منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو نیب کا سوالنامہ ارسال

منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو نیب کا سوالنامہ ارسال

لاہور(آئی این پی) قومی احتساب بیورو نے میاں شہباز شریف کی اہلیہ اور بیٹیوں کو مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں سوالنامہ بھجوا دیا۔ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز اور بیٹیوں جویریہ علی اور رابعہ عمران کو گھر پر ہی سوالنامہ بھجوا دیا ۔جس میں مبینہ منی لانڈرنگ اور بینکوں میں آنے والی رقوم کی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سوالنامے میں تینوں سے 2008تا 2017تک کے ذرائع آمدن بارے پوچھا گیا ہے ، سوالناموں میں پوچھا گیا ہے کہ بتائیں کہ دیگرممالک سے آنیوالی آمدن کے ذرائع کیاہیں، کس کمپنی میں انکے کتنے شیئرزہیں اور انہیں کس کمپنی سے کتنا پیسہ آیا۔تحفے تحائف موصول ہونے سے متعلق بھی آگاہ کریں۔کس کمپنی یا ادارے سے کتنی تنخواہ وصول کرتی رہیں اس سے بھی آگاہ کیا جائے ۔سوالنامے کے مطابق نصرت شہباز سے ماڈل ٹاؤن اورڈونگاگلی کی رہائشگاہ کی خریداری کے ذرائع آمدن بارے پوچھا گیا ہے ۔دوسری جانبنیب کی حراست میں موجود مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے مبینہ فرنٹ مین محمد مشتاق عرف مشتاق چینی کو دل کی دوبارہ تکلیف کے باعث پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لیجایا گیا جہاں چیک اپ کے بعد ملزم کو دوبارہ نیب منتقل کر دیا گیا ۔ مشتاق چینی کے وکیل نے عدالت میں ایک اور دخواست بھی دائر کردی جس میں کہا گیا ہے کہ مشتاق چینی کو ڈاکٹرز نے ہسپتال منتقل کرنے کا کہا مگر نیب نے حوالات منتقل کردیا، مشتاق چینی عارضہ قلب میں مبتلا ہے، 2017ء میں انجیو پلاسٹی ہوئی۔ استدعا ہے کہ عدالت مشتاق چینی کو ہسپتال منتقل کروا کر مکمل علاج معالجے کا حکم دے۔

سوالنامہ ارسال

لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کاکرپشن کو شرمناک کہنا قیامت کی نشانی ہے ،اگر 18کروڑ کی منی لانڈرنگ ثابت نہ ہوئی تو نیازی خان آپ کو کنٹینر پر چڑھ کر قوم سے معافی مانگنی پڑے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔حمزہ شہباز نے کہا کہ حکومت نے الزام لگایا کہ حمزہ شہباز نے 85ارب کی منی لانڈرنگ کی ہے جبکہ نیب کہتا ہے کہ یہ 18کروڑکا معاملہ ہے ،یہ پیسہ 2005سے 2008تک آیا جب مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور اس وقت میں پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں تھا،میں جو بھی کیا اس وقت کے قانون اور ٹیکس قوانین کے مطابق کیا ۔انہوں نے کہا کہ 56کمپنیوں میں اربوں روپے غبن کا الزام لگایا گیالیکن جب عدالت کا فیصلہ آیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی ، سعد رفیق ، بلاول بھٹو ، خواجہ آصف تو نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں لیکن قوم پوچھتی ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے پشاور میٹرو منصوبے کے بارے میں کہا ہے اس کی انکوائری کی جائے اورحکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں7ارب کی کرپشن کا سکینڈل ہے لیکن کوئی پوچھنا والا نہیں ۔ یہ کہا گیا کہ نیب شکلیں نہیں دیکھتا لیکن ان لوگوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے جو انہیں حکومت کے لوگ نظر نہیں آتے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ہماری آئی ایم ایف سے بات چیت ہو گئی ہے اور عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ اوگرا کہتی ہے کہ گیس 80فیصد مہنگی ہونے والی ہے ۔قبل ازیں حمزہ شہباز آمدن سے زائد اثاثوں اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کیلئے نوٹس پر نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، حمزہ شہباز کے نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر کارکن بڑی تعداد بھی موجود رہے جو ان کے حق میں نعرے لگاتے رہے ۔

حمزہ شہباز

مزید : صفحہ اول