یا احسن اقبال جتنے بھی اقامہ ہولڈر ہیں انہوں نے اس دھندے کو پروان چڑھانے کیلئے اقامہ کا دھندہ کیا ہے۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے آصف علی زرداری کے اس نعرہ کے بعد جب حکومت آئی تو انہوں نے سٹیل مل کو دیوالیہ کردیا۔ اس سے قبل سٹیل مل منافع میں جارہی تھی بعد ازاں اسے بند ہی کرنا پڑا اب جب کہ بین الاقوامی چھ کمپنیوں نے سٹیل مل کو چلانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسٹیل مل کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ اس کو بھرپور طریقہ سے چلایا جانا چاہیے۔ اب تک 1.1 ملین ٹن کی صلاحیت موجود ہے تاہم مزید 3.0 ملین ٹن تک بڑھایا جائے گا۔ ایڈیٹر جنرل دفتر سے متعلق وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس کی صلاحیتوں میں مزید نکھار کیلئے داکٹر عشرت کو ٹاسک دیا گیا وہ دو ماہ کے اندر ایک رپورٹ پیش کرے جس کے تناظر میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ۔قبل ازیں ایک انٹرویو میں انکا کہنا تھا شریف خاندان اور آصف زرداری کے پاس پلی بارگین کا موقع ہے جس سے وہ جان چھڑا سکتے ہیں اور ملک میں پیسہ بھی آئیگا۔ ہم دنیا کے جس کونے میں بھی گئے وہاں عوام نے ہم سے ایک ہی سوال کیا ملک میں پیسہ کس طرح واپس آئیگا۔حکومت پر وہ افراد تنقید کرتے ہیں جنہیں معیشت اور انٹر نیشنل مانیٹری کا زیادہ علم نہیں ۔ آئی ایم ایف کی جانب سے معاہدے کیلئے پہلے جن شرائط کو سامنے رکھا جا رہا تھا ان کے برعکس اب سامنے ر کھی جانیوالی شرائط کافی حد تک مناسب ہیں جن سے عام آدمی اور خصوصاً غریب آدمی کو اتنا نقصان نہیں ہو گا۔ اسحاق ڈار، مفتاح اسمٰعیل، مصدق ملک یا پیپلز پارٹی کے لوگوں کو چاہیے وہ 15 تا 20 سال ٹی وی پر معیشت کی بات نہ کریں کیونکہ انہوں نے معیشت کا برا حشر کر دیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -