معاشرے اور ادب کا ٹوٹا ہوا رابطہ

معاشرے اور ادب کا ٹوٹا ہوا رابطہ
 معاشرے اور ادب کا ٹوٹا ہوا رابطہ

  

سسٹین ایبل ایکو سسٹم (ماحولیاتی نظام ) ایک ایسا حیاتیاتی ماحول ہوتا ہے جس میں بسنے والے مختلف مکین ایک دوسرے کے لئے پنپنے اور زندہ رہنے کا وسیلہ بنتے ہیں اور کسی بیرونی مداخلت کے بغیر ایکو سسٹم چیزوں اور لوگوں کے درمیان باہمی روابط اور تعلقات سے متحرک ہوتا ہے۔اس کا انحصار لوگوں کے آپس میں باہمی تعلقات ،رہن سہن، ان کے بات کرنے کے طریقے، بولیوں ،بھروسہ ،تجربات اور مل بیٹھ کر کچھ کرنے کی شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھنے سے پنپتا اور مضبوط ہوتا ہے ۔ ایک دوسرے کے خیالات ونظریات سے آگاہی ہوتی ہے توایک مثبت و تعمیری سوچ کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھتا چلا جاتا ہے۔

یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس تہذیب کے لوگوں میں کسی بیرونی مدد کے بغیر ایک دوسرے کے سہارے جینے کا اسلوب نشوونما پاچکا ہے اور پھر یہی اعتمادو خود انحصاری کی بنیاد بنتا ہے ۔ نئی سوچ پیدا کرنے میں ایکو سسٹم کی تمام جزیات اپنی اپنی کامیابی کے لئے ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں ۔ان جزیات میں ایک جز بھی ساتھ نہ دے تو کامیابی ممکن نہیں ۔اس طرح جو ادب تہذیبوں کے سسٹین ایبل ایکو سسٹم سے تخلیق پاتا ہے، وہ ادب کسی بھی قوم کی قومی شناخت اور ارتقاء میں اہم کردار ادار کرتا ہے ۔سوچ کے دھاروں کو تبدیل کرکے انہیں تعمیری ومثبت راہوں پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

برطانیہ سے آزادی کی جنگ لڑنے کے دوران میساچیوسٹس امریکہ کے ایک محب وطن جون ایڈمز اپنی بیوی ابیگل کو خطے میں آزادی کے بعد امریکہ میں ثقافت کیسے ارتقائی مراحل طے کرے گی کے بارے میں تخیلاتی خاکہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے۔ ’’ ایسا ممکن بنانے کے لئے مجھ پرفرض ہے کہ میں سیاسیات اور عسکری علوم میں تعلیم حاصل کروں، پھر پیشین گوئی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمارے بچوں کو فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں، وہ اپنے مطالعہ میں جغرافیہ ، جہاز رانی ،کامرس اور زراعت کو بھی شامل کرسکتے ہیں ،تاکہ ہماری آئندہ نسلیں فنون لطیفہ ،مصوری ، موسیقی ،رقص ،ڈرامہ ،فلم ،ادب اور شاعری سیکھنے کے حق سے لطف اندوز ہو سکیں۔

ایڈمز کی یہ دوراندیش سوچ بالکل سچ ثابت ہوئی اور بیسویں صدی کے درمیانی عرصے میں امریکہ نے عالمی سطح پر فنون لطیفہ اور ادب میں ممتاز مقام حاصل کرلیا۔جون ایڈمز نہ صرف امریکہ کے فاؤنڈنگ فادرز میں سے ایک ہیں،بلکہ امریکہ کے پہلے نائب صدر بنے اور دوسرے صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ خط انہوں نے اس وقت لکھا جب برٹش کالونیز کو اکٹھا کرکے برطانیہ سے امریکہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ایڈمز کی بیوی ان دنوں اس کی توجہ فرانس کے کلچر و ثقافت کی طرف دلوا رہی تھی جس کے جواب میں انہوں نے اس خط میں اسے بتایا کہ اس وقت ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان کا تقاضا کچھ اور ہے جس کے لئے ہمیں سچائی اور حقیقت پسندی کے راستے پر چل کر اس مقام تک پہنچنا ہو گا کہ ہماری آنے والی نسلوں کو پر آسائش اور باوقار زندگی میسر آئے۔

امریکہ آج سپر پاور کے جس عظیم مقام پر ہے اور دنیا میں امریکیوں کو جس رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، اس کے پیچھے جون ایڈمز جیسے فکری و تعمیری سوچ رکھنے والے راہنماؤں کا ہی کمال ہے کہ کسی بیرونی اثر سے متاثر نہیں ہوئے جو ایک سسٹین ایبل ایکو سسٹم کی ایک عمدہ مثال ہے ۔ ہم اکثراس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ تہذیب کے اس سسٹین ایبل ایکو سسٹم کی تعمیر میں امریکی ادب اور ادیبو ں کا بہت اہم کردار ہے ۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک مثال ایک عظیم وکٹورین دانشور سٹوارٹ مل کی ہے جو نوجوانی ہی میں مفلوج ہوکرکرپلنگ ڈپریشن کے مرض کا شکار ہوگیا تھا ۔ ورڈزورتھ کی شاعری نے اس میں خود اعتمادی اور کچھ کرگزرنے کا جنون پیدا کیا جس کے بارے میں وہ لکھتا ہے کہ اس نے میرے لئے ڈپریشن سے نکلنے کی دوا کا کام کیا اور جیسے جیسے میں پڑھتا گیا، میری کونسلنگ ہوتی گئی۔

برصغیر کے مسلمانوں نے امریکہ سے تقریباً ڈیڑھ صدی بعد انگریز کی حکمرانی کا مقابلہ کیسے کیا اور کیا امریکہ کی طرح اپنی ثقافت و ادب کو پروان چڑھانے اور فروغ دینے میں کامیاب ہوسکے یا نہیں۔نئی نسل اس دور کی تاریخ سے ناواقف ہے اور عصر حاضر میں اردو لٹریچر عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہونے کی سکت نہیں رکھتا ۔نئی نسل ترقی پسند تحریک سے ناواقف ہے، لہٰذا لٹریچر سے بھی نا واقف ہے۔جو لوگ اپنا تعلق مارکس ازم سے جوڑتے ہیں، وہ ترقی پسند تحریک کا تعلق مارکس کی آ ئیڈیالوجی سے جوڑنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔جس کی بنیادی وجہ ترقی پسند تحریک کی اپنے ایکو سسٹم سے لا تعلقی ہے، لہٰذا یہ پنپنے میں کامیاب نہ ہوئی۔

ایک کامیاب تحریک میں ایکو سسٹم کے تمام اجزا اپنی بقا کے لئے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ۔مسلمانوں کا اس صورت حال کے شکار ہونے کی وجوہات کا جب تاریخی جائزہ لیا جائے تو برصغیر میں ماڈرن اردو ادب کی بنیاد فلم ’’ غدار ‘‘ سے شروع ہوئی۔ 1857ء کی جنگ آزادی جو انگریز استعماریت کے خلاف ایک بغاوت تھی۔ اس خطے میں صدیوں سے حکومت کرتے مسلمانوں کو کسی کی غلامی گوارہ نہ تھی ۔ بیرونی قوت کے خلاف یہ بغاوت آزادی کی آخری کوشش تھی اور یہ بد قسمتی سے کامیاب نہ ہوسکی جس کے بعد یہاں کے مقامی باشندوں، جن میں مسلمان اور ہندو شامل تھے، ان کا بے دردی سے قتل عام کیا گیا۔اس المنات قتل و غارت نے برصغیر کے ادیبوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ان میں ایک بڑا نام سرسید احمد خان تھا۔ان کے بعد علامہ اقبال اور مولانا حالی تھے۔

سرسید احمد خان نے لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں ۔ علامہ اقبال نے لوگوں کی حالت زار کا بہت عمیق جائزہ لیا اور اس پر بہت فکر انگیز انداز میں لکھا۔مولانا حالی کی مسدس حالی نے اردو شاعری کو نئی جہت عطا کیں۔انہوں نے لوگوں کوخواب غفلت سے جھنجھوڑا اور ان کے اندر امید کی روشنی پیدا کی۔انہوں نے حب الوطنی کا جذبہ ابھارنے میں اکسیر کا کام کیا۔یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے تہذیب و ادب کو معاشرے سے جوڑا، بالکل اسی طرح جیسے جون ایڈمز نے امریکی ثقافت کو پروان چڑھانے کا خواب دیکھا تھا ۔سر سید ،علامہ اقبال، مولانا حالی اور ان کے ہم عصردوسرے ادیبوں نے غلامی کی زندگی گزارتے مسلمانوں کاصدیوں پرانی تہذیب اور لٹریچر کے درمیان مضبوط رابطہ استوار کرنے کی بھرپور کوششوں کا آغاز کیا اور کامیاب رہے۔یہ سب سسٹین ایبل اور ایکو لاجیکل کوشش تھی ۔

یہ وہ لوگ تھے جو اس تہذیب کے سسٹین ایبل ایکو سسٹم کو بچانے کی کوشش کرتے تھے اور انہوں نے جان بوجھ کرادب کو معاشرے سے جوڑنے کی کوشش کی، کیونکہ وقت و حالات کا تقاضا یہی تھا جسے صدیوں پہلے جون ایڈمز نے امریکہ میں انگریز کی آزادی کے لئے کیا تھا، لیکن کالونیل ازم جہاں بھی گیا، انہوں نے مقامی لوگوں پر سخت منفی و تباہ کن اثرات چھوڑے۔تہذیبوں کو متاثر کیا۔لوگوں سے خود اعتمادی جو ایک مضبوط ایکوسسٹم کاجز ہوتی ہے اور صدیوں پرانی تہذیب اور لٹریچر کے درمیان ایک پائیدار و مضبوط روابط استوار رکھنے کی جان توڑ کوشش کرکے ادب کا معاشرے کے ساتھ تعلق جوڑا جو وقت کی اہم ضرورت تھی۔ بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد جو لوگ ہماری ثقافت و ادب کے مشعل بردار تھے ہمیں چھوڑ گئے اورتہذیب و لٹریچر کا جو مضبوط رابطہ ان لوگوں کی بدولت جڑا تھا، وہ کمزور ہوتا چلا گیا۔

اکثر اوقات جب معاشروں میں خلا پیدا ہو جائے اورپرانی روایات فعال نہ رہیں تو ایسی صورت حال میں نئے راستے وجود میں آنے لگتے ہیں اور بیرونی اثرات پرانی اور مضبوط روایات پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں جس سے پرانے ایکو سسٹم کی بنیادیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔اس خلا کے دور میں جب تہذیب انگریز کی ماتحتی کے دباؤ سے دوچار تھی۔ جس کی وجہ سے غیر مطمئن سوچ اوررویئے علاقائی لوگوں میں تیزی سے ابھر رہے تھے۔ان حالات میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل ذہنی طور پر ماتحتی کے دباؤ کی وجہ سے اپنے ہی وجود سے نفرت اور احساسی کمتری میں مبتلا تھی۔

اپنے لئے اظہار کی متلاشی نوجوان نسل نے اپنے لئے متبادل حقیقت کا روپ دھارنا شروع کردیا۔انگریز کی ماتحتی سے پیدا ہونے والی اس جبری کیفیت کو چھپانے کے لئے علاقائی لوگوں نے اپنے بارے میں اپنی رائے بدل لی، وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئے۔اس کیفیت سے نکلنے کے لئے اپنے اوپر ایک بیرونی خوف طاری کرکے اظہار کے راستے تلاش کرنے لگے اور اس خول کے ذریعے اپنی شناخت بدل کر دکھانے کی کوششوں میں جت گئے، لہذا اردو ادب میں ترقی پسندتحریک وجود میں آگئی۔

ترقی پسند تحریک 1935ء میں وجود میں آ ئی، جس کا بنیادی مقصد بھی زندگی اور ادب کا رشتہ جوڑنا تھا ،لیکن اس کے وجود کی بنیاد علاقائی ایکوسسٹم سے نہیں ہوئی تھی: اس کا تعلق اور خیال اپنی تہذیب سے نہیں جڑا تھا۔اس کے زیراثر جو ادب وجود میں آیا، اس نے اپنی پرکھ کے لئے مارکسی تنقید کی صورت اختیار کرلی۔ مارکسی تنقید کے زیر اثر ترقی پسند ادیبوں نے زندگی میں رونما ہونے والے مسائل کو موضوع تو بنا لیا، سماج اور اس سے وابستہ مسائل کو اپنی تخلیقات میں پیش کرنے لگے ۔ادب برائے زندگی کا تصور پیش کیا،لیکن کیونکہ اس کی بنیادسسٹین ایبل ایکو سسٹم سے وجود میں نہیں آئی تھی، اس لئے لوگوں کو جوڑنے میں ناکام رہی۔ ترقی پسند تحریک کے ادیبوں کا اپنے ایکو سسٹم سے کوئی رابطہ نہیں تھا، ان کا ہر عمل علاقائی لوگوں کی دلآزاری کی وجہ بن رہا تھا۔راقم کے دادا چودھری محمد حسین باجوہ ان چند لوگوں میں شامل تھے، جن کا خیال تھا کہ موجودہ وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ ادب تفریح کا ذریعہ نہ رہے، بلکہ قوم کو بیدار کرنے کا وسیلہ بنے۔

چودھری محمد حسین مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ کے معتمد دوست تھے: وہ ان دنوں حکومت پنجا ب کے سپیشل ایڈوائزر پریس برانچ تھے ۔ علامہ اقبالؒ کی تمام تخلیقات کو انہوں نے ہی اپنی نگرانی میں شائع کرایا اور عوام تک پہنچایا۔انہیں اقبالیات پر بہت عبور حاصل تھا اور نظریہء پاکستان سے ان کا رشتہ انتہائی مضبوط تھا۔وہ حقیقی معنوں میں پاکستانی قوم کو اس روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا،لیکن اس کے لئے نئے پاکستان کے حالات بے حد تکلیف دہ تھے۔

مہاجرین کے قافلے جو مشرق سے ہجرت کرکے پاکستان میں داخل ہورہے تھے، ان کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ ان حالات میں جب ان لوگوں کو ایسے ادب کی ضرورت تھی جو ان کے زخموں پر مرہم کا کام کرے ، لیکن یہاں ادب برائے تفریح پیداہورہا تھا۔یہاں ادیب ادب کی اس اہمیت سے ناواقف تھا جس سے ایکو سسٹم ٹوٹ رہا تھا اور اس کی تحریریں بے مقصدیت کے سوا کچھ نہ تھیں۔ چودھری محمد حسین نے اپنے تئیں کوشش کی کہ ادبا کو اپنے ایکو سسٹم سے جوڑا جائے، اس کے لئے انہوں نے علامہ اقبالؒ کے فرزند جناب جاوید اقبال مرحوم سے کہا کہ تمام ادیبوں کو ایک جگہ جمع کریں، میں انہیں احساس دلاؤں کہ اس نازک مرحلے پر ان ادیبوں کی کیا ذمہ داری ہے ۔

ضرورت تو یہ تھی کہ امریکی ادیبوں کی طرح ملک کو اٹھانے میں کردار ادا کرتے، لیکن ایسا نہیں ہوا جو ادب اس دور میں تخلیق ہوا،علاقائی لوگوں کے لئے بھی بے مقصدیت کے سوا کچھ نہیں تھا ،بلکہ مسلم نیشنلسٹ حلقوں کی دلآزاری کا بھی باعث بنا، کیونکہ اس ادب کا تعلق اپنے ایکو سسٹم سے نہیں تھا۔عصر حاضر کا اردو لٹریچر عام پاکستانی کی زندگی میں اپنی افادیت کھو چکا ہے۔حالت یہ ہے کہ نئی نسل پروگریسو رائٹرز موومنٹ سے واقف نہیں، لہذا لٹریچر سے ناواقف ہے۔جن کا تعلق مارکس ازم سے ہے، وہ پروگریسو موومنٹ کا تعلق مارکس کی آئیڈیالوجی سے جوڑنے میں ناکام رہے۔

جیسے کہ اوپر لکھا ہے کہ ایکو سسٹم کے تما م اجزاکا اپنی کامیابی کے لئے ایک دوسرے پر انحصار ہوتا ہے، لیکن جب اجزا کا آپس میں رابطہ ٹوٹتا ہے تو نظام کیسے چل سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قوم راستہ بھٹک چکی ہے، کیونکہ ادب اور ادیب نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے فعال کردار ادا نہیں کیا۔پاکستانی ادیب پچھلے بہتر سال سے اپنے آپ کو انگریز کی ماتحتی سے پیدا ہونے والی غیر مطمئن سوچ اور اس جبری کیفیت کو چھپانے کے لئے احساس کمتری کا شکار ہوتے گئے اور اس احساس سے باہر نہیں آسکے اور نتیجہ معاشرے اور ادب کا ٹوٹا ہوا رابطہ ہے۔ آج یہ معاشرہ نفسیاتی،اخلاقی اور سیاسی ناہمواری کا شکار ہو چکا ہے۔

مزید : رائے /کالم